عورت ڈاکٹر کے پاس آ کر کہنے لگی ڈاکٹر صاحب

ایک عورت ڈاکٹر کے پاس آئی تو ڈاکٹر پوچنے لگا جی بی بی آپ کو کیا مسئلہ ہے , عورت کہنے لگی ! ڈاکٹر صاحب میرا بیٹا ہے بہت چھوٹا ہے اور وہ کچھ کھا پی نہیں سکتا ۔ میرا دودھ اس کو پورا نہیں ہوتا ۔ اور بیٹا اکثر بھوکا رہ جاتا ہے ۔

دودھ نہیں اترتا ۔ آپ کوئی ایسی دوا لکھ دیں کہ میرے بیٹے کا پیٹ بھر جایا کرے ۔ ڈاکٹر نے عورت کی بات سننے کے بعد ایک پر پی لی ۔اور اس پر کچھ لکھنا شروع کر دیا اور پھر عورت سے کہنے لگا یہ لو پر پی اور یہ انجکشن لگواتے رہنا ۔ عورت نے پر چی لی اور ڈاکٹر کا بتایا ہوا انجکشن لگوانا شروع کر دیا ۔ انجکشن لگوانے سے بہت فائدہ ہوا اور عورت کے بیٹے کا پیٹ بڑھنے لگا لیکن وہ عورت اپنے جسم میں بہت درد محسوس کرنے لگی ۔

کچھ دن بعد وہ عورت دوبارہ ڈاکٹر کے پاس آئی اور کہنے گی ! ڈاکٹر صاحب آپ کابتایا ہوا انجکشن لگوانے سی فائدہ تو بہت ہوا ۔ اب میرے بیٹے کا پیٹ بھر جاتا ہے , لیکن ڈاکٹر صاحب میری ہڈیاں بہت درد کرتی ہیں , بدن ٹوتا ہے ۔ ڈاکٹر کہنے لگا تو ایسا کرو آپ ا انجکشن لگوانا بند کر دو ۔ عورت کہنے لگی نہیں ڈاکٹر صاحب اگر میں نے انجکشن لگوانا بند کر دیا تو میرا بیٹا بھوکا رہ جاۓ گا ۔ یہ کہہ کر وہ عورت وہاں سے چلی گئی ۔پچیں سال کے بعد ماں کے کراہنے کی آواز سن کر بیٹا ساتھ والے کمرے سے اٹھ کر آ گیا ۔ اور بولنے لگا ! اماں کیا ہوا ہے کیوں اتنا شور کرتی رہتی ہو ۔

ماں بولنے گی ! بیٹا ہڈیاں درد کر رہی ہیں , بدن ٹوٹ رہا ہے , بیٹا کہنے لگا ! اماں تم نے پھر کچھ الٹا پلٹا کھا لیا ہو گا ۔ ناخود سوتی ہو اور نہ ہمیں سونے دیتی ہوں یہ سن کر ماں کے دل میں کیا گزری ہو گیجس کی ہڈیاں اسی بیٹے کی وجہ سے درد کر رہی تھیں , اللہ تعالی سب کی ماؤں کو سلامت رکھے ۔ آمین

Categories

Comments are closed.