ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ دو قسم کے شوہر بیوی کوکبھی خوش نہیں رکھ سکتے بیوی ساری عمر پچھتاتی

اور جن رشتوں میں صرف چہرے پر مسکراہٹ ہو کوئی ضد غصہ لڑائی نہ ہو وہ رشتے اچھے تو ہوتے ہیں پرخاص نہیں اور وہ خاص رشتہ کسی ایک شخص کے ساتھ ہی ہوسکتا ہے۔ جذبات وہاں دکھائے جاتے ہیں۔ جہاں فرق پڑتا ہو کسی کو۔ شکلیں ہی تو دھوکا دیتی ہیں ۔=

یہ لوگوں کی فنکاری ہی تو ہوتی ہے کہ ایک چہرے پر کئی چہر ے سجا لیتے ہیں۔ کچھ یادیں اتنی خوبصورت ہوتی ہیں کہ پھر سے ان میں جی لینے کو جی چاہتا ہے پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی زندگی میں کیا ہو رہا ہے بس آپ ان کو سو چ کر مسکراتے رہتے ہیں۔

کچھ چیزوں اور کچھ لوگوں کو کھونا ہم افورڈ نہیں کرسکتے لیکن ہمیں ان کو کھونا پڑتا ہے ان سے دستبردار ہونا پڑتا ہے پھر چاہے وہ ہماری خوشی کی آخری وجہ ہوں۔ مرد کی محبت دانت کے درد کی طرح ہوتی ہے جب وہ کرتا ہے ایسی شدت سے کرتا ہے اور جب وہ خاموش ہوجائے تو ایسا لگتا ہے اس نے کبھی محبت کی ہی نہیں۔ دوقسم کے شوہر بیوی کو بھی خوش نہیں رکھ سکتے ہیں تو پوری عمر پچھتاتی رہتی ہے۔

پہلاوہ جو عورت کو ہر وقت طعنے دیتا ہو دوسرا وہ جو غلطی اپنی ہونے پر بھی بیوی کو ہی ڈانٹا ہو، اپنی غلطی نہ ماننے والاجب انسان اپنی وقعت کھو دے تو اس کے لیے بہترین پناہ خاموشی ہے کیونکہ وضاحت کبھی سچا ثابت نہیں کرسکتی ندامت کبھی نعم البدل نہیں ہوسکتی الفاظ کبھی بھی انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس نہیں دلا سکتے ہاں خاموشی مز ید تذلیل سے بچالیتی ہے۔

Categories

Comments are closed.