مغرور بادشاہ‎

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں ایک مغرور شیر کی بادشاہت تھی۔ اس کو اپنی بادشاہت پر بہت غرور تھا۔ وہ جنگل میں موجود دیگر جانوروں پر ظلم و زیادتی کرتا اور ضرورت کے وقت کسی جانور کی مدد کرنے سے انکار کردیتا چونکہ اس کی بادشاہت تھی تو اس کا فرض تھا کہ وہ اپنی رعایا کا خیال رکھتا لیکن افسوس وہ ایک اچھا بادشاہ ثابت نا ہوسکا۔

ایک دن جنگل کے تمام جانوروں نے مل کر یہ طے کیا کہ کیوں نا اس بادشاہ کو سبق سکھایا جائے۔ سب مل کر شیر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

مگرمچھ: بادشاہ سلامت! ہم نے آپ کے لئے اپنے تلاب کے کنارے ایک خصوصی دعوت رکھی ہے جہاں آپ کے لئے خصوضی کھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

وہاں بطخیں آپ کو مزے مزے کے کرتب دیکھائی گی اور آپ کو تلاب کی سیر بھی کروائیں گے۔

(جاری ہے)

شیر بادشاہ یہ سب سن کر بہت خوش ہوا اور اس نے دعوت کو قبول کرلیا۔

اگلے دن جب بادشاہ دعوت میں گیا تو وہاں سب سے پہلے بطخوں نے مزے مزے کے کرتب دیکھائے جنہیں دیکھ کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔

پھر مگرمچھ بولا: بادشاہ سلامت! آئیے ہم آپ کو تالاب کی سیر کرواتے ہیں یہ سن کر شیر مگرمچھ کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ مگرمچھ پانی میں اتنی تیزی سے تیرنا شروع ہوا کہ شیر مضبوطی سے مگرمچھ کو ناپکڑ کرسکا اور وہ پانی میں زور سے لڑک گیا۔

شیر نے زور سے چلانا شروع کردیا۔

بچاؤ! بچاؤ!

مگر پھر کیا تھا شیر کے غرور کا مزہ تو سب کو چھکانا تھا تو کسی نے پھر اس کی مدد نا کی اور بالآخر وہ ڈوب کر مرگیا اور اس کا غرور خاک میں مل گیا۔

پیارے بچو! ہمیں کبھی بھی غرور نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ غرور کا انجام بہت برا ہوتا ہے بلکہ ہمیں ہمیشہ ڈھیر ساری نعمتوں کے لئے شکر گزار ہونا چاہیے۔

Categories

Comments are closed.