قاضی صاحب کی بیٹی کہیں وعظ میں صدقہ وخیرات کے فضائل سن آئی تھی

بصرہ کے قاضی صاحب کی بیٹی کہیں وعظ میں صدقہ وخیرات کے فضائل سن آئی تھی۔ ایک فقیر نے دروازے پر سوال کیا تو لڑکی نے کہا نقد تو اس وقت موجود نہیں، اماں جان نے میرے سر کی چوٹی میں دو موتی پروئے تھے۔ وہی دیئے جائیں، نکالتے قدرے دیر ہوئی۔ اس بچی نے باپ کے ڈر سے جلدی میں چوٹی کاٹ کر سائل کے حوالے کی۔

اتنے میں ایک چغل خور نے قاضی صاحب سے جا کر کہا کہ حضور اپنی صاحبزادی کی خبر لیجئے۔ اس نے پردہ پردہ میں کیا گل کھلائے ہیں۔ ایک فقیر سے تعلق پیدا کرلیا ہے۔ قاضی صاحب کو بہت غصہ آیا اور لڑکی کو بلا کر ماجرا پوچھا۔ لڑکی نے کہا توبہ توبہ خدا کی پناہ، ابا جان آپ کا کدھر خیال ہے۔ باپ نے کہا کہ اچھا اگر بڑی سچی ہے تو ہمیں اپنی چوٹی دکھا۔ لڑکی نے کہا دو رکعت نماز پڑھنے دو۔قاضی صاحب نے کہا اچھا پڑھ لو۔ یہ نماز میں مشغول ہوئی اور نماز میں نہایت عاجزی سے دعا کی: الٰہی! تیری ہی ذات پر بھروسہ ہے،

تیرے ہی نام پر صدقہ دیا تھا، اب تو مجھے باپ کے آگے شرمندہ و رسوانہ کرنا (دراصل عاجزی حق تعالیٰ کے دربار بے نیاز میں بہت پسندیدہ ہے)اس نے ابھی سجدے سے سر اٹھایا تھا کہ سر پر دس مینڈیوں کی ایک چوٹی آلگی اور ہر مینڈھی میں ایک ایک موتی چمک رہا تھا۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے) پھر اس لڑکی نے نہایت وقار کے ساتھ اپنے باپ کے سامنے آخر اپنی چوٹی دکھائی۔ باپ دیکھ کر تعجب کرنے لگا اور حقیقت حال سن کر کہا کہ سچ ہے، ایک نیکی کرنے والے کو دس گنا بدلہ ملتا ہے۔قاضی صاحب نے چغل خور کو سزا دینی چاہی، مگر لڑکی نے سفارش کر کے معافی دلوا دی۔ سچ کہا کسی نے سچ کو آنچ نہیں (نیک بندوں کی یہ صفت ہے کہ وہ لوگوں کو معاف کرتے ہیں) اگر وہ لڑکی نیک بخت سفارش نہ کرتی تو اس کو سزا ملتی۔ چغل خوری برا شیوہ ہے، کیونکہ یہ فعل فاسق کا ہے اور فاسق خدا کا نافرمان ہے۔حضور اقدؐس نے فرمایا: چغل خور بہشت میں نہ جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا تمام آدمیوں میں برے آدمی وہ ہیں، جو چغلیاں کرتے ہیں اور دوستوں میں جدائی ڈالتے ہیں۔دراصل اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کچھ موجود ہو تو سائل کو دے دیا جائے وگرنہ اسے احسن طریقے سے جواب دیا جائے،

تاکہ اس کی دل شکنی نہ ہو۔ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جس سے بعد میں مشکلات پیدا ہوں جیسا کہ اس نیک لڑکی کو سائل کو اپنے بال کاٹ کر (جس میں موتی لگے ہوئے تھے) دینے سے بعد میں ایک بڑے امتحان سے گزرنا پڑا۔ لیکن اس کے صادق جذبہ ایمانی پر رب تعالیٰ نے اس کی مدد فرمائی اور وہ شرمندگی سے بچ گئی۔اسلام نے اتنے بڑے امتحان میں اپنے آپ کو ڈالنے کا حکم نہیں دیا۔ یہ اس بچی کا اپنا انفرادی ایک جذبہ اور حال تھا۔ اسلامی کتب میں ایسے واقعات بکثرت موجود ہیں۔ اس واقعہ سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اس نیک لڑکی نے اپنے جانی دشمن چغل خور کو معاف کر دیا اور اس کو سخت سزا سے بچالیا اور انتقام نہیں لیا۔ایک سوداگر نے اپنے دوست سے جو ایک جہاز کا ناخدا (ملاح یا جہاز ران) تھا، پوچھا: تمہارے والد بزرگوار نے کیسے وفات پائی؟ نا خدا نے کہا آپ میرے والد کی نسبت خاص کر کیا پوچھتے ہیں؟ میرے سب آباؤ اجداد ڈوب کر مرتے آئے ہیں۔ اس واسطے کہ صدہا پشت سے جہاز رانی کا پیشہ ہمارے خاندان میں ہے۔سوداگر نے کہا، کیا تم کو ڈر نہیں لگتا کہ تم بھی ایک دن باپ دادا کی طرح ڈوب کر ہی مروگے؟ ملاح نے کہا بے شک ڈوبنے کا خوف آتا ہے، لیکن موت سے گریز یعنی فرار کہاں ہوسکتا ہے۔ بھلا میں بھی آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ کے آباؤ اجداد، کیونکر اور کیسے مرے ہیں؟ سوداگر نے جواب دیا کہ گھر میں ہی مرے ہیں اور کہاں مرے ہیں؟ ناخدا نے کہا کہ آپ نہیں ڈرتے کہ اسی گھر میں آپ کو بھی مرنا ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.