ملکہ گوہر شاد ایک باحجاب خاتون تھیں نقاب ہر وقت ان کے چہرے پر رہتا تھا ۔ ایک دفعہ

لکہ گوہر شاد ایک با حجاب اور مذہبی خاتون تھیں , نقاب ہمیشہ ان کے چہرے پر آویزاں رہتا۔انہوں نے حرم امام رضا کے برابر میں ایک مسجد تعمیر کرنے کا قصد کیا انہوں نے اس کام پر مامور تمام مزدوروں اور معماروں کو ہدایت کی کہ انہیں مسجد کی تعمیر کے سلسلے میں دو برابر اجرت دی جاۓ گی لیکن شرط یہ ہے کہ وہ سب لوگ کام کرنے کے دوران با وضور ہیں گے ۔

ایک دوسرے سے بد تمیزی اور بد کلامی نہیں کریں گے ، اخلاقاسلامی اور یاد خدا کو ملحوظ خاطر رکھیں گے اور ایسے مزدور جو ساز وسامان کی حمل و نقل کے لئے جانوروں کا استعمال کرتے ہیں وہ ان بے زبانوں کے آب و دانے کا خیال رکھیں گے اور ان پر اضافی وزن نہ ڈالیں گے اور ان کو زدو کوب بھی نہ کریں ۔ ملکہ گوہر شادمز دوروں کی نگرانی کے لیے خود مسجد جایا کرتی تھی۔ایک دن وہ معمول کے مطابق مزدوروں کی نگرانی کے لیے مسجد گئی تو ہوا کی وجہ سے ان کا تجاب تھوڑا سا ہٹ گیااور ایک نوجوان مزدور کی نظر ان کے چہرے پر پڑ گئی لہذا وہ جوان اپنا دل کھو بیٹھا اور گوہر شاد کے عشق میں اتنا بے صبر و لاچار ہو گیا کہ پیاری کے بستر تک جا پہنچا ۔

بہت دن گزر گئے اور جب وہ کام پر نہ آیا تو گوہر شاد نے اس کی طبیعت کا معلوم گیا ۔ اسے پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے لہذا گوہر شاداس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئیں ۔ دن گزرتے گئے مگر جوان کیحالت بد سے بد تر ہوتی چلی گئی ۔ اس کی ماں نے اپنے بیٹے کی موت کو یقینی جان کر فیصلہ کر لیا کہ وہ ہر صورت میں ملکہ گوہر شاد سے مل کر انہیں اس قصہ سے آگاہ کریں گی چاہے اس کے لیے اسے جان سے ہی کیوں نہ ہاتھ دھونے پر جائیں ۔ لہذا ایک دن اس نے جا کر ملکہ سے قصہ بیان کر دیا اور ملکہ کے رد عمل کی منتظر ہوئی ۔ ملکہ نے مسرت بھرے انداز میں اسے کہااس میں کوئی مضائقہ نہیں مجھے پہلے بتا دی تاکہ میں کسی بندہ خدا کیتکلیف دور کرنے کی کام آ جاتی ۔ اس نے جوان مزدور کی ماں سے کہا کہ اپنے بیٹے سے جاکر کہہ دو کہ میں اس سے شادی کرنے کے لیے راضی ہوں لیکن اس سے پہلے دوامور کا انجام پانا لازمی ہو گا ۔

ایک یہ کہ میرے مہریہ کے طور پر اسے اس نو تعمیر شدہ مسجد میں چالیس دن کا اعتکاف کرنا پڑے گا اگر ، راضی ہے تو جا کر مسجد میں اعتکاف شروع کر دے , دوسری شرط یہ ہے کہ تمہارے راضی ہو جانے کے بعد میں اپنے شوہرسے طلاق لوں گی اگر شرائط منظور ہیں تو اپنے کام پر شروع ہو جاۓ ۔ جوان عاشق کو جب گوہر شاد کا یہ پیغام پہنچا تو اس خوشخبری سے اس کی طبیعت میں بہتری آئی اور کہا کہ چالیس دن تو کچھ بھی نہیں ہیں اگر چالیس سال بھی کہے تو میں حاضر ہوں ۔ وہ چلا گیا اور اس امید سے جا کر مسجد میں بیٹھ گیا کہ اس عبادت کے بدلے خدا اسے گوہر شاد جیسی بیوی سے نوازے گا ۔ چالیسویں دن گوہر شاد نے جوان کی طرف اپنا قاصد بھیجاتاکہمعلوم ہو کہ اگر وہ راضی ہے تو وہ اپنے شوہر سے طلاق طلب کرے ۔

قاصد نے جوان سے کہا کہ کل تمہارے چالیس دن مکمل ہو رہے ہیں ملکہ تمہاری منتظر ہے کہ اگر تم راضی ہو تو وہ بھی اپنی شرط پوری کرے ۔ جوان عاشق جس نے گوہر شاد کے عشق میں نماز شروع کی تھی نماز کی حلاوت سے اس کا دل نرم ہو گیا اور اس نے قاصد سے کہا گوہر شاد بیگم سے کہنا اولاً تو میں ان کا شکر گزار ہوں دوسرا یہ کہ اب مجھے ان سے شادیکا کوئی شوق نہیں رہا ۔ قاصد نے کہا کیا مطلب کیا تم گوہر شاد کے عاشق نہیں ہو ۔ جوان نے کہا کہ جس وقت گوہر شاد کے عشق نے مجھے پیار کیا تھا اس وقت میں اصلی معشوق سے نا آشنا تھا لیکن اب میرادل صرف خدا کے عشق میں تڑپتا ہے اور اس کے سوا کسی کو معشوق تسلیم نہیں کرتا ۔ لیکن میں گوہر شاد خاتون کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے خدا سے آشنا کیا اور ان کے باعث ہی مجھے حقیقی معشوق ملا ۔ پھر وہ جوان مسجد گوہر شاد کا پہلا پیشامام بنااور آہستہ آہستہ مطالعہ کرتے ایک فقیہ اور عالم بن گیا ۔ وہ جوان کوئی اور نہیں بلکہ آیت اللہ شیخ محمد صادق ہمدانی تھے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *