علماءکرام کی صحبت

یان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے ایک عالمہ عورت سے شادی کر لی ، اس عورت نے پہلے دن ہی کہہ دیا کہ دیکھو میں ایک پڑھی لکھی عالمہ ہوں اس لیئے ہم اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق بسر کریں گے ، یہ سن کو شوہر خوش ہوا کہ چلو یہ تو اچھا ہے بیوی کی وجہ زندگی میں اسلام کا نفاذ ہو گا بچے بھی نیک سیرت ہوں گے ۔ ! کچھ دن تو خیر سے گزرے پھر ایک دن اس عورت نے اپنے شوہر سے کہا کہ دیکھو شریعت میں بیوی پر ساس اور سسر کی خدمت واجب نہیں ہے ۔ اور

مرد کو عورت کے لیے الگ مکان بھی لینا ہوتا ہے اس لیئے میرے لیئے الگ گھر کا بندوست کرو ۔ یہ سن کر وہ شخص بہت پریشان ہوا کہ چلو الگ گھر لینے میں تو کوئی مشکل نہیں پر میرے بوڑھے ماں باپ کا کیا ہو گا ؟ وہ کیسے اپنی گزر بسر کر میں ۔اسی کشمکش میں وہ اپنے ایک بزرگ عالم دین دوست کے پاس گیا اور انہیں اپنا مسئلہ بتایا ۔ اس شخص کی بات سن کر عالم صاحب نے کہا کہ بھائی بات تو وہ ٹھیک کرتی ہے یہ سنتے ہی وہ شخص بولا جناب میں آپ سے اس کا فتوی لینے

نہیں آیا بلکہ اس کا حل پوچھنے آیا ہوں کہ اب کیا کروں ؟ بزرگ نے کہا تم پریشان نہ ہو میرے پاس اس کا ایک حل ہے ، تم جاکر اپنی بیوی سے کہو کہ اسلام میں مرد کو دوسری شادی کرنا بھی جائز ہے اس لیئے میں ایک اور عورت سے شادی کر رہا ہوں وہ میرے والدین کی خدمت بھی کرے گی اور میرے ساتھ رہے گی جبکہ تمھاری فرمائش کے مطابق میں تمھارے لیے علیحدہ مکان کا بند وست کر دوں گا ۔۔ اس شخص کو عالم کی بات سن کر کافی سکون ملا اور بزرگ کا

شخص کو عالم کی بات سن کر کافی سکون ملا اور بزرگ کا شکر یہ ادا کر کہ سیدھا گھر آیا اور بیوی سے وہی بات کہی جو عالم نے بتانے کو کہی تھی ، جب بیوی نے سنا تو چکرا گئی اور فوراً اپنے شوہر سے کہا کہ ٹھوڑو دوسری شادی کو ، تمہارے والدین میرے بھی والدین ہیں ان کی خدمت کرنا مجھ پر بھی لازم ہے ۔ عزیز دوستوں واقعہ بیان کرنے کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کبھی کبھی علماء کرام کی صحبت بھی اختیار کر لیا کر میں ہر مسئلے کا حل  پر نہیں ہوا کرتا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *