صرف ایک لونگ دس بیما ریاں جڑ سے

دوستو میں آج آپ کے لیے ایک ایسی چیز لے کر آ یا ہوں اگر آپ نے اس چیز کا صحیح استعمال کرنا شروع کر دیا

تو آپ کے جھڑتے بال جھڑ نا بند ہو جائیں گے۔ اگر آ ٌپ کو سٹریس رہتا ہے۔ تو وہ بھی کم ہو جائے گا۔ دانتوں میں درد رہتا ہے تو وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ سرد درد بھی ختم ہو جائے گا۔ سب ہی طرح کی بیماریاں ختم ہو سکتی ہیں اس ایک چیز سے۔ تو آپ اس ویڈیو کو پورا دیکھیے اور سمجھیے کہ کیسے اپنے لائف سٹائل کو چینج کر نا چاہیے ۔ تا کہ یہ بیما ریاں خود بخود ختم ہو جا ئیں۔ یہ جو شو گر کی بیماری ہے جس کے بارے میں ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ یہ لا علاج ہے ۔ اس کا کوئی علاج ہی نہیں ہے اور یہ ختم بھی نہیں ہو گی لیکن میں آج آپ کو بتاؤں گا اس کا علاج۔ جڑ سے ختم کر سکتے ہیں شوگر کو ۔

لیکن آپ کو ڈرا یا جاتا ہے ۔ کیوں ڈرایا جاتا ہے تا کہ کمپنیز کا بزنس چلتا رہے۔ دوستو ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن سے آپ شو گر کو، بلڈ پر یشر کو، جسم کی ہر بیماری کو ختم کر سکتے ہیں ۔ وہ بھی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ذریعے۔ دوستوں اس بات کو آ پ ایسے سمجھیں کہ جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو شوگر کیس میں ڈاکٹر آپ سے کہتا ہے کہ آپ کے خون میں شوگر کا لیول بڑھا ہوا ہے۔ کیوں بڑھا ہے ؟ کیسے بڑھا ہوا ہے؟ وہ آپ کو کچھ نہیں بتا تا۔ وہ آپ کو کچھ نہیں بتا تا۔ وہ آپ کو کہے گا کہ میٹھا کھانے کی وجہ سے بڑھا ہے۔ لیکن دوستو میٹھا کھانے سے شوگر نہیں ہوتی۔ اس بات کا یقین سمجھیں ۔ اور شوگر کیوں ہوتی ہے۔ تو یہ ہوتی ہے آپ کے ہارمونز کے بیلنس کی وجہ سے ۔

کون سے ہا رمونز سے ، انسو لین کے ہا ر مو نز ،اگر یہ ہا رمونز کم بننے لگتے ہیں تو آپ کو شو گر ہو جاتی ہے تو ذرا آپ اس کی مین وجہ کو سمجھ جائیں اور اگر سمجھ گئے تو یہ سمجھ بھی جائیں گے کہ انکو بڑ ھا یا کیسے جائے۔ بہت ہی آسان ہے۔کوئی اتنا مشکل نہیں ہے۔ ہماری با ڈی میں ہا ر مونز کم بننے کا مین وجہ یہ ہے کہ ہم دھو پ میں نہیں نکلتے ۔ لیکن دوستو ہمارا جسم دھوپ میں رہنے کے لیے بنا ہے۔ دھوپ سے بچنے کے لیے نہیں۔

اگر آپ دھو پ میں رہتے ہیں تو آ پ کو شو گر ہو ہی نہیں سکتی ۔ لیکن آج کل ہم لوگ ما ڈرن جنریشن ہیں۔ ہم لوگ گھروں کے اندر رہنا زیادہ پسند کر تے ہیں۔ بند دروازوں، بند کھڑکیوں میں رہتے ہیں تو اس صورتحال میں سورج کی دھوپ ہمارے جسم کو نہیں ملتی ۔ جب یہ دھوپ آپ کے جسم کو نہیں ملے گی تو اس سے آپ کے جسم میں وٹامن ڈی کی کمی ہو گی۔

Categories

Comments are closed.