شادی کو چھ ماہ گزرے تھے کہ شوہر نے میری زندگی ع ز ا ب بنا دی

میرے بہنوئی سید صفدر علی خواجہ اجمیر نگری تھانے کے ایس ایچ او ہے اکثر کوئی عورت جب گ رف تار ہو کر تھانے لا ئی جاتی ہے صفدر بھائی مجھے فون کر کے بلا لیتے ہیں میں جر نلزم میں ماسٹر ز کر رہی ہوں اور امی اور ابو کی شدید مخالفت کے باوجود کرائم ریپوٹر بننے کا ارادہ ہے آج بھی میں نے ابھی مشکل سے گھر میں قدم رکھے ہی تھے کہ میرے مو با ئل پر بیل ہوئی فون صفد ر بھائی کا تھا اور تھانے یا ترا کی دعوت تھی میں الٹے پیر امی کی ہیں کہاں چل دیں؟ کو جواب دیتی تیزی سے با ہر نکل گئی شکر کے گلی کی نکڑ پر ہی رکشہ بھی مل گیا تھانے پہنچ کر سلام دعا سے فراغت کے بعد کیس کا پو چھا م ڈ ر کیس ہے ٹرپل م ڈ ر کیس ہیں؟ میرا تو منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ کیا کہ رہے ہیں؟ ٹرپل م ڈ ر اور وہ بھی ایک عورت نے؟ جی جناب ! میاں اور دو بیٹیاں۔ یا اللہ ! کیوں؟ آگے کچھ نہیں بو لتی خود ہی تھا۔

آ ئی اقرار ج رم کیا اور کونے میں سر جھکا کے بیٹھ گئی پو لیس نے ایڈ ریس لے کر گھر چیک کیا تینوں ل ا ش ی ں وہیں تھیں وہ اب ایدھی والوں نے پو لیس کے ساتھ مل کر سول ہسپتال کے سرد خانے میں رکھوا دی ہیں تو تو کوئی وجہ نہیں بتائی؟ میری تو زبان میں ہی لکنت آ گئی تھی نہیں اب کچھ بھی نہیں بو لتی۔ کہاں ہے؟ میں نے سیل کی طرف دیکھا۔ ایک عورت دیوار کی طرف منہ کئے بیٹھی تھی دبلی پتلی سی ملگجی ساڑی میں صفد ر بھائی نے سپا ہی خادم حسین کی طرف دیکھا۔ وہ آئیے بی بی جی کہتا ہوا سیل کی طرف چلا ، میرا تو دل حلق میں دھڑک رہا تھا۔ بظاہر خود اعتماد نظر آنے کی کوشش کرتے ہوئے سیل کے اندر آ گئی۔ میری آہٹ پر اس نے نظر یں اٹھا کر مجھے دیکھا وہ دبلی پتلی کھڑے نقش کی خاصی خوبصورت عورت تھی صاف رنگت جس میں زردی کھنڈی ہوئی تھی دنگ کر دینے والی چیز اس کے چہرے پر اس کی آنکھیں تھیں بالکل خالی ایسا لگتا تھا کہ اب ان آنکھوں میں بصارت بھی نہیں ہے۔ مگر وہ نا بینا نہیں تھی تقریباً تیس سے تیتیس سال کی ایج گروپ کی۔

اچھے حالوں اور منا سب جگہ پر ہو تی تو یقیناً اس کا شمار خوبصورت عورتوں میں ہوتا میں سلام کر کے اس سے مناسب فاصلے پر بیٹھ گئی مگر اس نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور دوبارہ اپنا چہرہ اپنے گھٹنے پر ٹکا کر نظر یں زمین پر لگا دیں۔دنیا کی ہزار ہا عورتیں نکھٹو اور ن ش ئ ی شوہروں کے ساتھ زبان بند کے گزارا کر تیں ہیں تم بھی کرو۔ میں تو اب سنجیدگی سے خلع کا سوچ رہی تھی بلکہ وکیل سے بھی ملی مگر تہمینہ کی مجبوری آڑے آ جاتی تھی کہ یہ بے زبان ہے نہ سن سکتی ہے اور نہ بول سکتی سکو ل بھی نہیں جاتی۔ زما ن جیسا کیسا بھی ہے مگر اس کے گھر میں ہونے کی وجہ سے تہمینہ محفوظ تو ہے میں کتنی بے وقوف تھی کس قدر اند ھیرے میں تھی کہ لٹیرے کو محافظ سمجھ رہی تھی ادھر تین چار مہینوں سے تہمینہ کی طبیعت گری گری تھی اس کا چو نچال پن ختم ہو گیا تھا عجیب سوئی سوئی کیفیت میں رہتی تھی محلے کے ڈاکٹر کو بھی دکھا یا مگر اس نے طاقت کے کیپسول لکھ دئیے ما لک مکان قیوم چچا نے مجھ سے ایک دو دفعہ قیوم کی شکا یت کی تھی۔
کہ صبح اور دو پہر تک میرے گھر میں عجیب عجیب لوگ آتے ہیں اور ان کو اتنے لوگوں کی آمدو رفت نہیں۔ وہ میری سادہ لو بچی اس کو بھی پی گئی پھر کہنے لگی لیجئے اب آپ پیجئے یہ کہتے ہوئے اس نے جگ سے گلاس میں شربت انڈ لینا چا ہا مگر شاید ہاتھوں میں پسینے کی وجہ سے یا کس وجہ سے جگ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گر گیا ساتھ ہی میری چیخ بھی نکلی مگر اسی اثنا میں سمینہ بھی دھڑام سے شربت سے گیلی زمین پر گر کر تڑپنے لگی اور بیس منٹ کے اندر اندر تڑپ تڑپ کر میرے بازوؤں میں مر گئی میں نے اس کو اٹھا یا اور تہمینہ کے بر ا بر لیٹا کر چادر اوٹھا دی۔ دروازے کو بھیڑ ا اور تھانےآ گئی مجھے تو م و ت نے بھی قبول نہیں کیا۔ میرے جیس بے خبر اور طالم ماں کی م و ت بھی بہت عب ر ت ناک ہونی چاہیے پتہ ہے بیٹیوں کی ماؤں کو کبھی دوسری شادی نہیں کر نی چاہیے وہ اپنے لیے سائبان بناتے بناتے اپنی بیٹیوں کو تپتی دھوپ میں کھڑا کر دیتی ہیں میں نے بچیوں کی حفاظت کے خیال سے زمان کا ساتھ قبول کیا تھا۔

مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ دردنہ اس کو ن ش ے پر لگا کر اس کی عزت نیلا م کر رہا ہے وہ غ ریب تو ن ش ے کے زی ر اثر رہتی تھی۔ مجھے بھی کچھ نہیں بتا یا۔ کب سے یہ سلسلہ چل تھا میں نہیں جانتی۔ ہائے کیسی بے خبر ماں ہوں میں۔ مجھے تو نشان عبرت دبنا دینا چاہیے ۔ یہ کسی کرو ہ سر پیٹ پیٹ کر ر و نے لگی۔ اپنا سر دیوار سے ٹکرانے لگی بڑی مشکل سے اس کو قابو کیا گیا پھر ایک دم سے اس کا جسم ڈھیلا ہوا اور وہ بے ہوش ہو گئی لیڈی پو لیس اس کے چہرے پر پانی کے چھنٹے م ا ر رہی تھی اس کو ہوش میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ میرا دل چا ہا کہ میں اس کو منع کر دوں ہوش میں لانے والی کوششوں کو رکو ادوں کہ کچھ دیر ہی سہی وہ ہوش سے بے گا نہ رہے اس اذیت سے تو آزاد رہے۔ نیند اور بے ہوشی بھی کتنی بڑی نعمت ہیں کچھ لمحوں کے لیے ہی سہی آپ اپنے غموں سے آزاد ہو جا تے بھول جاتے ہیں سب کچھ درد کی وہ شدت جس کو آپ ہوش میں سہہ نہیں سکتے بے ہو شی ان سب سے مکتی دے دیتی ہے بھلے رستخیز کا دن معین ہے پر رقیہ نے تو اپنے حصے کی ق ی ا م ت دیکھ لی۔ ہم سب کی نجی ق ی ا م ت بھی تو ہوتی ہے انسان کی زندگی میں کئی قیا متیں ہوتی ہیں ق ی ا م ت کبرا سے پہلے رقیہ اپنی ق ی ا م ت جھیل چکی۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *