قاتل جب مقتول کو قتل کرنے لگا تو مقتول نے بڑی منتیں کیں مگر قاتل نے ایک نہ سنی

ختر ابھی گھر کے سامنے پہنچا تھا کہ بارش شروع ہو گئی ۔ چند بوند یں اس کے ہاتھوں پر گریں ۔ اس نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا ۔ ساتھ ہی بارش کی بوندوں کو دیکھ کر مسکرا دیا ۔ اسے مسکراتے دیکھ کر اس کی بیوی نے پوچھا ۔ کیا بات ے مسکر اکیوں رہے ہو ؟ اختر نے کہا ، کچھ نہیں ۔

نہیں کوئی تو بات ہے ، اس کی بیوی نے کہا ۔ اختر نے کہا ۔ کہہ تو دیا کوئی بات نہیں ۔ اس کی بیوی کہنے لگی لیکن میں نے خود دیکھا ہے ۔ تم بارش کی بوندوں کو دیکھ کر مسکرائے تھے ۔ میں تمہیں اس لیے نہیں بتا سکتا کہ تم بات کو پیٹ میں نہیں رکھ سکو گی ۔ اب تو میں پوچھ کر رہوں گی ۔

نہیں میں نہیں بتا سکتا اور تم نہ ہی تم پوچھو ۔ ضرور پوچھ کر رہوں گی بتاؤ کیا بات ہے ۔ ورنہ اس گھر میں روز جنگ ہوگی ۔ سارا محلہ اس جنگ کو سنے گا ، بتاؤ ۔ اب وہ مجبور ہو گیا آخر اس نے کہا ۔ پہلے وعدہ کرو کسی کو نہیں بتاؤگی ۔

ا ٹھیک ہے نہیں بتاؤں گی ، پکا وعدہ کرو بالکل پک سوفی صد اپکا وعدہ رہا ۔ تو پھر سنو کچھ عرصے پہلے میں نے اپنے محلے کے ایک آدمی کو قتل کیا تھا ۔ کیا ؟ اس کی بیوی دھک سے رہ گئی ۔ پھر اس نے کہا ۔ لیکن کیوں آخر تم نے ایسا کیوں کیا ۔

شریف کی کسی سے دشمنی تھی اس کا دشمن اس کی موت چاہتا تھا ، اس نے مجھ سے پانچ لاکھ روپے کے بدلے یہ کام کرایا۔میں شریف کو سیر کے بہانے اپنے ساتھ ایک کھنڈر میں لے گیا ۔ پھر میں نے منجر نکال لیا خنجر کو دیکھ کر وہ چونکا میں نے اسے بتادیا کہ میں اسے قتل کرنے لگا ہوں ۔

اس نے میری بہت منتیں کیں ، ہاتھ جوڑے ، رویا ، لیکن مجھ پر اثر نہ ہوا ۔ آخر مجھے اس کام کے پانچ لاکھ ملنے تھے ۔ جب میں اس پر خنجر سے وار کرنے لگا تو اس نے کہا ۔ دیکھورک جاو ورنہ تم بھی بچ نہیں سکو گے ۔ مجھے یہ جرم کرتے ہوئے یہاں کوئی نہیں دیکھ رہا اس لیے میں محفوظ رہوں گا ۔ عین اس وقت بارش شروع ہو گئی اس کے منہ سے نکلا ۔ یہ بارش اس جرم کی گواہی دے گی ۔ اس کی بات سن کر میں ہنسا اور میں نے خنجر اس کے پیٹ میں اتار دیا ۔ پھر میں نے گڑھا کھود کر اسے دفن کر دیا ۔ آج یہ بارش کے قطرے میرے ہاتھوں پر گرے تو وہ مجھے یاد آگیا ۔ بس پھر میں مسکرا دیا کیوں کہ کسی کو مجھ پر شک تک نہیں ہوا ۔ شریف کے بارے میں اب تک یہی خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ گھر والوں سے لڑ جھگڑ کر کہیں چلا گیا ہے اور اس کے گھر والے بھی اسی خیال میں ہیں ۔ جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گا آجاۓ گا واپس ، لیکن انہیں کیا پتا وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گا ، اور وہ پانچ لاکھ کہاں ہیں ؟ بیوی نے آنکھیں نکالیں ۔

اس کے دشمن نے مجھے بہت دھوکا دیا جب میں اس سے رقم لینے گیا تو وہ صاف انکار کر گیا کہنے لگا اس نے ایسا کوئی کام کرنے کے لیے نہیں کہا تھا اور اگر وہ چاہے تو مجھے گرفتار کرا سکتا ہے کیوں کہ اب میں ایک آدمی کا قاتل ہوں ۔ میں یہ سن کر سہم گیا اور واپس چلا آیا ۔ گویا تمہیں کچھ بھی نہ ملا اور تم ایک آدمی کے قاتل بن گئے ۔  خاموش رہو کوئی سن لے گا ۔ اسی وقت دروازہ کھلا ان کا بیٹا روتا ہوا اندر داخل ہوا ۔ اس نے کہا ۔ امی مجھے شریف کے لڑکے نے مارا ہے ۔ اسے تو میں ابھی بتاتی ہوں ۔ یہ کہہ کر وہ گھر سے نکل گئی شریف کا لڑکا گلی میں کھیلتا نظر آگیا ۔ اس نے اس کے دو چار ہاتھ رسید کر دیے اور بولی آئندہ میرے بیٹے کو ہاتھ لگایا تو تمہارا بھی وہی حشر ہو گا جو تمہارے باپ کا کیا ہے ۔ شریف کے لڑکے کو یہ الفاظ عجیب سے لگے ۔ وہ روتا ہوا گھر گیا اور یہ بات اپنی امی کو بتائی ۔ اس نے شریف کے بھائیوں سے ذکر کیا ، سیدھے پولیس اسٹیشن گئے تھانے دار کو یہ بات بتائی پولیس آئی اور اختر کو پکڑ کر لے گئی چند ہی منٹوں میں انہوں نے ساری تفصیل اگلوالی ۔ پھر وہ اسے کھنڈرات تک لے گئے ۔

گڑھے سے لاش برآمد ہو گئی ۔ پولیس جب اسے اپنے ساتھ لے جارہی تھی تو اسے مظلوم شریف کے الفاظ یاد آرہے تھے ۔ یہ بارش اس جرم کی گواہی دے گی

Categories

Comments are closed.