ماں باپ کی نافرمان لڑکی

ہ ہانپتی کانپتی سیٹر میاں پڑھتی چت پر پنچ نہ جانے کیوں نچے جانے کے بجاۓ وہ اوپر آ گئی۔ٹر ٹرج ۔ فوج بجنے لگا ایک دم سے اس نے سائیلنٹ کابٹرج دبایا اور سیٹر ھیوں کے جانب دیکھنے لگی ۔ جاوید ۔ وہ فوج اٹھاتے ہوۓ بو ہکلاۓ انداز گی ۔۔ بوہکلاۓ میں بولی۔میں نے سب سامان تیار کر لیا ہے تم کہاں ہو ؟ بولتے بولتے اس نے سٹر ھیوں کیجانب دیکھا ۔ میں بں پہنچنے والا ہوں تم اطمینان رکھواور ہاں جلدی سے نیچے آنا ہمارے پاس وقت بہت کم ہے جاوید نے جلدی سے جواب دیتے فوج بند کر دیا ۔ دیا ۔ شبنم کے لئے یہ انتظار اتناطویل ہو گیا جیسے برسوں وہ اس انتظار میں گزری ہو ۔ گھبراتے ہوۓ وہ صحت کی دیوار کے پاس آئی اور یونی نے جانے گئی تھی مگر یہ کیا

اسکادل لے کے ہزارویں حصے میں جیسے رک سا گیا ہو ۔ جاوید گلی کے نکر پر بائیک پر اپنے دودوستوں کے ساتھ تھا اور اسکے دونوں دوست بائیک سے اتر کر ایک سائیڈ پر ہوگئے اور جاوید کار وی شبنم کے گھر کی جانب تھا ۔ شبنم نے دوبارہ ع اپنافورج نکالا اور جاوید کا نمبر ملایاھونٹے ہی جاوید نے بولا ۔ جلدی نیچے آؤمیں آگیا ہوں

اور ہاں دیکھوہاں دیکھواپنازیوراور نقدی ساتھ لیا ہے نا ؟ تم اکیلے آۓ ہوا ؟ شبنم نے اسے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوۓ پو چا ؟ ہاں میں نے اکیلیے آنا تھاتو ظاہر ہے اکیلائی آیا ہوں نا ۔ جاوید جھنجھلاتے ہوۓ بولاتم فوراوقت کم ہے وہ گھڑی کے طرف دیکھتے ہوۓ دوبارہ بولا : مگر شینم پر تو جیسے سکوت طاری ہو گیا ۔ تم بچ کر ر ہےہو تم اکیلے آۓ ہو ؟ شبنم کیے سوئی وہی اٹکی ہوئی تھی جاوی پر جیسے شک گزراوہ فورازم انداز اپنے ہوۓ بولا : کیا کوئی اپنی زندگی سے بھی جھوٹ بول سکتا ہے میں تمھیں کس طرح یقین دلاؤں کے میں۔میں ہوں تم آؤاور خودیک لومیں تنہا یاہوں وہ کچھ زیادہ تفصیل سے باب دے گیا ۔ دونوں طرف سکوت چھاگیا ۔ شبنم کیے

آواز نے سکوت توڑاتو جیسے جاو ید پر حیرتوں کا پہاڑ ٹوٹ ] پڑا ۔ وہ کانپتی آواز میں بولی ، چلے جاؤ اور اب دو بار بھی میرے گھر کاری ناکر نااگر تم یہاں آۓ تو جان لو مجھ سے براکوئیے نا ہوگا اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئیے ۔ کونسی دوست تھی میری ایسی جس نے مجھے تم سے ملنے سے نار وکاہو مگر میں نےکسی کیے ناستی یہاں تک اپنی ماں باپ کو دھوکہ دینے چلی تھی انکی آنکھوں میں میں دھول جھونک کرمیں نے تمھیں اہم جانا اور تم نے آج بتادیا ، مجھ سے بڑھ کوئی پاگل ہوہی نہیں سکتے بے دردی سے وہ کال رگڑ تی کال بند کرنے لگی کے وہ گو یا ہوں ۔ تم اگر میری اصلیت جان ہی چکی ہو تو سید ھی طرح زیور اور نقدی مجھے

دے دور نہ میں تمھاری تصاویر سوشل میڈ یا پر ڈال دو نگا پھر تم کسی کو تو کیا اپنے گھر والوں کو منہ دکھانے کے قابل نار ہو گیے غصے سے بولتاوہ چپ ہواہر بے ایمان انسان کیطرح وہ اپنے اصلیت پر ترآ یامگر شبنم پر اس کاثر ناپڑا ۔ وہ پھٹ پڑی ۔ جاوجوئی میں کر لومیں کسی صورت تمھیں تمھیں پچھوٹی کوڑی نہی دینےوالی۔اور ایک بات یادر کھناجب کوئیے توبہ کرے تو وہ اس نے آساج کے طرف شہادت کی انگلی اٹھاتے ہوۓ کہاوہ کسی کیے توبہ رونہیں کرتا اور جب آزماتا ہے تو اپنے بندے کور سوانی کرتا یہ کہتے ہی اس نے فون بند کرتے ہی دیوار پر دے مارا ۔ اور ایسے رونے لگی جیسے اسکا کوئیے اپنامر گیا۔مرہی تو گیا تھاناں اسکا ضمیر۔آہ

کیا ہوتا اگر میں چھت پر نا آتی اور اسے دوستوں کو نا دیکھ لیتی یقینا میرا بھی ذکران لڑکیوں میں ہو تا جو اپنے والدین کی نافرمان ہوتی ہیں در در ٹھوکریں کھانے والی جمنیں جہنیں پھر کبھی عزت نہی ملتی جو ماں باپ کی عزت کو انکی دہلیز پراند کر اپنی خواہشات کےپیچھے گھر سے نکلتی ہیں ۔ پچھتاوے کے آ نسو بہاتی وہ اب سیر میان زرتے بچے آرہی تھی جیسے صدیوں کابوجھ اسکے کاندھوں پر آپڑاہو

Categories

Comments are closed.