ملک الموت اور حضرت ادریسؑ

حضرت ادریس  علیہ السلام کا لقب پڑھانے کی کثرت کے سبب لقب ادریس ہوا ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کام سے فراغت کے بعد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسہی وقت ملک الموت آدمی کی صورت میں آپکے سامنے ظاہر ہوئے اور جب حضرت ادریس علیہ السلام یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے

کہ یہ شخص کون ہے تو اس سے التجا کی کہ وہ خود کو حضرت ادریس علیہ السلام پر ظاہر کرے۔جس پر اس نے عرض کیا کہ میں ہی حضرت عزرائیل علیہ السلام  ہوں۔ تب حضرت ادریس نے فرمایا کہ بھائی کیا تم ہی مخلوقات کی جان قبضے میں کرتے ہو، انہوں نے کہا کہ ہاں – تو حضرت ادریس علیہ السلام نے فرمایا شاید تم میری جان قبض کرنے کیلئے آئے ہو۔ تو انہوں نے کہا کہ نہیں میں تو تیرے ساتھ  خوش طبعی کرنے آیا ہوں۔حضرت ادریس نے فرمایا کہ آج تین دن سے تو میرے ساتھ ہے اور تو نے کسی کی جانب قبضے میں نہیں لی –

فرشتے نے کہا کہ کل جان قبضے کرنا ہمارے ہاتھ میں ایساہے کہ تمہارے دونوں ہاتھ کی نیچے روٹی رکھی ہو یعنی جس کی اجل آتی ہے اللہ تعالیٰ کے حکم سےہاتھ بڑھا کر اسکی جان قبض کرلیتا ہوں اور بولا اے حضرت ادریس علیہ السلام میں چاہتا ہوں کہ تیرے ساتھ رشتے برادری کا کروں۔تو حضرت ادریس نے کہا کہ میں تیرے ساتھ رشتہ برادری اس وقت کرونگا جب تو تلخی جان کنی ایک بار مجھ کو چکھا دے تاکہ خوف و عبرت مجھے زیادہ حاصل ہو اور میں  عبادت خالق زیادہ کروں۔ تو ملک الموت نے کہا کہ میں بے رضا الہی کسی کی جان قبض نہیں کرسکتا تب حضرت ادریس علیہ السلام نے خداوند کے حضور عرض کی حکم ہوا کہ حضرت ادریس کی جان قبض کر تو انہوں نے حضرت ادریس علیہ السلام کی جان قبض کرلی۔پھر ملک الموت نے خداوند کے حضور دعامانگی پھر اللہ تعالی نے ان کو زندہ کردیا۔

حضرت ادریس علیہ السلام نے اٹھ کر ملک الموت کو گود میں لے لیا اور اس طرح دونوں کے درمیان رشتہ برادری کا ہوگیا۔ پھر ملک الموت نے پوچھا کہ تلخی جان کنی کیسی تھی وہ بولے کہ جیسے کسی زندہ جانور کی کھال سر سے پاوں تک کھینچی جاتی ہے۔ ملک الموت نے کہا کہ اے بھائی قسم  ہے رب العالمین کی جیسا کہ میں نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ایسا کسی کے ساتھ نہیں کیا۔

Categories

Comments are closed.