شیطان کی انگلی سے پورا شہر تباہ

پ میرے ساتھ ذرا بازار تک چلئے بزرگ اس کے ساتھ چل پڑے ۔ شیطان انہیں ایک حلوائی کی دکان پر لے گیا۔اس نے بزرگ کو ایک سائیڈ پر کھڑا کیا ، حلوائی کی شیر ے والی کڑاہی میں انگلی ڈبوئی اور یہ انگلی سامنے دیوار پر لگا دی دیوار پر شیرے کا ایک دھبہ سابن گیا ، بزرگ نے دیکھا چند لمحوں میںشیرے کے دھبے پر مکھیاں جمع ہو گئیں ،

دیوار کے دوسرے کونے پر ایک چھکلی بیٹی تھی ، چھپکلی نے مکھیاں دیکھیں تو وہ ان کی طرف لپکی ، حلوائی کے سٹول کے لیے ایک بلی تھی بلی نے چھپکلی دیکھی تو وہ سٹول کے نیچے سے نکلی اور اس نے چھپکلی پر جمپ لگا دیا ۔ اس دوران بازار سے ایک وزیر کا نوکر کتالےکر گزر رہا تھا ، کتے نے بلی دیکھی تو اس نے ری چھڑا کر بلی پر حملہ کر دیا ، بلی دکان کے اندر بھاگ گئی لیکن کتا مٹھائی پر چڑھ گیا اور اس نے ساری مٹھائی خراب کر دی ، حلوائی کو غصہ آگیا ، اس نے جلیبیاں ملنے والا چھانٹا کتے کے سر پر دے مارا کتے نے چیخ ماری اور بازار میں گر کر دم توڑ دیا وزیر کا نوکر بھاگتا ہوا آیا ، اس نے حلوائی کو گریانسے پکڑا اور اسے بازار سے نکال کر مارنے لگا ۔ حلوائی کے ملازم شور سن کر باہر آئے اور انہوں نے وزیر کے نوکر کو مارنا شروع کر دیا ۔ اتنے میں اس لڑائی کی اطلاع وزیر کے دفتر تک پہنچ گئی

، وزیر نے اپنے سپاہی بازار کی طرف دوڑادیئے سپاہی حلوائی کی دکان پر پہنچے اور وہ حلوائی کے نوکروں کو مارنے لگے ، یہ زیادتی دیکھ کر دوسرے دکانداراپنی دکانوں سے باہر نکلے اور انہوں نے سپاہیوں کو مارنا شروع کر دیا ۔ قصہ مختصر یہ لڑائی چند لمحوں میں پورے شہر میں پھیل گئی اور درجنوں افراد دیکھتے دیکھتے زخمی ہوگئے ۔ بزرگ شیطان کے ساتھ کھڑے ہو کر حیرت سے سارا تماشا دیکھ رہے تھے ، شیطان نے آخر میں ان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا کیوںکیوں صاحب کیسا لگا بزرگ نے پوچھا کیا ہے سارا تمہاراشیطان کی انگلی کا کھیل تھا شیطان نے قہقہہ لگایا اور بولا نہیں ، یہ سارا غصے منافقت ، حسد ، انتقام کا کھیل تھا ۔ بزرگ نے پوچھا کیا مطلب ؟ شیطان بولاءاللہ نے انسان میں نے انتظام ، حسد کا ۔ جذبہ رکھا ہے ، جب کسی شخص کسی طبقے شہر یا قوممیں یہ جذبے بڑھ جائیں

تو اس پوری قوم ، اس پورے شہر کو تباہ کرنے کیلئے میری انگلی کا ایک دھبہ کافی ہوتا ہے ۔ ” بزرگ خاموشی سے سنتے رہے ، شیطان بولا ” دنیا میں یہی جذبے میرے گھر میں اور جس شخص کے اندر یہ جذبے موجود ہوں میں اس کے اندر سے بھی نہیں نکلتا ۔ ۔بزرگ سنتے رہے شیطان بولاء لیکن جو قوم اور انسان اپنے غصے غ اور اپنے انتقام پر قابو پالے ، میں اس شخص اور اس قوم سے ہمیشہ ں ہمیشہ کیلئے دور ہو جاتا ہوں

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *