مسکان ہمارے محلے کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی جب مسکان کا نکاح تھامیری حالات خراب تھی

سکان ہمارے محلے کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی اور میری بچپن کی دوست بھی ہم دونوں کی دوستی کافی پرانی تھی ہم بچپن میں یا ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے لیکن جوں جوں بڑے ہوتے گئے ہم دونوں کے درمیان کے فاصلے بھی بڑھنے لگے وہ پردہ کرنے لگی تھی اور اب ہم پہلے کی طرح کھل کر ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تھے بچپن کی دوستی کب محبت میں بدل گئی پتا ہی نہیں چلا اور ہم دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرنے لگے تھے لیکن مسکان کو بچپن سے عجیب و غریب دورے پڑتے تھے وہ زور زور

سے چیخنے لگتی اور بے ہوش ہو جاتی تھی محلے والوں نے مسکان کے بارے میں مشہور کیا ہوا تھا کہ اس پر جنات کا قبضہ ہے اس لئے مسکان کی شادی نہیں ہورہی تھی جس کو بھی پتا چلتا کہ مسکان پر آسیب کا سایا ہے تو وہ مسکان کے گھر بھی بھی نہیں جاتا مسکان کے والدین نے اسے بہت سارے ڈاکٹر زاور عاملوں کو دکھایا لیکن اس کے دورے ٹھیک نہ ہو سکے اور کم از کم ہر مہینے ایک آدھ بارا سےدورے پڑتے رہتے تھے ابھی چند دن پہلے ہی مسکان کو ایک بہت بڑادور اپڑا اس کے والدین پریشان ہو گئے اور اسے ڈاکٹروں اور عاملوں کے پاس لے گئے پھر بڑی مشکل سے مسکان کی حالت سنبھلی مسکان کے والدین اکثر پریشان رہتے اگر اس کی یہ حالت برقرار رہی تو کوئی اس سے شادی ہی نہیں کرے گامیری مسکان کے لئے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی میں ہمیشہ کی طرح اس کو بہت چاہتا تھا اور ہم بھی کبھار گلیوں میں مچپ چپ کر ملتے رہتے تھے یا گر کبھی ملنے کا موقع نہ ملتا

تو ہم ایک دوسرے کو چھتوں بر سر خط لکھ لکھ کر رابطے میں رہتے جس طرح میں مسکان سے محبت کرتا تھا بالکل ویسے ہی وہ بھی مجھ سے بے پناہ محبت کرتی تھی میں جلد ہی مسکان کے رشتے کے لئے اپنے والدین کو اس کے گھر بھیجنے والا تھالیکن میرے رشتہ بھیجنے سے پہلے کچھ اور لوگ مسکان کارشتہ لینے چلے گئے وہ لوگ مسکان کے جنات اور آسیب والی بات سے لاعلم تھے اور مسکان کے والد ان خوش تھے کہ کم از کم بیٹی کارشتہ ہورہا ہے انہوں نے فوراہاں کر دی اور مسکان کے والدین نے بھی یہ مسکان کے آسیب والی باتوں لڑکے والوں سے چھپاۓ ر کبھی میں اور مسکان پریشان ہو گئے کہ اب کیا ہو گا میں مسکان کو کھونا نہیں چاہتا تھامسکان کے والدین نے جلد ہی شادی کا فیصلہ کیا اور کچھ ہی دن بعد اس کی شادی تھی جوں جوں مسکان کی شادی کے دن قریب آتے جارہے تھے میری حالات خراب ہوتی چلی جارہی تھی مسکان کے گھر میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں اور میں گلی سے باہر کھڑے

ہو کر مسکان کود یکھتار ہتا اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب مسکان کا نکاح تھامیری حالات خراب تھی مسکان کی شادی کا کارڈ مجھے بھی ملا تھا اور میں اس کا نکاح اٹینڈ کرنے چلا گیامسکان مجھے اپنے نکاح میں دیکھ کر ناراض ہوتے ہوۓ بولی تمہیں آج میر او ولہا بنا تھا اور تم یہاں ٹینٹیں لگوار ہے ہو کمینے میں نے شرمندگی سے سر جھکالیامیرے بس میں کچھ نہیں تھادولہا بیچ پر آگیا مولوی نے نکاح پڑھانا شروع کر دیا میں سب کچھ خاموشی اور بے بسی سے دیکھتار

نکاح شروع ہونے سے دومنٹ پہلے مسکان کو جنات کا شدید دور اپڑا اور اس نے چیخنا چلاناشروع کر دیا اور چیز میں اٹھا اٹھا کر ادھر ادھر پھینکنے لگی سب لوگ حیرانگی سے مسکان کو دیکھتے رہے پھر مسکان نے مولوی کا گریبان پکڑا اور بھی کئی لوگوں کو مارنے لگی کچھ لوگ وہاں سے بھاگ گئے مولوی بھی جلدی جلدی بھاگ گیا مسکان زور زور سے چیختی چلاتی رہی لڑکے والوں کو جب پتا چلا کہ مسکان پر جنات کا سایا ہے اور اسے اکثر یہ دورے پڑتے رہتے ہیں تو وہ فور اوہاں سے بھاگ

گئے اب گھر میں صرف مسکان اور اس کی فیملی کھڑی تھی میں بھی خاموشی سے کھڑ اسب دیکھ رہا تھامسکان کے والدین پریشانی سے سر پکڑ کر بیٹھ گئے اب مسکان کی سچائی سب کو پتا چل چکی تھی اب تو کبھی اس سے کوئی شادی نہیں کرے گا اسی وقت میں آگے بڑھا اور مسکان کے والدین کے پاس چلا گیا اور ان کو حوصلہ دیتے ہوۓ بولا آپ لوگ فکر نہ کریں میں مسکان سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں میری بات پر مسکان کے والدین خوش ہو کر مجھے دعائیں دینےلگے اسی وقت مولوی کو پھر سے بلایا گیا اور اس نے ہم دونوں کا نکاح پڑھایا اور مسکان میری بیوی بن گئی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *