عبید بن قیس کی بیوی نے شوہر کو یقین دلایا ہوا تھا کہ وہ بہت نیک

عبید بن قیس نامی شخص سارا دن محنت مزدوری کرنے کے ۔ بعد جب گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی زار و قطار رو رہی ہے عبید نے اپنی بیوی سے رونے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگی کہ میں ایک باحیا اور باکردار عورت ہوں مجھے یہ بالکل گوارا نہیں کہ مجھے میرے شوہر کے علاوہ کوئی اور دیکھے شوہر نے ۔ مزید کے سامنے جو تفصیل جاننا چاہی تو بیوی کہنے لگی ہمارے گھ درخت ہے اس کا نچل توڑنے کے لئے ایک شخص روز درخت پر چڑھتا ہے جس کی نظر ہمارے صحن میں پڑتی ہے جہاں میں کام کاج میں مصروف ہوتی ہوں اور دوسرا یہ کہ ہمارے گھر کی جو کھٹڑ کی ہے نہ وہ خراب ہو چکی ہے جس کی وجہ سے گلی سے گزرنے والے ہر آدمی کی نظر ہمارے گھر میں پڑتی ہے وہ کھٹڑ کی بھی بند کرواد میں عبید بن قیس بہت خوش ہوا کہ میری بیوی بہت وفادار اور باحیا ہے میری عزت کی محافظ ہے ۔ شوہر نے وہ درخت کاٹ دیا اور وہ کھڑ کی بھی بند کر دی جس کی بیوی نے

شکایت کی تھی کہ اس کھڑکی سے مجھ پر راہگیروں کی نظر پڑتی ہے اور میں بے پردگی محسوس کرتی ہوں ۔ لیکن چند دن کے بعد ں ایک ایسا دلخراش واقعہ پیش آیا کہ جس نے اس شخص کو اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ اپنا سامان لے کر کسی دوسرے شہر چلا گیا ۔ ایک دن عبید بن قیس مزدوری کرنے کی بجاۓ جلدی گھر واپس لوٹ آیا اور کیا دیکھتا ہے کہ اس کی باحیا بیوی کسی غیر مرد کے ساتھ لیٹی ہوئی ہے اور دونوں زنا کی حالت میں بستر پر ہیں یہ دیکھ کر عبید سمجھ گیا کہ اس کی بیوی نے درخت اور کھٹڑ کی اس لئے بند کروائی تھی کہ کوئی اس عورت کو برائی کرتے ہوۓ دیکھ نالے اور میری بیوی نے مجھ سے یہ سب اس لیے کروایا کہ مجھے اس کی وفا کا یقین رہے ، خیر وہ بہت ں افسردہ ہوا اور اپنا کچھ ضرورت کا سامان اکٹھا کیا جو صرف دو مشتمل تھا اور اپنا گھر چھوڑ دیاد عبید پیدل چلتا چلتا کسی سیکر پر دوسرے علاقے میں پہنچ گیا وہ رستے میں یہ سوچتا جارہا تھا کہ میری بیوی جو مجھ سے اپنی پارسائی سچائی اور وفاداری کا دعوی کرتی تھی اس نے میرے ساتھ کیا کیا ایسے ہی چلتے چلتے جب وہ کسی دوسرے علاقے میں پہنچا تو وہاں کافی لوگ جمع تھے ۔ وہاں سپاہی ہر کسی کی تلاشی لے رہے تھے جب تلاشی ہو رہی تھی تو وہ شخص کافی حیران تھا کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔ تلاشی سے فارغ ہونے کے بعد اس نے لوگوں سے معلوم کیا

کہ آخر وجہ کیا ہے کیوں اس طرح لوگوں کی تلاشی لی جارہی ہے لوگوں نے بتایا کہ یہاں کا حکمران یعنی جو بادشاہ ہے اس کا بڑی تعداد میں خزانہ چوری ہو گیا ہے اور اب اس خزانے کی تلاش کی جا رہی ہے ۔ اس نے یہ بات سنی اور کہا اچھا یہ معاملہ ہے اور پھر وہ شخص اپنا سر نیچے کر کے چلنے لگا ۔ اچانک اس نے دیکھا کہ ایک شخص انتہائی لمبا جبا پہنے بڑے محتاط انداز سے جا رہا تھا جب اس نے قریب جا کر اس کے پاؤں کی طرف دیکھا تو وہ شخص اپنے پاؤں کی انگلیوں پر چل رہا تھا یعنی اپنی ایڑیاں اٹھا کر کر چل رہا تھا ۔ جب اس نے لوگوں سے اس شخص کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے جواب دیا کہ یہ یہاں کا بہت نیک انسان ہے اور ہر شخص اس سے سلام لے رہا تھا اور یہ اپنی انگلیوں پر اس لئے چل رہا ہے کہ اس کا ماننا ہے کہ کہیں خدا کی تخلیق کردہ مخلوق میرے پاؤں تلے آکر مر نہ جائے کیونکہ کوئی

چیونٹی کوئی کیڑا اس کے پاؤں تلے آ کر مسلہ نہ جائے یہاں کے بادشاہ یہاں کے وزیر یہاں کے تاجر یہاں کے عام لوگ ہر قسم کے لوگ اس شخص سے دینی مشورے لینے کے لئے اور علم کی بات جاننے کے لیے جاتے ہیں اس لیے اس شخص کی اتنی زیادہ عزت واحترام ہے لوگوں کے مطابق یہ بہت علم والا انسان ہے ۔ یہ بات سنتے ہی اس شخص نے قسم کھا کر کہا کہ مجھے بادشاہ کے پاس لے چلو مجھے پتا چل گیا ہے کہ بادشاہ کے خزانے کا چور کون ہے ۔ سپاہی عبید بن قیس کو بادشاہ کے دربار میں لے گئے وہ شخص جنس کو اپنی بیوی سے دھو کا ملا تھا اس سے سوال کیا گیا کہ بتا وہ شخص کون ہے جس نے بادشاہ سلامت کا خزانہ چوری کرنے کی ہمت کی داس پر عبید بن قیس نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت وہ شخص جو اپنے پاؤں کی انگلیوں پر چلتا ہے اس نے آپ کا خزانہ چوری کیا ہے یہ بات سن کر بادشاہ کی حیرت کی انتہا نہ رہی اور اس نے کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ تو بڑا نیک اور پار سا انسان ہے تم ایسا کیسے کہہ سکتے ہو کہ اس نے ہی خزانہ چوری کیا ہے اس شخص نے کہا کہ ں بادشاہ سلامت چور وہی ہے میں آپ کو صحیح بتا رہا ہوں کیونکہ جب نیکی اور دین کے کاموں میں مبالغہ آرائی آنا شروع ہو جاۓ اور سارے اعمال میں دکھاوا نظر آنا شروع ہو جاۓ تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے اندر کوئی نہ کوئی دال میں کچھ کالا ضرور ہے داسکے دکھاوے کی وجہ سے وہ سب چیزیں صحیح نظر آرہی ہوتی ہیں مگر اصل میں ان کے اندر کچھ معاملات گڑ بڑ

ضرور ہوتے ہیں اور وہ شخص جو اپنی نیکی اور اپنی پاکدامنی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ میں بہت نیک پار سا اور دین والا انسان ہوں اور ریاکاری کرتا ہے تو حقیقت میں وہ اندر سے کھوکھلا ہوتا ہے ، کیونکہ در حقیقت اللہ والے اپنی نیکی کا مظاہرہ نہیں کرتے وہ تو اپنی نیکی کو چھپاتے ہیں ۔ بادشاہ سلامت نے اس بندے کے دلائل سن کر فوری طور پر حکم جاری کیا کہ فوری طور پر اس شخص کو پکڑ کر لایا جاۓ اور اس کی تلاشی لی جاۓ جب بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی گئی اور اس نیک آدمی کو پکڑ کر لایا گیا تو واقع ہی وہ بادشاہ کے خزانے کا چور نکلا ۔ دوستو اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو شخص دینی معاملات میں دکھاوا اور ں ریا کاری کرتا ہے کہ وہ بہت نیک انسان ہے اور وہ لین دین کے معاملے میں انتہائی برے طریقے سے پیش آتا ہے تو وہ ۔ شخص کبھی بھی نیک نہیں ہو سکتا اللہ کے نیک بندے تو وہ ہیں جو کسی سے بھلائی بھی کریں تو اس کا دکھاوا نہیں کرتے ۔

Categories

Comments are closed.