شادی کے فورابعد ہی میرے شوہر کی ایک بری عادت

شادی کے فورابعد ہی میرے شوہر کی ایک بری عادت کھل کر میرے سامنے آ گئی ارج کو رات دیر تک گھر سے باہر دوستوں کے ساتھ محفل جمانے کی عادت تھی میں اکثر انتظار کرتی کرتی سو جاتی اور میرے سونے کے بعد گھر واپس آتے مجھے کئی بار بہت غصہ آتایہ بھی کوئی بات تھی کہ نویلی دلہن کو چھوڑ کر ساراپہلے دفتر میں اور شام دوستوں کے ساتھ گزاردہ مگرمیں

سوائے منہ بنانے کے اور کر بھی کیاکتی تھی یہ اور بات ہے کہ وہ میر ابہت خیال رکھتے تھے اور منانے کاجو فن اس کو آتا تھاشاید ہی کسی کو آتا ہو میری ساری ناراضگی ارج کے آگے منٹوں میں ختم ہو جاتی لیکر جب کئی مہینے گزرگئے اور انہوں نے اپنی عادت نابدلی تو میرے دل میں وسوسے پیدا ہونے لگے کہ کہیں اج کا باہر کسی کے ساتھ کوئے چکر تونہیں یہ سوچنا تھا کہ

میرے اندر عور توں والی حسیں ایک دم بیدار ہو گئیں میں نے ہر صورت اصل بات جانے کی ٹاہل ۔ کہ جو طریقہ بھی اپناناپڈا کاشام جبت وقت گھر سے باہر جانابند کر واکر ر ہوں گے لیکر کافی سوچ بچار کے بعد بھی ایساکوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آرہاتھاآخرمیں ایک ہی حربہ سمجھ آ یا ناراض ہو کر میکے جانےوالالیکرج ایسے کیسے چلی جائوں اگر وہ مجھے لینے نا آۓ تومیں

کیا کروں گئے آخر کافی سوچ بچار کے بعد مقد مہ اپنے دوست ردا کی عدالت میں رکھ دیا اس نے توجہ سے ساری بات سنی اور کافی دیر ہنے کے بعد کہنے گی ، بھابیے آپ اس کے نام ایک خط لکھ کر کمرے میں رکھ دیں اور خود بیڈ کے نیچے گھس کرلیٹ جائیں اور دیکھیں کہ بھائیے کیا کرتا ہے میں ان کو بول دوں گی کہ آپ ناراض ہو کراپنے ای کے گھر چلی گئی ہیے آئیڈ یا اتنا

اچاتھاکہ فور اول کولگا شام کاوقت ان کے آنے سے پہلے جلدی جلدی ایک خط لکھ کر بیڈ کے سرہانے رکھ دیا جس میں صاف لکھاتھا آپ نے شام کاوقت گھر سے باہر گزارنے کی روش نہیں بدلی مزید نہیں برداشت کر سکتے میں ناراض ہو کر اپنی امی کے پاس جارہی ہوں اب ای وقت واپس آپس آئوں گی جب آپ اپنے دوستوں کے بجاۓ میرے ساتھ وقت گزارنے کاوعدہ

کریں گے خط بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کرمیں بیڈ کے نیچے گھس گئی جیسے ہی وہ گھر آۓ مجھے کمرے سے غائب پاکر وہ اپنے بہن سے میرے بارے میں پوچھنے لگے تو اس نے صاف کہہ دیا کہ بھابھی ناراض ہو کر چلے گئ ہیں اور آپ کے لیے کوئی پیغام چوڑ گئی ہیں وہ سیدھے کمرے میں آۓ اور میر اخط اٹھا کر پڑھنے لگے خط پڑھ کر وہ اچانک پریشان ہوگئے میں واضح طور

پران کے طبعیت میں بے چینی محسوس کر رہی تھی ناتو انہوں نے جوتے اتارے نا کپڑے تبدیل کیے بلکہ بے جان ہو کر بیڈپر گر سے گئے یہ منظر دیکھ کر مجھے بہت سکون محسوس ہورہا تقامیری نندان کو دو بار کھانے کابول کر گئی مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا مجھے ان کو اپنے بنا بے چین دیکھ کر دلی سکون محسوس ہورہاتھاپھر اچانک انہوں نے فوج پر کسی سے بات کرنا

شروع کر دی آہستہ اواز میں کسی سے کہ رہند تھے کہ ہاں نائلہ وہ چلی گئی ہے آج خودہی جان چھوڑ کر ہمار اراستہ خودی صاف کر گئی بہت سر کھاتی تھی اب آرام سے ملا کریں گے بلکہ کل تمہاری طرف سونے کاسوچ رہاہوں اپناخیال رکھنابعدمیں بات کرتے ہیں مجھے آج معلوم ہو چکا تھا کہ وہ کیوں روزانہ رات دیر سے گھر آتے تھے میں اپنی قسمت پر پھوٹ پھوٹ کر رو

پڑی اچانک موبائل کی روشنی مجھ پر پڑی وہ بیڈ سے نیچے جھک کر میری طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ آ جائو باہر اب بہت ہو گیامیں نے کمرے میں آتے ہی تمہارے پائوں بیڈ کے نیچے دیکھ لیے تھے بڑی آئی ناراض ہو کر جانے والی ، یہ کہہ کر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے باہر نکالے مگرسکون کہاں تھانکلتے ہی پو چھاکہ وہ نائلہ منحوس کون ہے جس سے ابھی بات کر رہے تھے توانہوں

نے زور سے قہقہ لگا کر اپنامو بائل میرے ہاتھ میں تھمادیا کہ دیکھ لومیں نے کسی کو کوئی کال نہیں کیے ، میں جو تھوڑی دیر پہلے رورہی تھی اب اپنامنصوبہ ناکام ہونے اور چوری پکڑی جانے پر ہنسی جارہی تھی ۔

Categories

Comments are closed.