صرف 10دنوں میں یورک ایسڈ کی بیماری کا شرطیہ خاتمہ کریں

صرف 10دنوں میں یورک ایسڈ کی بیماری کا شرطیہ خاتمہ کریں

ہوتا ہے جن میں موجود ہوتا ہے ۔ پیورن کچھ کھانوں میں بڑی مقدار میں موجود ہوتا ہے جن کو کھانے کے نتیجے میں خون میں پیورن شامل ہوجاتا ہے ان کھانوں میں سرخ گوشت ، مچھلی ،اور دالیں شامل ہیںعام طور پر گردوں کا کام یورک ایسڈ کو جسم سے خارج کرنا ہوتا ہے لیکن بعض اوقات ہماری غذا میں جب ایسی اشیا شامل ہو جائيں جن میں پیورن کی مقدار زيادہ ہوتی ہے تو اس سے یورک ایسڈ جسم سے خارج ہونے کے بجاۓ جسم ہی میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔جسم میں یورک ایسڈ کے بڑھنے کی وجوہاتجسم کے اندر یورک ایسڈ کی شرح کے بڑھنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے سب سے بنیادی وجہ غذا میں بے اعتدالی ہے اور ایسی غذا کا استعمال ہے جو کہ پیورن سے بھر پور ہوتی ہے۔اس کے علاوہ کچھ افراد کے اندر بلند شرح یورک ایسڈ ان کو وراثتی طور پر بھی ملتی ہے ۔ موٹاپا اور طویل عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہنا بھی خون میں یورک ایسڈ کی شرح کو بڑھا دیتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں کے شکار افراد کے خون میں بھی یورک ایسڈ کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے جن میں گردوں کی خرابی کےمریض ، ذیابطیس کے مریض ، کینسر کی ٹریٹمنٹ لینے والے مریض وغیرہ شامل ہیںیورک ایسڈ کی بلند شرح کے جسم پر اثراتایک نارمل خاتون میں یورک ایسڈ کی شرح 4۔2 سے لے کر 6 تک ہونا چاہیۓ جب کہ ایک نارمل مرد میں یہ شرح 4۔3 سے 7 تک ہو سکتی ہے ۔ اس مقدار سے زیادہ مقدار بلند شرح یورک ایسڈ کہلاتی ہے اور یورک ایسڈ خون کے اندر کرسٹل کی صورت میں جمع ہو جاتا ہے جو کہ بعد میں جوڑوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے جس کو گٹ کی بیماری بھی کہتے ہیں ۔ یہ جوڑوں میں شدید درد کا باعث ہوتی ہے اس سے جوڑ سوج جاتے ہیں اور چلنے پھرنے میں خصوصا گھٹنوں اور پیروں میں درد کا باعث ہوتی ہےاس کے علاوہ یہ کرسٹل بعض اوقات گردوں میں جمع ہو کر گردوں کی پتھری کا باعث بھی بن سکتے ہیں ۔یورک ایسڈ کی تشخیصیورک ایسڈ کی شرح کو جانچ کرنے کے لیۓ خون کے ایک میڈیکل ٹیسٹ کی ضرورت ہوتی ہے جس سے خون میں یورک ایسڈ کی شرح کو جانچا جا سکتا ہےیورک ایسڈ کو کم کرنے کے قدرتی طریقےیورک ایسڈ کی بلند شرح کو یا پھر اس شرح کو بڑھنے سے روکنے کے لیۓ کچھ ایسے طریقے موجود ہیں جن کی مدد سے اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہےزيادہ پیورن والی غذاؤں سے احتیاط جیسا کہ شروع میں بھی بتایا گیا ہے کہ ایسی غذائيں جن میں پیورن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے وہ یورک ایسڈ کی شرح میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں اس وجہ سے ایسی غذاؤں کے استعمال میں اعتدال بہت ضروری ہے ۔اس وجہ سے زیادہ گوشت والی غذائيں ، سبز پتوں والی پھلیوں گوبھی وغیرہ کے استعمال میں خصوصی احتیاط کرنی چاہیۓزيادہ میٹھے سے پرہیزویسے تو یورک ایسڈ کی شرح میں اضافہ ان غذاؤں کی وجہ سے ہوتا ہے جو کہ پروٹین سے بھر پور ہوتی ہیں مگر اب حالیہ تحقیق کے مطابق زيادہ میٹھی اشیا کا استعمال بھی اس کو بڑھانے کا باعث بن سکتی ہیں اس وجہ سے زيادہ میٹھا کھانے سے اور خاص طور ہر آرٹیفیشل مثھاس والی اشیا کے استعمال سے پرہیز کر کے یورک ایسڈ کے لیول کو برقرار رکھا جا سکتا ہے ایسے تمام مشروبات جن میں آرٹیفیشل مٹھاس اور سوڈا موجود ہوتا ہے خون میں یورک ایسڈ کو بڑھانے کا ایک بڑا سبب قرار دی جا رہی ہیں اس کے علاوہ ایسے تمام پھلوں کے جوس جو کہ پروسیز کر کے بناۓ جاتے ہیں خون میں شوگر کے لیول کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں اور اس سے یورک ایسڈ کی شرح میں اضافہ ہوتا ہےزيادہ سے زيادہ پانی پیئيںپانی جو کہ آسانی سے میسر ہے اس کو اللہ تعالی سے یہ تاثیر بخشی ہے کہ وہ صحت کے بہت سارے مسائل کو حل کر سکتا ہے ۔ یورک ایسڈ کی بلند شرح کو کم کرنے میں پانی بہت معاون ثابت ہوتا ہے اس کا زیادہ سے زيادہ استعمال گردوں کے افعال کو بہتر بناتا ہے ۔ پانی گردوں میں جمع یورک ایسڈ کو دھو ڈالتا ہے اور اس کو جسم سے خارج کر دیتا ہےوزن کم کریںوزں میں اضافے کا مطلب ہے جسم میں فیٹ سیلز کا جمع ہونا ہوتا ہے ۔ یہ سیلز دوسرے خلیوں کے مقابلے میں زيادہ یورک ایسڈ بناتے ہیں اس وجہ سے موٹاپا یورک ایسڈ کی شرح میں اضافے کا باعث ہوتا ہے ۔ اس کو کم کرنے کےلیۓ وزن کم کرنا بہت ضروری ہے وزن میں اضافے کے باعث گردوں کو بھی اس حوالے سے دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور وہ فاضل مادے جسم سے خارج نہیں کر پاتا ہے جس سے خون میں یورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہےفائبر والی غذاؤں کا استعمالزیادہ فائبر والی غذاؤں کا استعمال جسم سے فاضل مادوں کو خارج کرنے میں بہت معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ زیادہ فائبر والی غذائيں خون میں شوگر اور انسولین کے لیول کو بھی اعتدال میں رکھنےمیں معاون ثابت ہوتی ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس کی شرح کم ہو سکتی ہےذہنی دباؤ سے بچنے کی کوشش کریںذہنی دباؤ ، نیند کی کمی اور سست طرز زندگی بھی جسم کے اندرونی سوزش کا باعث بنتی ہے جس کے سبب جسم میں اس کی شرح بڑھ جاتی ہے ۔ذہنی دباؤ سے نجات کے لیۓ سانس لینے کی مشقیں اور یوگا وغیرہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ بہترین نیند اس کے لیۓ معاون ثابت ہو سکتی ہےڈاکٹر سے کب رجوع کرنا چاہیےتیس سال کی عمر کے بعد عام طور پر مردوں اور عورتوں کے جوڑوں میں ہونے والا درد اور سوزش یورک ایسڈ کی شرح میں اضافے کی نشانی ہو سکتی ہے جس کے لیۓسے رجوع کرنا چاہیے اور اس کی ہدایات کے مطابق اس کا ٹیسٹ کروا لینا چاہیۓ

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *