موسم اور رات کا وقت تھا

سردی کا موسم اور رات کا وقت تھا کہ جب کمرے میں ایک عورت اس کا بیٹا اور بہو بیٹی اور داماد اور اس عورت کا ایک چھوٹا بیٹا یہ سب سو رہے تھے ۔ گھر میں ایک ہی کمرہ تھا ۔ اس لئے سب لوگ ہی مجبورا ساتھ ساتھ لیٹے ہوۓ تھے ۔ آدھی رات کے وقت جب عورت کسی کام سے اٹھی ۔ تو کیا دیکھتی ہے کہ اس کا بڑا بیٹا اور بہو ایک ہی

چار پائی پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر لیٹے ہوۓ تھے ۔ یہ منظر دیکھ کر تو عورت کا دماغ ہی گھوم گیا ۔ اور اس نے اپنی بہو کا بازو پکڑ کر زور زور سے جھنجھوڑنا شروع کر دیا ۔ جب وہ بے چاری گہری نیند سے جاگ اٹھی , تو عورت نے بہو کو غصے سے کہا ۔ کہ بے حیا لڑ کی اپنے شوہر سے تھوڑے وقفے پر لیٹو تمہیں پتا ہونا چاہیے کہ کمرے

میں تمہارے علاوہ بھی دوسرے لوگ موجود ہیں ۔ یہ سب سن کر بہو شرمندہ سی ہو گئی ۔ اور اپنے شوہر سے تھوڑے وقفے پر لیٹ گئی ۔ وہ بھی بے چاری کیا کرتی , سردی اس قدر تھی کہ جسم سے پار ہو رہی تھی ۔ پھر اس عورت کی نظر جب دوسری چار پائی پر پڑی تو کیا دیکھتی ہے کہ اس کا داماد اور بیٹی بھی ایک ہی چار پائی پر تھوڑے وقفے

پر سوۓ ہوۓ تھے اور داماد سردی کی وجہ سے سکڑ کر ر لیٹا ہوا تھا ۔ عورت نے اپنی بیٹی کو ہلا کر جگایا اور بڑے پیار سے سمجھانے لگی کہ بیٹی ذرا اپنے شوہر کے ساتھ جڑ ۔ کر سو جاؤ دیکھو بے چارہ سردی سے کیسے سکڑ رہا ہے اس ۔ کی حالت تو دیکھو ۔ اس کی بیٹی نے فرمانبر داری سے اپنی ماں کی بات مان لی اور اپنے شوہر کے ساتھ چپک کر لیٹ

گئی ۔ عورت کا چھوٹا بیٹا جو کہ ساتھ ہی لیٹا جاگ رہا تھا اس نے یہ سارا ماجرا اپنی آنکھوں سے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا ۔ وہ اپنی ماں کے دوغلے پن کو دیکھ کر اونچی آواز میں بولنے لگا کہ واہ ماں واہ آپ کے کیا ہی کہنے , ایک ہی کمرے میں آپ نے تو الگ الگ موسم بنا ڈالے ہیں ۔ اپنی بہو اور بیٹے کے لئے گرمی کا موسم , اور اپنی بیٹی اور داماد

کے لئے سردی کا موسم – اب اس چھوٹے بیٹے کے ساتھ اس کی ماں نے صبح اٹھ کر کیا کیا ہو گا یہ تو معاملہ الگ ہے لیکن حقیقت اور تلخ بات یہی ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہر دوسرے گھر میں اپنی بیٹی اور اپنی بہو کے لئے الگ الگ قانون اور انصاف کے معیار ہوتے ہیں ۔ اپنی بیٹی کو ہد ردی اور بہو کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔

Categories

Comments are closed.