شاه ایران محمد رضا پہلوی کو اپنے اقتدار پر اتنا اعتماد تھا کہ انہوں نے

شاہ محمد رضا پہلوی کو اپنے اقتدار پر اتنا اعتماد تھا کہ انہوں نے اپنے لیے شہنشاہ کا لقب اختیار کیا انہوں نے اپنی ابتدائی دو بیویوں کو صرف اس لیے طلاق دے دی کہ وہ ان کے لیے وارث سلطنت پیدا نہ کر سکیں آخر میں انہوں نے تیسری بیوی فرح دیبا سے اکتوبر 1960 ء میں شادی کی ان کے بطن سےولی عہد رضا پیدا ہوۓ

مگر اس کے بعد خود شاہ کو سلطنت چھوڑ کر جلاوطن ہو جانا پڑا نیاران پیلس کی تعمیر 1958 ء میں شروع ہوئی شہنشاہ ایران محمد رضا پہلوی نے دنیا بھر کی نایاب اشیاء اس میں جمع کیں اور دس سال بعد 1968 ء میں اس میں رہائش پذیر ہوئے انقلاب ایران تک وہ اس محلمیں اپنی ملکہ فرح پہلوی کے ہمراہ مقیم تھے اور ہیںسے انھیں ملک بدر ہونا پڑا محل کی ہر چیز کو محفوظ کر دیا گیا ہے اس محل کے ساتھ ایک اور قدیم محل موجود ہے جو قاچار خاندان کے زیر استعمال رہا تھا

اور بعد میں شہنشاہ ایران نے اسے اپنے سرکاری آفس میں تبدیل کر لیا تھا ۔ مختلف اسباب کے تحت ایران میں خمینی انقلاب آیا 16جنوری ، 1979 ء کو شاہ محمد رضا پہلوی ایران سے باہر جانے کے لیے اپنے خصوصی ہوائی جہاز میں داخل ہوئے تو وہ زار و قطار رو رہے تھے ملک سے باہر جانے کے لیے اس وقت کے وزیر اعظم شاہ پور بختیار نے آمادہ کیا 11 فروری 1979 میں ایران کی شاہی حکومت کا مکمل خاتمہ ہو گیا اسکے بعد وہ مختلف ملکوں میں پھرتے رہے سب سے پہلے مصر کےشہر اسوان کئے اس کے بعد مراکش کے شاہ حسن دوم کے مہمان رہے مراکش کے بعد بہاماس کے پیراڈائز آئی لینڈ میں قیام پزیر ہوئے اور پھر میکسیکو سٹی کے قریب کور ناواکا شہر میں میکسیکو کے صدر جوز لوز پیز پورٹیلو کے مہمان بنے چھ ہفتے نیویارک کے ہسپتال کورنیل میڈیکل میں جراحتی علاج کرواتے رہے

قیام کے دوران ڈیوڈ ڈی نیوسم کے خفیہ نام کا استعمال کیا جو اس وقت کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور کا اصل نام تھا ایران – میں امریکی سفارتی خانے کے جلائے جانے پر شاہ ایران کو امریکا سے جانا پڑا فیڈل کاسترو کی وجہ سے میکسیکو نے دوبارہ میزبانی سے انکار کر دیا ۔مجبوراً پانامہ کے تفریحی جزیرے اسلا کونتا دورا میں قیام کیا پانامہ میں مقامی افراد کے ہنگاموں اور فوجی حکمران کے ناروا سلوک سے تنگ آ کر مارچ 1980 میں مصر کی سیاسی پناہ قبول کر لی یہاں تک کہ 27 جولائی 1980 ء کو قاہرہ کے ایک اسپتالمیں ان کا انتقال ہو گیا موت کے وقت شاہ کی جو دولت بیرونی بینکوں میں جمع تھی وہ دس ہزار ملین پونڈ سے بھی زیادہ تھی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *