”مصر کے ایک رئیس کی بیٹی پر ایک طبیب عاشق تھا لڑکی کنواری اور حسین و جمیل تھی اتفاق سے ایک دن رئیس کی بیٹی۔۔۔“

ابوالحسن بن الحسن ایک طبیب کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مصر میں ایک طبیب کو دیکھا جو وہاں قطیعی کے نام سے مشہور تھا وہ بڑا ہی دانشمند طبیب تھا لیکن وہ ایک رئیس کی لڑکی پر عاشق ہوگیا لڑکی دوا لینے کے بہانے مطب میں آ جاتی اور دونوں کو تنہائی میسر آجاتی اس طبیب جیسا کوئی معالج اس وقت مصر میں نہیں تھا اس کے مطب میں ہر وقت عورتوں اور مردوں کا ہجوم لگا رہتا تھا

اس کی ماہوار آمدنی ایک ہزار دینار تھی اور اس نے اپنا مکان بھی شفاخانہ کے مشابہ بنایا تھا جس کے ایک حصے میں بوڑھی عورتوں اور مردوں کے لیے جو دور دراز کے علاقوں سے علاج کیلئے آتے تھے وہاں پر ٹھہر جاتے تھے اور شام کو طبیب کے شاگردان مریضوں کی خوب خاطر تواضع کرتے تھے جس سے بہت سے مریض صبح ہونے تک صحت یاب ہو جاتے تھے ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا کہ وہی رئیس کی جوان لڑکی جس پر طبیب عشق تھا اچانک بے ہوش ہو گئی جب اس کو کئ دنوں تک ہوش نہ آیا تو رئیس نے سب طبیبوں کو اپنے محل میں بلایا تا کہ لڑکی کے مرض کی تشخیص کر سکے بہت سے طبیبوں نے لڑکی کی نبض پکڑ کر معائنہ کیا

اور چونکہ نبض بند تھی توہر طبیب یہی کہتا کہ یہ لڑکی مردہ ہو چکی تھی جب اس عاشق طبیب کی باری آئی تو اپنی محبوبہ کو اس حالت میں دیکھ کر رو پڑا اس میں ہمت نہ رہی کے اپنی محبوبہ کے مردہ جسم کو ہاتھ لگا سکے وہ روتا ہوا واپس آ گیا رئیس نے اپنی حسین و جمیل بیٹی کو نہلانے اور دفن کرنے کا انتظام کر دیا اس لڑکی کو غسل دلوا کر اس کا جنازہ تیار کیا اور دفنانے کے لیے چل پڑے جب جنازہ اس طبیب کے مطب کے سامنے سے گزرا تو اس طبیب نے شور مچا دیا کہ رک جاؤ یہ لڑکی ابھی زندہ ہے مگر سب لوگ اس کی بات ماننے سے انکاری تھے کیونکہ اس نے خود تھوڑی دیر پہلے اس کی موت کی تصدیق کی تھی

طبیب نے کہا کہ لڑکی ابھی زندہ ہے لوگوں نے اسے کہا کہ کیوں پاگلوں والی باتیں کرتا ہے کچھ لوگ اس کے اور لڑکی کے تعلقات کے بارے میں جانتے تھے مگر اس طبیب کی بات کسی نے نہ مانی اور وہ لوگ اس لڑکی کو قبرستان میں دفنا کر واپس چلے آئے تو تھوڑی ہی دیر بعد جب اندھیرا چھا گیا تو طبیب نے قبرستان جاکر اپنی محبوبہ کی لاش کو قبر سے نکالا اور اپنے مکان میں لے آیا اس کے بعد طبیب نے اپنی نقاب پوش شاگر دا کو ایک خاص تیل دے کر کہا کہ اس لڑکی کے بدن پر مالش کرو اور ایک بات کا خاص خیال رکھنا کے تمہارا نقاب نیچے نہ سرکنے پائے چنانچہ وہ شاگرد خاتون اس لڑکی کے جسم کو برہنہ کرکے کچھ دیر اس کی مالش کرتی رہی

اس دوران طبیب بھی دروازے پر آکر دستک دیتا رہا اور وقفے وقفے سے اس مریضہ کی نبض چیک کرتا رہا پھر طبیب نے اپنی محبوبہ کو دس دس کوڑے پوری طاقت سے لگانے کا کہا اور پھر نقاب پوش شاگردہ کو مالش کے لیے وہیں چھوڑ کر آ گیا تھوڑی ہی دیر بعد لڑکی کے جسم میں حرکت پیدا ہوئی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور سامنے اس نقاب پوش کو دیکھتے ہی ڈر گئی اور اپنے جسم کو کپڑے سے ڈھانپنے لگی اور کہنے لگی خدا کے لیے میری عزت کو نقصان نہ پہنچانا اسی دوران طبیب اندر داخل ہوا اور اس لڑکی کو ہوش میں دیکھ کر بڑا خوش ہوا پھر اس لڑکی سے پوچھا تمہیں کیا محسوس ہوتا ہے مریضہ نے کہا مجھے بھوک معلوم ہورہی ہے

پھر اس کو کھانا کھلانے کی ہدایت کی مریضہ کو مناسب کھانا کھلایا گیا تو اس کی قوتعود کر آئی اور اچھی ہو کر کھڑی ہو گئی صبح ہوتے ہی اس لڑکی کو لے کر اس کے اہل خانہ کے پاس گیا تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر آگ کی طرح پورے علاقے میں پھیل گئی سب لوگ جمع ہو گئے اس ریئس نے طبیب سے پوچھا کہ تم نے کیسے میری مردہ بیٹی کو زندہ کردیا طبیب نے کہا تمہاری بیٹی مری ہی کب تھی میں نے تو کہا تھا کہ تمہاری بیٹی زندہ ہے لیکن کسی نے بھی میری بات نہ مانی اور تم اپنی بیٹی کو دفن کر آئے پھر وہاں موجود دوسرے اطباء نے اس طبیب سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا تھا کہ یہ مریض زندہ ہے تو طبیب کہنے لگا.

کہ میں نے جنازہ میں دیکھ لیا تھا کہ میت کے پاؤں سیدھے ہیں جبکہ مردے کے پاؤں بچھے ہوتے ہیں وہ کھڑے نہیں رکھ سکتے۔ اس سے میں نے سمجھا کہ لڑکی زندہ ہے اور میں نے قیاس کیا کہ لڑکی کو سکتا پڑا ہے پھر بعض طبیبوں نے پوچھا کہ یہ طریقہ علاج آپ کو کیسے معلوم ہوا طبیب نے کہا کہ میں ایک قافلے کے ساتھ سفر میں تھا جس کے ساتھ عرب کے گھڑسوار ہماری حفاظت کے لیے چل رہے تھے ان میں سے ایک سوار اپنے گھوڑے سے گر گیا اور اس کو سکتہ پڑ گیا تو لوگوں نے کہا کہ یہ شخص مر گیا تو ان میں سے ایک بوڑھا آیا

اور اس نے بہت ہی شدت اور سختی سے مارنا شروع کیا جب تک کہ اس کو ہوش نہ آگیا اس وقت تک برابر مارتا ہی رہا تھا میں نے اس سے سمجھا کہ چوٹ اپنی طرف حرارت کو کھینچتی ہے جس نے اس کےسکتے کو زائل کر دیا اور انہی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے اس مریضہ کا علاج کیا تھا اس کے بعد جب ان دونوں کے تعلقات کا اس رئیس کو پتہ چلا تو اس نے ان دونوں کی شادی کر دی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *