ملازمہ کاموں سے فارغ ہو کر وہ اپنے کواٹر میں چلی جاتی کسی کو بھی اندر نہ آنے دیتی

میری ملازمہ بہت نیک تھی گھر کے سارے کاموں سے فارغ ہو کر وہ اپنے کواٹر میں چلی جاتی اور عبادت کرتی رہتی اور کسی کو بھی اندر نہ آنے دیتی ، مجھ سے تنخواہ بھی نہ لیتی کہ ثواب کی خاطر کام کرتی ہے ، ایک دن میری بیٹی کو بخار ہو گیا تو میں نے سوچا کہ ملازمہ سے ہی دم کروا لیتی ہوں یہی سوچ کر میں اس کے کوارٹر میں چلی گئی مگر وہاں جو دیکھا اس نے میرے قدموں تلے سے زمین نکال دی وہاں تو

میرا نام ام ہے اور میں دو بچوں کی ماں کے عہدے پر فائز ہوں ، میرے شوہر اچھا خاصا کما لیتے تھے اس لئے میرے گھر کے سدے کام میری نوکرانی کرتی تھی ، کچھ دنوں پہلے ہ مجھے کہہ گئی کہ میں اپنے گھر جا رہی ہوں آپ دوسری وہ ملازمہ کا انتظام کر لیجئے میں بہت پریشان ہو گئی کہ اتنی پر جنسی میں کہاں سے ملازمہ ڈھونڈ کر لاہوں ، پھر ای شام ایک میری ہی عمر کی عورت میرے گھر آئی شکل سے وہ

کافی پیار لگ رہی تھی اور کہنے لگی مجھے کام پر رکھ لیں مجھے بس دو وقت کی روٹی چاہیے اور رہنے کے لئے کورٹر میں اور کچھ نہیں مانگوں گی ، مجھے اور کیا چاہیے تھا میں نے فورا اسے کام پر رکھ لیا اس نے ساے گھر کا کام بڑے اچھے سے سنبال لیا وہ بہت نیک تھی میرے شوہر کے سامنے بھی نہ آتی اگر آتی بھی تو گھونگھٹ ڈال لیتی گھر کے سلے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد وہ اپنے کوٹر میں

چلی جاتی اور وہیں عبادت کرتی رہتی اس نے شرط رکھی تھی کہ مغرب کے بعد ہ کورٹر کا دروازہ نہیں کھولے گی ایک بد کوارٹر میں چلی جاتی تو واپس نہ آتی چاہے کچھ بھی ہو جاتا ر ایک بد رات کے دس بجے میری بڑی بہن آگئی میں نے جا کر علامہ کا دروزہ کھایا مگر اس نے باہر آنے سے انکار کر دیا اس وقت شوہر بھی ابھی گھر نہیں آئے تھے کہ میں باہر سے ہی کچھ منگوا لیتی ، مجبورا مجھے بہن کے لیے خود ہی

کھانا پکانا پڑا مجھے ملازمہ پر قصہ تو کافی زیادہ تھا مگر میں نے اسے کچھ نہ کہا کیونکہ اس نے ایک بد بھی تنخواہ نہیں مانگی تھی کہتی تھی ہائی صفائی کرنا نصف ایمان ہے مجھے ثواب ملتا ہے اس لیے پیسے نہیں لوں گی اب میں نئی ملازمہ کو ہاتھوں سے کیسے گنوا سکتی تھی جو پیسے بھی نہ لے اور مفت میں کام بھی کرتی رہے بس مجھے اس کی حرکتیں کچھ مطلوک لگتی تھیں اس کا سر شام ہی اپنے کواٹر میں بند

ہو جانا میری سمجھ سے باہر تھا کبھی مجھے لگتا کہ وہ بہت عبادت گند ہے اس لئے کمرے میں عبادت ہی کرتی رہتی ہے مگر کبھی مجھے یہ سب ڈھونگ لگا میں نے سوچ رکھا تھا کہ کسی دن اس راز سے پردہ ہٹا کر ہی رہوں گی کہ آخر کمرے میں بند ہو کر عبادت ہی کرتی ہے یا کچھ اور کرتی ہے ۔ ایک دن میری چھ ماہ کی بیٹی کو بغد ہو گیا بہت ڈاکٹر بدلے مگر آرام نہیں آیا میری سہیلی نے

کہا کہ کسی ایک انسان سے دم کروا لو کیا پتہ ٹھیک ہو جاۓ ، میں کہاں کسی نیک انسان کو جانتی تھی سوائے اپنے کام والی کے اس لیے بچی کو لے کر اس کے کوارٹر میں چکی گئی حسب معمول اس کا دروازہ بند تھا میں نے اسے بہت معمول اس کا درد آوازیں دیں کہ بیٹی کو دم کرونا ہے دروازہ کھولو مگر اس بندی نے اپنی قسم نہ توڑی میں مایوس ہو کر واپس چلی آئی اگلے دن جب وہ گھر کی صفائی میں مشغول تھی تو میں

چوری چوری اس کے کوارٹر میں چلی گئی میں نے اس کے پورے کمرے کی تلاشی لی مگر مجھے کچھ نہ ملا سوائے اس کی شادی کی تصویر کے وہ کافی سال پرانی تصویر تھی جس میں میاں بیوی دونوں نے گھونگھٹ اور سپرے سے چہرے ے چھپاۓ ہوۓ تھے ۔ شوہر کچھ دنوں کے لیے کام سے باہر چلے گئے تو میں نے اب اس پر کڑی نظر رکھنی شروع کر دی اس کے کوارٹر سے کسی کے بولنے کی آوازیں بھی آتی تھیں ۔

ایک دن میرے بڑے بیٹے نے بتایا کہ اس نے کسی کو ملازمہ کے کمرے میں جاتے ہوۓ دیکھا ہے ، میں نے ملازمہ سے سی سے پوچھا تو کہنے لگی بادی میرا گھر والا کبھی کبھی آ سیتا ہانی ہے گاؤں سے ملنے ، میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے اب کی باد تمہارا شوہر آۓ تو مجھ سے ملودا میری بات پر اس کا رنگ د گیا اور وہ بھاگ گئی ، مجھے یہ سب کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا اگلے دن اس کے آنے سے پہلے ہی میں اس کے کمرے

میں مچپ گئی تاکہ دیکھ سکوں کہ اس کا شوہر ہی ملتے آتا ہے یا کوئی اور چکر چلا رہی ہے ، آدھے گھنٹے کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلی آئی اور تیار ہو کر کسی کو فون کیا اور کہنے تھی آج بی بی گھر پر نہیں ہے میں بھی اپنے کمرے میں ہوں ۔ مجھے جاننے کا تجسس ہو رہا تھا کہ آخر وہ کس کو بلانے جا رہی ہے تھوڑی دیر کے بعد دروازہ کھلا اور جو شخصیت قدر داخل ، ہوئی اسے دیکھ کر میرے سر پر آسمان پھٹ گیا وہ تو میرا ہی

شوہر تھا ، مجھ سے برداشت نہ ہوا تو میں چاہتی ہوئی ان دونوں کے سامنے چلی آئی میرے شوہر کے رنگ د گے پھر کہنے لگا مجھ سے نداض ہونے سے پہلے میری بات سن لو یہ میری پہلی بیوی ہے آج سے دس سال پہلے گاؤں میں میری اس سے شادی ہوئی تھی پھر میں شہر آ گیا تو اس کو بھول گیا اور کچھ عرصے بعد تم سے شادی کر لی اور پلٹ کر اس کی خبر تک نہ لی سے اتنے سال اکیلی رہی مگر اس نے مجھے چھوڑا نہیں اب صرف کچھ دنوں کے لیے آئی ہے کہ مرنے

سے پہلے چند دن میرے ساتھ گندے میں اس کی آخری خواہش کو انکار نہ کر سکا اسے بلڈ کینسر ہو گیا ہے اور یہ صرف چند ہفتوں کی مہمان ہے یہ سب سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اس سب میں اس بچاری کا تو کوئی قصور نہیں تھا میں ہی دونوں کے میں آگئی اور اس پر سوتن بنی تھی اس کی اعلی ظرفی تھی کہ اس نے کبھی آ کر اپتا حق نہیں بتایا میں اسے کورٹر سے اپنے کمرے میں لے آئی اور کہا آج سے یہ تمہارا کمرہ ہے اپنے میاں کے ساتھ ای

میں رہو ، پھر میں کچھ دنوں کے لئے بچوں کو لے کر میکے آ گئی چند دنوں بعد مجھے اطلاع ملی کہ ملازمہ کی وفات ہو گئی مجھے بہت دکھ ہوا وہ بہت اچھی تھی اب بھی جب اس کی یاد آتی ہے تو میں اس کے لیے دعا کرنے لگتی ہوں ۔

Categories

Comments are closed.