ماں نے بیٹے کے خلاف عدالت میں کیس کر دیا کہ میرے بیٹے نے ایک کتا پال رکھا ہے

ایک ماں نے اپنے بیٹے پر عدالت میں کیس کر دیا کہ میرے بیٹے نے ایک کتا پال رکھا ہے اور وہ سلا دن اس کتے کے ساتھ کھیلتا رہتا ہے ، اسے اپنے ساتھ سلاتا ہے ، اسکے کھانے کا بندوبست کرتا ہے لیکن ماں کو وقت نہیں دیتا یہ کہاں کا انصاف ہے ، لہذا میں عدالت سے گندش کرتی ہوں کہ وہ میرے بیٹے کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ دن میں کم از کم پانچ سے دس منٹ کا مجھے وقت دے کیونکہ میری نظریں اسے دیکھنے کے لیے ترس گئی ہیں ۔ جج نے عورت کی بات سنی اور اسکے

بیٹے کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس بھیج دیا ۔ جب بیٹے کو پتہ چلا تو اس نے بھی اپنا ایک وکیل ہائر کر لیا اور اپنی ماں کے خلاف عدالت میں جانے کا فیصلہ کیا ۔ جب وہ عدالت میں آیا تب بھی اس کے ہاتھ میں کتے کی رسی تھی سب لوگ یہ دیکھ کر حیران ہوۓ ماں اور بیٹا ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے ۔ ادھر ماں نے ایک مشہور وکیل سے مدد لی جبکہ بیٹے نے بھی ایک اچھا خاصا وکیل کر لیا تھلو بیج صاحب نے بیٹے سے

پوچھا کیا یہ سچ ہے کہ تم اپنی ماں کو وقت نہیں دیتے جبکہ اپنے کتے کے لئے تمہارے پاس وقت ہی وقت ہے ، تمہاری ماں کی یہ خواہش ہے کہ تم دن میں پانچ سے دس منٹ اپنی ماں کو دیا کرو اسکے ساتھ بیٹھور اس کا حال دریافت کرو ۔ بیٹے نے کہا میں ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ گورنمنٹ کے قانون کے مطابق میری عمر اٹھدہ سال ہے اور مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے والدین سے الگ رہ سکتا ہوں ۔ بنچ نے کہا پھر بھی

انسانی ہمدردی کی خاطر میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اپنی ماں کے لیے کچھ وقت نکال لو تاکہ اسے تسلی حاصل ہو نوجوان نے کہا حج صاحب جب میں چھوٹا تھا تو میں اس بات کے لیے ترستا تھا کہ والدین میں سے کوئی بھی مجھے تھوڑا سا وقت دے دیں مگر ایسا نہ ہو سکا ۔ میرا باپ جب تک زندہ رہا اس نے میرا بوسہ تک نہ لیا وہ پرائی عورتوں کے ساتھ اپنے تعلقات بناتا رہا اور میری یہ مال جو اب اپنا حق جتا رہی ہے صبح گھر سے

نکلتی تھی اور سلا دن نائٹ کلب میں گند کر آدھی رات کو گھر واپس آتی تھی میں اس وقت ماں کا انتظار کرتے کرتے سو جاتا تھا میں ایک ایک لمحہ تنہائی کی عادت ہو چکی اذیت سے گزرتا رہاو اب ھے ہے مجھے انسانوں سے نفرت ہے جبکہ جانوروں سے ۔ اجنبیت محسوس نہیں کرتا ۔ یہ سن کر حج نے لڑکے کی ماں کو یہ مشورہ دیا کہ آپ اولڈ ہاؤس شفٹ ہو جائیں ادھر آپ کو آپ کی عمر کی خواتین ملیں گی جن کی کہانی آپ سے ملتی جلتی ہو گی دھر آپ کی تنہائی میں کم از کم کچھ نہ کچھ کمی ضرور ہو گی ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *