سہاگ رات ہسپتال میں

مجھے ڈاکٹر بنے تین سال ہوگئے تھے ۔ میری ماں کہہ  رہی تھی کہ یہ سال میری شادی کا ہے ۔ کوئی لڑکی میرے دل کو بھاتی ہی نہیں تھی ۔ بہت سے شعلہ ، بھاتی کے شبنم ، مہتاب جبیں ارد گرد موجود تھیں ، میرادل کسی پر جمتا ہی نہیں تھا ۔ آج جب گھر سے نکلا تو ماں نے پھر وہی سبق یاد کروایا تھانے درجے کا آغاز تھا ، کھلے کھلے چہرے وارڈ میں موجود تھے۔ہاؤس جاب کرنے والوں کا نیا بیچ آیا

تھا۔اب نئے چہروں میں لڑکیوں کی تعداد مر دڈاکٹر رال کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔ بہت کی پری پیر ، نازمیں مہ جبیں رونق افروز تھیں۔ان میں ہی وہ موجودتھی ۔ ہفت اقلیم کی شہرادی ، سب سے الگ تھلگ ، خو بصورت ، تلی اور لمبی ، ڈاکٹر نور ریز ۔ جواں ، مثل گل خنداب اور حسن میں مثل ماہ تاباں ۔ ہلکی سی کاجل کیے لکیر سے بھی کوراآ نکھیں ، تیزی سے گھومتی ہوئیں ، جن میں بیک

وقت بہت سے عکس ابھر کر ڈوب جاتے تھے ۔ گوری  گر درج اور بیوٹی بونز کے نیچے سفید کوٹ کے کالر کے اندر سینے کا گلابیے ابھار ہلکا ہلکا نظر آ رہا تھا ۔ صراحی دار گردن سے لگتی عنابی سٹیتھوسکوپ اس بالیدگی کو جواہر لعل و یا قوت کے نولکھے بار سے بھی زیادہ رونق بخش ہی تھی ۔ اس کی ڈیوٹی میرے ساتھ ہی تھی ۔ شوخی اور انچل کو راس میں موجود نہیں تھی

کام پر بھر پور توجہ دیتی۔اس کے بولنے کا انداز بہت ہی  خو بصورت تھا ۔ مریضوں سے لے کر سٹاف تک ہر کسی کے ساتھ سراپا شفقت بج کر بات کرتی ۔ کوئی مریض اگر سخن بیہودہ زبان پر لے بھی آنا تو اس کو نظر انداز کر دیتی ۔ لڑکیوں کے ساتھ ہنس بھی لیتی لیکرجے میں نے اسے کبھی کسی لڑکے کے ساتھ کھل کر بات کرتے نہ دیکھا ۔ وہ آہستہ آہستہ میرے دل میں گھر کرتی جارہی تھی ۔ میں

زیادہ تر اس کو اپنے ساتھ ہی رکھتا تھا ۔ وہ محسوس کرا  رہی تھی ۔ اس کی کوشش ہوتی کہ کام کے علاوہ مجھ سے دور ہی رہے ۔ ایک دن وہ اپنے باپ کو لے کر آئیے۔دل کادورہ تھا ۔ تین چار دج وہ ہمارے پاس داخل رہے ۔ زیادہ تر وہ دونوں اکیلے ہی ہسپتال میں موجود رہتے تھے ۔ ڈسچارج ہونے کے بعد انکل کوا کثر ہسپتال آناپڑتا تھا ۔ میں اج کے قریب ہو تا جارہا تھا ، وہ بھی مجھ سے

انتہائی پیار کرتے ۔ ہمیشہ سیدھے میرے کمرے میں ہی آئے ۔ قربتیں بڑھتی گئیں ۔ میر اس کے گھر آنا جانا بھی شروع ہو گیا ۔ ایک دن ہمت کر کے میں نے پوچھ ہی لیاء ڈاکٹر نور ! آپ کی ماں ؟ اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ ایک درج کہنے لگے ، ڈاکٹر اشعر ! میں دوسرے وارڈمیں جارہی ہوں ۔ ” “ کیوں ؟ ” میں چونک گیا ۔ بولی ، ” یہ لوگ

بارے میں عجیب عجیب باتیں کرتے ہیں ۔ ” پھر اس کے ڈیوٹی تبدیل ہو گئی ۔ لیکن میں نے اس کے گھر جانانہ چوڑل ۔ اس کے رویے میں بھی بے تکلفی بڑھتی جارہی تھی ۔ اگر میں ایک دو درج نہ جاتا تو انکل مجھ سے اداس ہو جاتے اور ادویات کے بہانے فوج کر دیتے ۔ میں تو اس کو دیکھے بغیر رہ ہی نہیں سکتا تھا ۔ ہم اکثر ساری ساری رات با تیں کرتے رہتے۔اس کی ایک عادت بہت عجیب

تھی ۔ کبھی کبھی وہ باتیں کرتے کہیں کھو جاتی ۔ کچھ دیر اسے پرادای کا غلبہ رہتالیکن جلد ہی خود کو سنبال لیتی ۔ ایک درج انکل سور ہے تھے ۔ باتوں باتوں میں میری شادی کاذکر آگیا ۔ میں کچھ دیر خاموش رہا ۔ میاتم میرے ساتھ شادی کروگے ؟ میں نے پو چھاوہ خاموش ہو گئی ۔ رنگ پیلا پڑ گیا ۔ کاٹو تو ایک قطرہ خورج کانہ نکلتا ۔ ترج کاخون شاید رنگ بن کر اڑ گیا تھا ۔ یہ

نا ممکن ہے ۔ ” کیوں ؟ میں شادی شدہ ہوں ۔ ” اس کے الفاظ مجھ پر بجلی بن کے گرے ۔ کمرے میں ادای مچا گئی میا ؟ ” یہ کیا کہہ رہی ہو ۔ تم شوہر دار ہو ؟ ” ہاں ! یہیچ ہے ۔ وہ روتے ہوۓ بتانے کیمیں ایف ایس کی میں تھی ۔ مان نے میرے باپ اور میری مرضی کے خلاف شادی اپنے بھائی کے بیٹے کے ساتھ طے کر دی۔ماں کے نام پر کچھ قطعہ اراضی تھا ۔ چند ایکڑ زمین واپس لینے کے

لئے میرے نتقال نے میر اخاندان تباہ کر دیا ۔ ہچکیاں لیتے ہوئے وہ کب میرے ساتھ لپٹ گئی ، اسے پتاہی نہ چلا۔جب احساس ہواتو یک دم اٹھ کر دور جاتے ہوئے بولی ۔ ” ڈاکٹر صاحب ، جاؤ ! اپناسکون کہیں اور تلاش کرو ۔ میرے پاس دکھ ہی دکھ ہیں ۔ ” شب کانوں کے بستر پر گزاری ان گنت ارمان ، ان گنت خواب ریزہ ریزہ ہو گئے تھے ۔ سارادرج کام میں دل نہ لگا ۔ مضمحل شام کے بو

حجبل لحات گزار نا مشکل ہو رہا تھا ۔ تھکے تھکے قدم اٹھاتے ہوۓ اس کے در کی طرف ہی رخ کر لیا ۔ انکل کیے طبیعت پہلے سے زیادہ خراب تھی۔افسردگی کے بادل پورے گھر پر چائے ہوے تھے ۔ کانے دیر دونوں کے ساتھ بیٹھارہا ۔ وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی توانکل کہنے لگے ، ” نور نے مجھے ساری بات بتائی ہے ۔ اس کا خاوند کہاں ہے ؟ میں نے پو چھا ۔ جواب ملا ، ” بتاؤں گا ۔ اور ماں ؟ ” زندہ ہے ۔ شادی کے بعد جب میں نے نورر ریز

کو سسرال سینے سے انکار کر دیا تو وہ روٹھ کر اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئی ۔ ” یہ بتاتے ہوۓ انہوں نے منہ دوسری طرف موڑ لیا ۔ میں کافی دیر بیٹھارہا ۔ وہ آئے اور نہ ہی انکل نے کوئی بات کیے۔اگلے دن ان کی حالت اور زیادہ خراب ہو گئی ۔ وہ ہمارے وارڈمیں ہی داخل ہو گئے۔ان کی پیاری بڑھتی جارہی تھی ۔ ایک دن کہنے لگے ، بیٹے ، میری بیٹی کادنیامیں کوئی نہیں ہے ۔

میں اسے ماں کے پاس بھی نہیں بھیج سکتا ۔ جب کبھی میں اسے یہ کہتا ہوں ، وہ انتہائی خوفزدہ ہو جاتی ہے ۔ اور کئی کئی درج اپنے کمرے سے باہر نہیں نکلتی ۔ ” ایک کاغذ میرے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہنے لگے ، ” میہ اس کے خاوند کا پتا ہے ۔ تم ایک بار اسے مل لینا ۔ ” اس رات انکل فوت ہو گئے ۔ اب وہ اکیلی رہ گئی تھی ۔ میں روزانہ اس کے گھر جاتا ۔ بہت دنوں کے بعد میں نے

پو چھا ، مستقبل کے بارے میں کیاسوچا ہے ۔ ” ہاسٹل منتقل ہورہی ہوں ۔ ” وہ آہستہ سے بولی ۔ کافی دیر خاموشی چھائی رہی ۔ ” دکھ کی بات ہے ۔ ہمت نہیں ہے۔اگر اجازت ہو تو پو نچوں ؟ اپنے بارے میں کچھ اور بتاؤگیے ؟ پوچھ کر کیا کروگے ؟ اپنی ماں کے بارے میں بتاؤ ؟ ” آپ دونوں اس سے کیوں نہیں ملتے تھے ؟ وہ کافی دیر سر جھکا کر بیٹھی رہی ۔ روتی رہی ۔ کہنے

گی ۔ ماں میری پڑھائی کے سخت خلاف تھی۔کہتیے تھی ، ہم نے کون کی نوکری کروانی ہے ۔ ” بابانے ماں کی ناراضگی سے ڈر کر میری شادی کی ہاں کر دی ۔ میں بھی مجبورتھی ۔ میں ابھی اٹھارہ سال کے نہیں ہوئے تھی۔ماموں کا بیٹا مجھ سے دس سال بڑا تھا ۔ زراعت افسر تھا ۔ امتحان کے فورابعد شادی ہو گئی ۔ وہ رات قیامت تھی ۔ مجھے کچھ پانہیں تھا ۔ اس کی ماں

سب لڑکیوں کو باہر نکال کر بستر کی سنہری کامدار چادر کے اوپر سفید چادر بچھادی ۔ روتے روتے وہ چپ ہو گئی ۔ جیسے کہنے کے لئے الفاظ ڈھونڈ رہی ہو ۔ ” وہ اندرآ یا ۔ کچھ دیر میرے ساتھ باتیں کر تارہا ۔ پھر جو ہوا مجھ میں بتانے کی ہمت نہیں ، سہ کیے سکتی تھی ۔ جب ہوش میں آئے تو ہسپتال کے بیڈ پر تھی ۔ میری ماں اور ساس لیڈی ڈاکٹر سے باتیں کر رہی

نے تھیں۔ماں کہہ رہی تھی ، ” ڈاکٹر صاحبہ ! ہم اسے کوا گھر لے جائیں ؟ مہماج آئے ہوئے ہیں ۔ ہم نے اسے ولیمہ میں بٹھانا ہے ۔ ” ڈاکٹر غصے میں بولی ، آپ کو اس کی جان کی فکر نہیں ، ولیمے کی بات کر رہی ہیں ۔ یہ اس قابل ہے ؟ اندر لے لیے چیر آئے ہوئے ہیں۔ابھی اس کو ٹھیک ہونے میں کئی دن لگیں گے مانیے بولی ، ” چر کیے آگئے ؟ وہ بھی ماس ، یہ بھی ماس ۔ میرے بیٹے نے نفس

کے ساتھ بلیڈ باندھے ہوئے تھے ؟ ڈاکٹر غصے سے انہیں جڑا کیاں دیتی ہوئی باہر چلی گئی ۔ وہ بلک بلک کر رورہی تھی ۔ میں نے چپ کروانے کی کو شش کی تو وہ میرے ساتھ چپک گئی ۔ اس کے آنسو تمیض کے اندر میرے سینے کے بالوں کو بھگور ہے تھے ۔ دوزخ کی آگ سے ابلتا ہوا یہ پانیے میرے روں روں میں گھس کر میرے ترے بدن کو جلارہا قا ۔ بی تپش میرے لئے نا قابل برداشت

تھی اور وہ تو اس آگ میں کئی سالوں سے جل رہی تھی ۔ کافی دیر کے بعد بولی ۔ ” میں تقریبا ایک ماہ ہسپتال میں داخل رہی ۔ دو مر تبہ سرجری ہوئی۔اس کے بعد میں ”کہنے لگی ، اس لئے میں کہا تھا میں شادی نہیں کرسکتے ۔ اس لفظ کو سنتے ہی میرا جسم بید کی طرح کا نپناشروع کر دیتا ہے ۔ ڈاکٹر صاحب ! میری جھولی میں

انگارے ہی انگارے ہیں ۔ جاؤ ! اپنی خوشیاں کہیں اور ڈھو نڈ و ۔ جاتے جاتے صرف ایک بات بتاتے جانا ۔ تم مر داور تمہاری مائیں ایک داغ دیکھنے کے لئے لڑکیوں کے جسم اور روح کو کیوں داغدار کر دیتی ہے

Categories

Comments are closed.