شوگر، موٹاپا اور کینسر سمیت موذی بیماریوں کا

اس دنیا میں سب سے زیادہ امراض انسان کی جان کے درپر ہیں۔ سوائے انسانی جان کے کسی بھی کم قیمت پر متفق نہیں ہوتے۔

وہ شوگر، موٹاپا اور کینسر ہیں۔ اور یہ ایسے موذی امراض ہیں جو ایک بار لگ جاتے ہیں۔ اور ہٹنے کا نام نہیں لیتے۔ اور یہ انسان کو قب ر کے اندر پہنچا کر ہی دم لیتے ہیں۔ اسی طرح ان امراض کے علاج اتنا مہنگا ہے کہ عام آدمی اس کے علاج سے قاصرہو جاتا ہے۔ آج آپ کو ایک ایسی چیز کے بارے میں بتائیں گے ۔ جو ان تینوں بیماریوں کا علاج ہے انتہائی سستی ہے۔اور ہر جگہ آسانی سے دستیاب بھی ہوجاتی ہے۔ زمین پر جا بہ جا پھیلی جڑی بوٹیاں قدرت کا بہت ہی انمول تحفہ ہیں۔ اور ان میں شفاکے اثرات بدرجہ موجود ہیں۔ انہی میں سے اسپغول بھی ایک مشہور پودا ہے۔ اس کے بیج اور چھلکا دونوں ادویاتی طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔

اسپغول میں پانی جذب کرنے والا ایک ایسا مادہ پایا جاتا ہے جو پانی کی موجودگی میں پھول جاتا ہے اورجیلی جیسا بن جاتا ہے ۔ اسپغول کا چھلکا آنتوں اور معدے کو نرم بنانے اور فاسد مادوں کو اپنے ساتھ ملا کر خارج کرنےوالا پیشاب آور جزو ہے۔ دائمی قبض کو ختم کرنے کا قدرتی ذریعہ ہے۔ معدے کی تیزابیت میں انتہائی مؤثر ہے۔ اور پیاس میں تسکین دیتا ہے۔ اسی طرح ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے ، شوگر، موٹاپے اور کینسر سمیت پانچ موذی امراض میں علاج کا درجہ رکھتا ہے۔ اسپغول کی مدد سے باآسانی وز ن میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ یہ گیس اور بدہضمی میں مفید ہے۔ اسپغول اسہال او راس کی وجہ سے ہونے والی پانی کی کمی کو دور کرتا ہے جبکہ اسپغول بڑی آنت کے کینسر کے خلاف بھی مؤثر ہے۔ خ ون میں شکر کی سطح اور انسولین باقاعدگی رکھ کر کولیسٹرول کی سطح کو بہتر بناتا ہے۔

اسپغول استعمال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک گلاس پانی یا دودھ میں بھگو کر آدھا گھنٹے کےلیے رکھ دیں۔ا ور رات سونےسے پہلے پی لیں۔ معروف اطباء بھی اسپغول کی ان بیماریوں کے خلاف کارکردگی کے قائل ہیں۔ اور معدے اور قبض کے مریضوں کو دیے جانے والے نسخہ جات میں اسپغول کو لازمی درج کرتے ہیں۔ا سپغول گرمیوں میں جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیاجاتا ہے۔ اسپغول مزاج کے اعتبار سے سرد ترین ہے۔ اس لیے بہت زیاد ہ سرد موسم میں اس کے استعمال سے صرف اور صرف ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق کیا جائے۔ تاکہ نزلے اور زکام جیسے بیماریوں کا سامنانہ کرنا پڑے۔ گرم مزاج والے لوگ اس کو رات پانی میں بھگو کر صبح چینی ، سادہ شربت، شکنجبین یا بازار میں ملنے والے مشروبات مثلاً روح افزاء یا جام شیریں سے میٹھا کر کے بطور ایک خوش ذائقہ بناکر بھی پی سکتےہیں۔

اس طریقہ پر اسپغول کےاستعمال دن میں حسب خواہش کئی مرتبہ بھی ہوسکتا ہے۔ گرم مزاج والے لوگ اسپغول کی کھیر بھی بنا کر استعمال کرسکتےہیں۔ تقریباً نصف کلو پانی میں دو سے تین اسپغول ثابت یا چھلکا اسپغول ڈال کر آگ پر پکائیں اور حسب ضرورت اس میں دودھ اور چینی کا اضافہ کریں۔ اور جب یہ کھیر گاڑھا ہوجائے تو اتار کررکھ لیں۔ نیز پانی کی جگہ دودھ بھی استعمال کرسکتےہیں۔ گرم مزاج والے لوگ اس خوش ذائقہ کھیر کو برف کے ساتھ ٹھنڈا کرکے کھاسکتے ہیں۔ جبکہ سر د مزاج والے اسے نیم گرم صورت میں ہی استعمال کریں۔ نیز سرد مزاج نیم گرم پانی یا نیم گرم دودھ یا چائے کے ہمراہ استعمال کریں۔ یا ان چیزوں میں حل کرکے پی لیں۔ یا نیم گرم پانی وغیرہ میں حل کرکے شربت بنفشہ یا چینی سے شیریں کرکےپئیں۔ جیسا کہ پہلے آپ کو بتا چکے ہیں۔ کہ گرم مزاج والے لوگ اسےٹھنڈے مشروب کی صورت میں استعمال کرسکتے ہیں۔ا سی طرح اسے موسم گرما میں مذکورہ طریقے سے استعمال کرایا جاسکتا ہے۔

Categories

Comments are closed.