”غربت سے مجبور ہو کر اس نے اپنی بیٹی کو امیر عورت کے گھر چھوڑ دیا ایک دن لڑکی نے ماں کے کھانے کے لیے پیسے مانگے تو مالکن۔۔۔۔۔“

ماں یہ گداگر کون ہوتے ہیں مریم نے گھر میں آتے ہی پہلا سوال اپنی امی سے کِیا مریم جو 8 سال کی تھی ایک چھوٹی سی بچی۔ جس کے کھیلنے کے دن تھے پڑھنے کے دن تھے. غربت نے اُسے کسی امیر گھر میں کام کرنے پہ مجبور کر دیا۔ پیٹ کی خاطر یاسمین نے بھی اپنی آٹھ سال کی بیٹی کو ایک امیر گھر میں کام پہ لگا دیا۔ شوہر جس کا نام راشد تھا۔ ہر وقت نشے میں رہتا کبھی کبھی گھر آتا وہ بھی جب نشہ ختم ہو جاتا تو پیسے مانگنے۔ یاسمین جو چولہے میں لکڑیوں سے آگ جلانے کی کوشش میں مصروف تھی۔

اُس نے مریم کی طرف دیکھا اور بولی کیوں کِیا ہوا… ؟ آج گھر آتے ہی یہ سوال اور سلام تک بھول گئی ہو۔ چھوڑو اس کو اور بتاؤ آج مالکن نے پیسے نہیں دئیےنہیں ماں وہ مالکن آج بہت غصے میں کہتی ہے کہ ابھی کچھ دن ہی تو ہوئے ہیں جب پیسے لئیے تھے.

روز روز یہ پیسے مانگنے کی عادت چھوڑ دو تم اور تمہاری ماں. اور کہتی کہ جیسی ماں بھکارن ویسی بیٹی اور چھوٹی مالکن کہتی کہ ماما ایسے گداگروں کو منہ نہ لگایا کریں اسی لئے پوچھا تھا کہ یہ گداگر اور بھکارن کون ہوتے ہیں یاسمین سُن کے پریشان ہو گئی اور مریم کو کہتی بیٹا تم ان کی باتوں پہ دھیان نا دیا کرو.. بھکارن اور گداگر کسی اچھے انسان کو کہتے ہوں گے. اور آنکھوں میں پانی بھر آیا نہیں ماں وہ مالکن بہت غصے میں یہ بول رہی تھی.چھوڑو مریم بتاؤ کھانا کھا لیا تھا؟اور یہ ہاتھ میں پکڑے ہوئے شاپر میں کیا ہے؟ ماں میں نے نہیں کھایا کھانا جو مالکن نے کھانے کو دیا میں وہ شاپر میں ڈال کے لے آئ ہوں آپ کو بھی بھوک لگی ہوگی نا اسلئیے. یاسمین نے مریم کو گلے لگا لیا اور رونے لگی. ماں آپ کیوں رو رہی ہیں۔ مریم نے معصومیت سے سوال کیا۔

یاسمین نے بات کو ٹال دیا اور شاپر سے کھانا پلیٹ میں نکالا اور مریم کو کھلانے لگی.ماں ابو نہیں آئے ؟؟ مریم نے کھاتے کھاتے سوال کیاآئے تھے بیٹا مگر اُن کو ہوش ہی کہاں کہ ایک بیٹی اور بیوی بھی ہے.وہی ہمیشہ کی طرح پیسے مانگ رہے تھے۔ جب پیسے نہیں دئیے تو یاسمین نے بات کو ادھوری چھوڑ دیا کیونکہ وہ بیٹی کو نہیں بتانا چاہتی تھی کہ پیسوں سے انکار پر بہت مارا اُسے مریم اور یاسمین کھانا کھا کے سونے کے لئیے لیٹ گئیں مریم ابھی لیٹی ہی تھی کہ نیند نے اُسے گھیر لیا یاسمین مُسکرائ اور اور مریم کا ماتھا چوما اور خود سے باتیں کرنے لگی مجھے معاف کر دینا بیٹا میں اچھی ماں نہیں اور رونے لگی دن بھر پتہ نہیں کتنا کام کراتی ہے۔

مالکن جاؤں گی مریم کے ساتھ کل کہ ایک تو کام کرتی ہے معصوم میری بچی اور اُسے گداگر بھکارن بُلاتی ہے مگر اگر ایسا کہا تو کہیں نوکری سے نہ نکال دے اللہ پاک مدد کر غربت ہمارا قصور ہے کیا یاسمین نے سوچتے سوچتے آنکھیں بند کیں اور سو گئی مریم اُٹھو جلدی مالکن غصہ ہوگی کام پہ نہی جانا مریم جلدی سے اُٹھی اور سر پہ دوپٹہ لیا اور اور کُچھ کھائے بغیر بھاگ گئی یاسمین پریشان ہو گئی کہ مریم بھوکی چلی گئی اُسی لمحے مریم کی آواز کانوں میں پڑی جو اُنچی سے چلائ ماں میں اُدھر سے کُچھ کھا لُوں گی آپ میری بلی کو بھی ناشتا کرا دینا یاسمین یہ سُن کر ہسنے لگی۔

اور ہاں میں سر ہلا دیا مالکن کے گھر پہنچی تو ناشتے میں مریم کو ایک زور دار تماچہ کھانے کو مِلا اور مالکن چلائ اتنی دیر کی آنے میں پیسوں کے لئیے ہر وقت بھکاریوں کی طرح مانگتی ہیں چلو جا کے برتن دھوؤ جو رات کے جمع ہیں اسی لیے تم ماں بیٹی پہ ترس کھا کے تم کو کام پہ رکھا تھا لگتا تمہاری چھٹی کرانی پڑے گی مریم کی زبان سے کوئ لفظ نہ نکلا اور کچن میں اپنے ننھے ہاتھوں سے کام میں مصروف ہوگئ کام سے فرصت کے بعد مریم نے چھوٹی مالکن کو بولا کہ

مُجھے بھوک لگی ہے چھوٹی مالکن نے مریم کی طرف غصے سے دیکھا اور بولی گھر سے کھا کے آیا کرو تمہارے کام کے پیسے دیتے ہیں جا کے کھانا بنا کے کھایا کرو اور کہا آؤ میرے ساتھ کچن میں مریم اُس کے پیچھے چل پڑی پکڑو پلیٹ اور کھاؤ پلیٹ کو اچھی طرح دھو کے رکھنا چھوٹی مالکن میں یہ کھانا گھر لے جاؤں چھوٹی مالکن نے کہا لے جاؤ مگر سب کام ختم کر کے جانا مریم کھانے کی طرف دیکھ کے مُسکرائ اور کام میں لگ گئی چھوٹی مالکن کی دوست جس کا نام شفا تھا جو یہ سب دیکھ رہی تھی اُسے بہت ترس آیا مگر خاموش رہی مریم کام ختم کرنے کے بعد کھانا لے کے گھر کی طرف چل پڑیبشفا نے جب مریم کو جاتے۔

دیکھا تو اُس نے بھی جلدی سے اجازت لے کے گھر جانے کا بولا گیٹ سے باہر نکلتے ہی اُس نے ادھر اُدھر جلدی سے نظر دوڑائی مریم کو دیکھنے کے لئیےاُس کی نظر مریم پہ پڑ گئی پاس ہی گھر تھا مریم گھر میں داخل ہو گئی اور شفا بھی اپنے گھر چلی گئی ماں ماں ماں دیکھو میں آگئی اور کھانا بھی لائی ہوں ماں کدھر ہو مریم جو بولے جا رہی تھی اتنے میں کمرے سے اُس کے ابو نکلے مریم نے جھٹ سے بولاابو ماں کدھر ہےوہ وہ اندر ہوگی راشد نے ہچکچاتے ہوئے اپنے بدن کو جھنجھوڑتے ہوئے بولا اور گِر گیا۔

مریم کمرے میں گئی اور دیکھا ماں رو رہی ہے اُس کے بدن پہ چوٹ کے نشان دیکھے اور سمجھ گئی اور بھاگتے ہوئے کمرے کے باہر آئ ابو یہ لیں پچاس روپے میری ماں کو دوبارہ نہ مارنا اور اُس کی ہچکیوں کی آواز گھر سے باہر جا رہی ہو گی مریم نے ایک بلی پال رکھی تھی جب بھی فارغ ہوتی اُس کے ساتھ کھیلتی بلی نے جب مریم کو اپنے ابو کے پاس بیٹھے روتے دیکھا تو آگئی اور اپنی ایک ٹانگ اُٹھا کے مریم کے ہاتھ پہ بار بار رکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو میں تمہارے دکھ میں شریک ہوں ایک جانور (بلی) مریم نے جسے پالا وہ بھی یہ بتانے کی کوشش کر رہی تھی کہ مجھے احساس ہے راشد نے مریم سے وہ پچاس روپے لئے اور چلا گیا مریم پھر بھاگ کر یاسمین کے پاس گئی ماں اُٹھو چارپائ پہ بیٹھو دیکھو کھانا لائی ہوں اور ابو کو پچاس روپے بھی دئیے وہ اب نہی ماریں گے آپ کو چھوٹی سی ننھی مریم اپنی ماں کو حوصلہ دے رہی تھی۔

یاسمین نے مریم کو گلے لگا لِیا بلی بھی بولے جا رہی تھی مریم اور اُس کی امی کے گرد گھوم رہی تھی یاسمین نے بلی کے اوپر بھی پیار سے ہاتھ پھیرا اور بولی آج اداسی’ بے بسی ‘ غُربت ‘ بدن کی دیواروں سے نظر آنے لگی ہے انسانوں کی تو الگ بات ہے جانور بھی درد میں شامل ہیں اور آنسو صاف کرنے لگی مریم چلو کھانا کھاتے ہیں تمہاری بلی کو بھی بھوک لگی ہوگی نا اور مُسکرانے لگی یہ سُن کے مریم کے چہرے پہ بھی ہلکی سی مُسکراہٹ آگئی اور کھانا کھانے لگی ماں پتہ ہے آج چھوٹی مالکن کی دوست آئی تھی اُس نے بہت اچھی چوڑیاں پہنی تھیں اب جب مالکن پیسے دے گی نا میں چوڑیاں لُوں گی مالکن کہہ رہی تھی کُچھ دن بعد پیسے دیگی یاسمین نے مسکراتے ہوئے کہا اچھااگلے دن پھر مریم کام پہ جانے لگی تو اُس نے شفا کو آتے دیکھا اور رُک گئی مریم کدھر جا رہی ہو شفا نے بولاباجی مالکن کے گھر کام پہ۔

یہ سُن کے شفا نے مریم کو بولا کہ مجھے اپنے گھر نہیں لے کے جاؤ گی
باجی یہی میرا گھر ہے آپ میری ماں سے مل لو. میں اگر دیر سے گئی مالکن مارے گی شفا نے آگے بڑھ کے اُسے اپنے ساتھ لگا لِیا پیار سے اور کہا کچھ نہیں کہتی تمہاری مالکن آؤ تمبشفا مریم کے گھر گئی سب حالات کے بارے میں یاسمین سے بات کی اور مریم کو اپن ساتھ لے جانے کو بولا یاسمین مان گئی پھر شفا نے مریم کو اپنے گھر میں ہی رکھ لیا شفا مریم کے لئیے بہت سی چوکلیٹ کپڑے چوڑیاں لے کے آئی تھیمریم بہت خوش تھی شفا کا گھر بھی مالکن کے گھر کے پاس تھا۔

مریم اب روز جاتی کام کے ساتھ شفا کی بیٹی کے ساتھ کھیلتی اور پڑھتی بھی تھی گزارش ہے جو بھی کوئی کام کے لئیے لڑکی رکھیں اُن کو اپنی بیٹیوں کی طرح رکھیں اُن کی ضرورت کا خیال رکھیں کیونکہ کسی نہ کسی مجبوری کے تحت ہی سب کام کرتے ہیں۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *