””مدینہ کے اندر ایک نوجوان تھا ، بلا کا حسین، دو شیزائیں اس کے حسن پر بے پناہ لٹو تھیں ۔جس وقت اس خوش رنگ اور فولاد بدن““

مدینہ کے اندر ایک نوجوان تھا ، بلا کا حسین، دو شیزائیں اس کے حسن پر بے پناہ لٹو تھیں ۔جس وقت اس خوش رنگ اور فولاد بدن نوجوان کو دربار خلافت میں پیش کیا گیا تو حاضرین مجلس اس کے دلکش گورے بدن کا غور سے مشاہدہ کرنے لگے ۔ اس جوان کا قدرے بڑا سر، خوبصورت چوڑی پیشانی اور اس پر لٹکے ہوئے خمدار سیاہ ، ہلکی باریک بھنویں ، دراز پلکیں سر مگیں آنکھیں ،

خوشنما رخسار، نازک ہونٹ، اور اولوں جیسے شفاف دندان اور خوشنما دبلا پیٹ، اور چوڑا سینہ اور چاند سے بڑھ کر چہرہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کو حیران و پریشان کر رہا تھا ۔اسے دیکھ کر امیرالمومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یقین آگیا کہ واقعتاً یہ وہی نوجوان ہے جس کا جمال مقناطیس کی طرح راہ چلتی خواتین اور گھر بیٹھی دو شیزاؤں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے ۔ اور وہ رات کی تاریکیوں میں جذبات سے مغلوب ہو کر اس کے حسن کے گیت گا رہی ہے ۔آپ نے خواتین کو اس کے دل ربا حسن کے فتنے سے بچانے کے لئے اس کا سر مونڈ نے کا حکم دیا ۔اس بیچارے کو بارگاہ خلافت کا حکم ٹالنے کا یارانہ تھا ۔

اس لئے یہ حجام کے آگے بیٹھ گیا اور اپنا سر منڈوانے لگا تو اس کی پیشانی یوں نمودار ہوئی کہ گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہو اور وہ پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت نظر آنے لگا ۔یہ دیکھ کر آپ نے دوسرا حکم جاری کیا کہ اس کے سر پر عمامہ پہنایا جائے ۔ چنانچہ وہ عمامہ پہن کر مزید خوبصورت نظر آنے لگا جب وہ مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کے لیے جاتا تو راہ چلتی خواتین کی نگاہیں اس کی سرمگیں آنکھوں پر مرکوز ہونے لگیں ۔اور وہ اسے گلی کوچوں میں دیکھ کر مبہوت رہ جاتی ۔یہ دیکھ کر امیر المومنین نے حکم دیا کہ اے نوجوان! تم اا شہر میں نہ رہو اور بصرہ چلے جاؤ۔اس نے وجہ پوچھی تو آپ نے صرف اتنا ہی جواب دیا

کہ یہ میرا حکم ہے اور مزید کچھ نہ بتا ۔ اس بیچارے نے بارگاہ خلافت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا ۔لیکن اسے سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا گیا ۔ جب اس نے امیر المومنین کے کسی ہم نشین سے اس کارروائی کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ معاملہ دراصل یہ ہے کہ گزشتہ رات جب دارالخلافہ کی رعایا میٹھی میٹھی نیند کے مزے لوٹ رہی تھی ۔تو امیر المومنین حسب معمول دارالخلافہ کے گلی کوچوں میں گشت کر رہے تھے کہ نصف شب کے قریب ایکدروازے پر سے ان کا گزر ہوا تو ان کے کانوں میں ایک خاتون کی آواز پڑی جو بڑی پر سوز آواز سے شعروں سے اپنی آرزو کا اظہار کر رہی تھی

اور کہہ رہی تھی کہ بھلا کوئی صورت بن سکتی ہے کہ میں شراب پی سکوں اور بھلا کوئی صورت نکل سکتی ہے کہ میں نصر بن حجاج کے پاس پہنچ جاؤں۔ اس نوجوان کے پاس پہنچ جاؤں جو شریف النسل ہے ، خوبرو ہے عزت دار ہے اور ضدی بھی نہیں ہے ۔وہ بلند مجلسوں والا ہے، ہم سروں کو واپس دھکیل دینے والے قبیلے سے ہے، قابلِ دید جوانی میں قدم رکھ چکا ہے، اس کا چاند کا سا مکھڑا تاریک رات کو جگمگا دیتا ہے۔جوں ہی آپ کے کانوں میں یہ اشعار پڑے تو آپ نے فرمایا: اچھا میرے ہاں اس شہر میں ایسا نوجوان بھی ہے جس کے حسن و جمال کا تذکرہ نوجوان خواتین اپنے پردے میں کر رہی ہیں تو انہوں نے فوراً حکم دیا

کہ اس نوجوان کو میرے سامنے لاؤ ۔ تو ان کے حکم سے تم کو یہاں لایا گیا تھا ۔تو پھر حاضرین نے تمہارے خوش قامت قد آور مضبوط کاٹھ اور خوبصورت چہرے کو دیکھا تو مان گئے کہ واقعی ایسا نوجوان ہے اگر اس کی خوبصورتی کو مصنوعی طریقے سے کم نہ کیا گیا تو خواتین کے بہک جانے کا خطرہ ہے ۔ چنانچہ اپنے خیال میں انہوں نے تمہاری خوبصورتی کم کرنی چاہی ۔ تو تم پہلے سے بھی بڑھ کر خوبصورت نظر آنے لگے تو انہیں حساس رپورٹیں ملنے لگیں اور وہ سوچنے لگے کہ اگر اس پاکیزہ دل نوجوان کو یہاں رہنے دیا گیا تو یہ کسی دن کسی کے تیر نگاہ کا شکار ہو جائے گا۔اس لئے انہوں نے آپ کو بصرہ بھیجنے اور وہاں بسانے کا پروگرام بنایا ہے

لہذا اللہ کا نام لیجیے اور رختِ سفر باندھ لیجیے ۔امیرالمومنین آپ کو بصرہ بھیجنے کا ارادہ کر چکے ہیں ۔اور وہ اس ارادے سے ٹلنے والے نہیں ۔ حضرت حجاج سملی کا یہ خوبصورت اور حسین و جمیل بیٹا نصر بن حجاج اپنی بیوہ ماں کا خدمت گار اور اس کی آنکھوں کا تارا تھا ۔یہ جب کبھی اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا اس کی آنکھوں میں اندھیرا ہو جاتا تھا اور کھانا پینا بھول جاتی تھی ۔اور اس کے متعلق موہوم خطرات میں گھر جاتی اور جوں ہی یہ اس کے سامنے آجانا اس کے لیے جہاں روشن ہوجاتا۔اسے مدینہ چھوڑ کر بصرہ میں جا کر بسنا گوارہ تو نہ تھا ۔لیکن امیر المومنین کے حکم کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہ تھی ۔

اس بیچارے نے اپنا دل مضبوط کر کے امیر المومنین سے پوچھا بھی کہ امیرالمومنین میرے خوبصورت ہونے اور خواتین کے میری طرف دیکھنے میں کسی طرح کے قول و فعل کا دخل ہو تو بتائیے لیکن آپ نے کوئی جواب نہ دیا اور فرمایا اے نوجوان یہ میرا انتظامی حکم ہے جو پکا ہے ۔امیر المومنین نے بصرہ کے گورنر کو اسے بصرہ میں گھر مہیا کرنے کا حکم دیا تھا ۔چنانچہ اس نوجوان نے اپنی پیاری والدہ کو اللہ اور پھر اپنے بھائیوں کے سپرد کیا اور پھر اونٹ پر سوار ہو کر طویل و عریض صحرا اور بلندوبالا پہاڑوں کے دروں کو عبور کرنے لگا ۔ اور کئی دنوں کے صعوبت برداشت کرنے کے بعد بصرہ پہنچ گیا ۔ادھر جب اس شادی شدہ خواتین کو امیر المومنین کے اس اقدام کا علم ہوا تو اپنے انجام سے ڈر گئ

کہ کہیں اب میری باری نہ آجائے تو اس نے چپکے سے یہ اشعار لکھ کر کسی کے ہاتھوں آپ کی طرف بجھوا دیئے. اس امیر المومنین سے گزارش کر دیجئے جس کے ناگہانی غصہ کر تصور سے بدن پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے کہ میرا شراب نوشی یا نصر بن حجاج سلمی سے کوئی واسطہ نہیں میں عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے معافی مانگتی ہوں اور انہیں بتانا چاہتی ہوں کہ مجھے نصر بن حجاج اور شراب کے بدلے تازہ دودھ اور نیچے دیکھنے والی آنکھ میں میسر ہے؛ اس لئے مجھے شراب پینے یا نصر بن حجاج کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔میرے عشق کو دوزخ کے خوف نے لگام دے رکھی ہے ۔

اور اب وہ اس مقام پر مطمئن اور پرسکون ہو گیا ہے۔ جس امنگ اور آرزو کو پورا کرنے کا اہتمام نہ کیا گیا ہو اسے جرم قرار نہیں دیا جا سکتا ۔اور پھر لوگ اپنی تمناؤں میں سچے بھی ہوتے ہیں اور سیاہ کار بھی ۔لہذا آپ غیر یقینی بات کو یقینی بات کا درجہ نا دیں، کیونکہ گناہ سے معافی مانگنے والے کی راہ ہی صحیح ہے ۔ جب امیر المومنین نے یہ اشعار ملاحظہ کئے تو رو دیئے اور فرمایا : سب تعریفوں کے لائق اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کے خوف نے اس خاتون کو ناجائز طریقے سے اپنے نفس کی خواہش پوری کرنے سے روک رکھا ہے ۔

نصر بن حجاج سلمیٰ کے بصرہ میں رہائش پذیر ہونے کے بعد اس کی والدہ اس کی جدائی کے غم میں نڈھال ہو گئ ۔کیونکہ اس کے اطاعت شعار بیٹے نے اسے ضروریات زندگی سے مالا مال کر رکھا تھا ۔اور اپنے والا حجاج کی وفات کے بعد اسے کسی چیز کی کمی نہ آنے دی تھی ۔اب اسے کمی تھی تو صرف اپنے لختِ جگر کے دیدار کی کمی تھی ۔ جو کسی جرم کے بغیر ہی مدینہ بدر کر دیا گیا تھا ۔بڑھاپے میں مدینہ منورہ کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتی تھی اور نہ ہی اس میں بیٹے کو بزور بازو واپس لانے کی ہمت تھی ۔

البتہ اس نے ایک دن جرات کر کے امیرالمومنین کو مسجد جاتے ہوئے راستے میں جالیا اور کہا: اے امیر المومنین! میں روز قیامت اللہ کے سامنے دو زانو ہو کر آپ سے جھگڑوں گی ۔آپ تو اپنے عاصم اور عبداللہ کے پاس سوتے ہیں جب کہ میرے اور میرے نور نظر کے درمیان وسیع و عریض صحرا اور سنگلاخ کوہستان موجود ہیں ۔امیرالمومنین نے فرمایا : اے نصربن حجاج کی ماں! نوجوان پردہ نشین خواتین اپنے پردوں میں عاصم اور عبداللہ کے گیت نہیں گاتیں جبکہ انہوں نے تیرے صاحبزادہ کے حسن و جمال کے گیت اپنے پردوں میں بھی گانے شروع کر دیئے ہیں ۔

یہ سن کر وہ بوڑھی عورت صبر کے گھونٹ پیتی ہوئی واپس مڑ گئی اور امیرالمومنین نماز میں مشغول ہوگئے ۔اس عرصے میں نصر بن حجاج سلمیٰ کو اپنی بوڑھی والدہ اور مدینہ منورہ کے ساتھیوں کی یاد ستانے لگی ۔چنانچہ اس نے امیرالمومنین سے مدینہ منورہ میں حاضری کی اجازت طلب کرنے کا پروگرام بنایا اور اپنی درخواست کو اشعار کی صورت میں لکھنا شروع کر دیا ۔اتفاق سے ان دنوں حضرت عتبہ بن غزواں امیرالمومنین کا کوئی پیغام لے کر بصرہ تشریف لے آئے ۔اور وہ اپنا کام مکمل کر کے واپس مدینہ منورہ ہونے لگے تو ان کے منادی نے آواز لگائی کہ جو کوئی مدینہ منورہ ڈاک بھیجنا چاہے

وہ جلد از جلد اپنی ڈاک ہمارے حوالے کر دے ۔نصر بن حجاج نے اس موقع کو غنیمت جان کر اپنی درخواست لفافے میں بند کر کے ان کے حوالے کر دیں ۔چند دنوں کے بعد وہ ڈاک مدینہ منورہ پہنچ گئی ۔جب امیر المومنین نے اپنی ڈاک کھولی تو اس میں سلام مسنون کے بعد بےقصور جلا وطن نصر بن حجاج کے یہ اشعار نظر پڑے ۔اے امیر المومنین آپ نے مجھے بےتوقیر کر کے مدینہ منورہ اور دوستوں میں رہنے سے محروم کر دیا ہے ایسا کرنا آپ کے لئے جائز نہیں تھا ۔

میرے متعلق آپ کا تصور محض گمان ہی ہے حقیقت یہ ہے کہ میں بےقصور ہوں اور بعض گمانوں کی تصدیق کرنا بھی گناہ ہے ۔محض اس بناء پر کہ ستواں ناک والی ایک شب اپنی آرزو کا اظہار کر بیٹھی : حالانکہ میرا حرمین میں قیام ہوا کرتا تھا اور مجھے میرا مرتبہ و مقام اس کی آرزو کی تکمیل کرنے سے روکتا ہے اور پھر میرے بزرگ کس قدر سچے اور عزت دار تھے اور اسے اس کی نماز اور روزہ اور قومی شرافت بری آرزو کی تکمیل سے روکتی ہے ۔ہماری یہ دونوں حالتیں ہمارے کسی طرح کے ممکنہ ارتقاب گناہ میں حائل ہے تو کیا آپ مجھے لوٹنے کی اجازت دیتے ہیں؟

امیرالمومنین نے پڑھ کر فرمایا کہ میری عمارت میں تو ایسا نہیں ہو سکتا ۔امیرالمومنین پر اللہ رحم فرمائے ۔آپ اپنے خیال اور تصور میں بالکل سچے تھے ۔یہ نوجوان بھی کسی نہ کسی دن کسی نیلم پری کی زلف گیری کا شکار ہو سکتا ہے ۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب یہ نوجوان مستقل طور پر بصرہ میں رہنے لگا تو اس نے شہر کے عامل ڈپٹی کمشنر مجاشع بن مسعود سلمیٰ کے دفتر میں آنا جانا شروع کر دیا ۔

اس نے اسے اپنی برادری کا برخوردار سمجھ کر اپنے گھر لے جانا شروع کر دیا ۔ چنانچہ یہ کچھ عرصے تک ان کے ساتھ ان کے گھر جاتا اور ان کے ساتھ واپس آجاتا ۔اسی دوران ان کی بیوی جو اپنے دور کی خوبصورت عورت تھی ۔اس خوبصورت نوجوان پر نظر رکھنے لگی ۔اور اس پر انتہا درجے کی نوازشیں کرنے لگی جس کی وجہ سے اس کا دل بھی پگھل گیا اور اس نے اسے زبان سے کچھ کہنے کی بجائے زمین پر لکھ دیا کہ مجھے تجھ سے اس قدر محبت ہے کہ اگر وہ تیرے اوپر ہو تو وہ تجھ پر سایہ فگن ہو، اگر نیچے ہو تو تجھے اپنی ہتھیلیوں پر اٹھا لے۔

یہ تحریر پڑھ کر نوجوان خاتون بےساختہ پکار اٹھی کہ میں بھی اللہ کی قسم! نوجوان خاتون کے الفاظ اس کے شوہر نے سن لیے، تو اس نے اس سے پوچھا تیرے کہنے کا کیا مطلب؟ اس نے کہا کہ نصر نے ہماری اونٹنی کو دیکھ کر اشارتاً کہا ہے کہ یہ اونٹنی کس قدر خوبصورت ہے! مجاشع نے کہا کہ تیرا یہ کہنا کہ اللہ کی قسم میں بھی اس بات کا جواب نہیں، مجھے سچ بتا کہ تو نے ایسا کیوں کہا؟ اس نے کہا کہ سچ پوچھتے ہو تو وہ یہ ہے کہ اس نے کہا کہ تمہارا گھر کتنا خوبصورت ہے! مجاشع نے کہا کہ یہ بات غلط ہے تیرا کلام دراصل کسی بات کا جواب ہے ۔تو مجھے جان بوجھ کر وہ بات نہیں بتا رہی ۔اسی دوران اس کی نگاہ زمین پر لکھی ہوئی عبارت پر پڑی تو اس کے دل میں خیال آیا کہ شاید میری بیوی کے الفاظ اس تحریر کا جواب ہی ہوں ۔

اس نے اس تحریر پر ایک بڑا سامٹی کا برتن الٹا کر کے رکھوا دیا ۔اور نصر کے جانے کے بعد اسے اپنے سیکرٹری سے پڑھوایا تو پتہ چل گیا کہ اس کی بیوی کا کلام دراصل اسی بات کا جواب ہے۔جب نصر بن حجاج کو اپنے اس معاملہ کی افشاں ہونے کا علم ہوا تو مارے شرم کے زمین میں گڑ گیا اور اسے اپنی اس حرکت پر اتنا افسوس ہوا کہ اسے بستر سے اٹھنے کا یارا نہ رہا اور لاغر ہو کر چوزے ہو گیا ۔ جب مجاشع بن مسعود کو اس کی حالت کا پتا چلا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اب جا اور میرے بیمار برخوردار کو اپنے سینے کے سہارے بیٹھا کر اپنے ہاتھ سے کھانا کھلا، شاید کہ اسی طرح اس کی صحت بحال ہو جائے ۔

اس کی بیوی نے یہ مطالبہ پورا کر نے سے جواب دے دیا، لیکن مجاشع بن مسعود بطور شوہر ہونے کو بھی اس بات کا اصرار کیا تو وہ مان گئ ۔بعد ازاں مجاشع نے حضرت ابو موسیٰ اشعری گورنر کوفہ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا کہ بس اسی وجہ سے امیر المومنین نے اسے مدینہ منورہ سے بصرہ بھجوایا تھا۔چنانچہ انہوں نے نصر کو بصر بجھوا دیا جہاں حضرت عثمان بن ابی العاص تقفی گورنر تھے. نصر یہاں سے کوچ کر کے فارس کے کسی قصبہ میں آباد ہو گیا ۔ اسے ابھی وہاں آباد ہوئے زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ گاؤں کے سردار کی بیوی اس پر مر مٹنے لگی تھی ۔

اور اسے چوری چھپے ملنے کے پتے بھیجنے لگی ۔ جب اس بات کا علم گورنر فارس کو ہوا تو انہوں نے نصر بن حجاج سلمی کو اپنے ہاں بلایا اور اپنی تشویش سے آگاہ کیا ۔ اور ساتھ ہی اسے یہاں سے چلے جانے کا مشورہ دیا ۔ اس نے کہا کہ اگر میں ارض سلام میں کہیں بھی نہیں رہ سکتا اور آپ لوگ مجھے کہیں بھی سکون سے نہیں ٹھہرنے دیتے تو میں کہاں جاؤں ۔ اللّٰہ کی قسم اگر آپ نے ایسا کیا تو میں مشرکوں کی سر زمین پر رہنے پر مجبور ہو جاؤں گا ۔ورنہ میرا کوئی قصور بتایا جائے ۔

جب حضرت عثمان نے یہ صورت حال امیرالمومنین کو لکھ کر بھیجی تو انہوں نے نصر بن حجاج کو وہاں سے جلا وطن کرنے سے منع کر دیا اور حکم دیا کہ اسے مسجد سے گھر اور گھر سے مسجد آنے جانے تک محدود کر دیا جائے اور اسے زیادہ عرصہ مسجد میں گزارنے دیا جائے تاکہ نہ یہ باہر نکلے اور نہ ہی کوئی فتنہ کھڑا ہو۔ چنانچہ یہ نوجوان خلافت فاروقی تک فارس میں ہی جلا وطن رہا اور اس دور میں اس کی کڑی نگرانی ہوتی رہی ۔جب عمر مومنین شہید ہوے اور اس کے سر اور داڑھی کے بال سفید ہونا شروع ہوگئے تو یہ واپس مدینہ چلا آیا اور آزادی سے ایمان اور تقویٰ کی زندگی بسر کرنے لگا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *