ماں کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ نو جوان روز نئی نئی لڑکیوں کے کے ساتھ زناکاری کرتا

ایک نوجوان نہایت بد کار تھا لیکن جب وہ کسی گناہ کا ار تکاب کرتا تو اسکو کائی میں نوٹ کر لیتا تھا ۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عورت نہایت غریب تھی اور اس کے بچے تین دن سے بھوکے تھے جب وہ اپنے بچوں کی پریشانی برداشت نہ کر سکی تو اس نے اپنے پڑوسی سے ایک عمدہ ریشم کا جوڑا ادھار لے لیا اور اسے پہن کر بدکاری کرنےنکل پڑی , پھر اچانک اس نوجوان کی نظر جب اس عورت پر پڑی تو اس نے اسے اپنے پاس بلایا ۔ اور جب اسکے ساتھ بد کاری کا ارادہ کیا تو وہ عورت روتے ہوۓ تڑپنے لگی ۔ اور کہنے لگی کہ میں فاحشہ یا زانیہ نہیں ہوں میں بچوں کی پریشانی کی وجہ سے اس طرح نکلی ہوں ۔ جب تم نے مجھے بلایا تو خیر کی امید ہوئی ۔ یہ سن کر اس نوجوان نے

اسے کافی در ہم دیئے اور رونے لگا پھر اس نوجوان نے گھر آ کر اپنی والدہ کو پورا واقعہ سنا دیا ۔ اسکی والدہ اسکو ہمیشہ ‘ ‘ برائی ’ ’ سے روکتی تھی آج یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی بیٹا تو نے زندگی میں یہی ایک نیکی کی ہے اسکو بھی اپنی کاپی میں نوٹ کر لے , پیٹا کہنے لگا ماں کاپی میں اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جہاں میں یہ نیکینوٹ کر سکوں تو والدہ کہنے لگی بیٹا کاپی کے حاشیہ پر نوٹ کر لے ۔ چناچہ اس نے حاشیے پر نوٹ کر لیا اور نہایت غمگیں ہو کر سو گیا ۔ جب وہ بیدار ہوا تو دیکھا کہ پوری : کاپی سفید اصاف کاغذوں کی تھی ، اور کوئی چیز لکھی ہوئی باقی نہیں تھی , صرف حاشیہ پر جو آج کا واقعہ نوٹ کیا تھا وہی باقی تھا , اور کاپی کے اوپر کے حصہ میں

ایک آیت لکھی ہوئی تھی ۔ بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ۔ اس کے بعد اس نوجوان نے ہمیشہ کے لیے توبہ کر لی اور اس پر قائم رہ کر مرا

Categories

Comments are closed.