سکون کی لہر

”ڈاکٹر صاحب!جب سے میرے والدین اس دنیا سے گئے ہیں میری طبیعت اکثر ٹھیک نہیں رہتی۔خوش رہنا چاہتا ہوں،مگر نہ جانے کیوں خوش رہ نہیں پاتا۔ہر وقت ایک عجیب سی اُداسی چھائی رہتی ہے۔تنہائیوں کی تلاش میں رہتا ہوں اور محفلوں سے بھاگتا پھرتا ہوں۔ “سعد ڈاکٹر صاحب کو اپنی غم داستان سنا رہا تھا۔

”جی میں آپ کا غم سمجھ سکتا ہوں۔آپ ایک کام کریں،آپ اپنی تنہائی کو دور کرنے کے لئے بلی یا پھر کوئی پرندہ پال لیں۔اس سے یہ ہو گا کہ آپ خود کو تنہا محسوس نہیں کریں گے۔“ڈاکٹر بولے۔”ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب۔میں ایسا ہی کرتا ہوں۔“یہ کہتا ہوا سعد دروازے کی جانب بڑھا۔اس نے اپنی گاڑی ایک ایسی دکان کے سامنے روکی،جہاں ہر طرح کی بلیاں میسر تھیں۔کچھ سفید رنگ کی تھیں تو کچھ کالی اور کچھ بھوری تھیں ۔ ان کی قیمت اتنی زیادہ تھی کہ اسے ایسا لگا کہ گویا وہ سونے چاندی کی دکان میں آگیا ہو۔ایک بلی اسے بہت بھلی لگی،مگر اس کی قیمت بھی آسمانوں کو چھو رہی تھی۔وہ مایوس ہو گیا اور دروازے کی جانب بڑھا۔اس لمحے ایک صاحب اپنی بچی کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔ان کے ساتھ ایک چھوٹی سی بچی بھی تھی جو یقینا ان کی بیٹی تھی۔اس چھوٹی سی پیاری سی بچی کے ہاتھ میں ایک سفید رنگ کی ننھی سی بلی ٹوکری میں بیٹھی تھی۔ننھے ننھے آنسو اس معصوم بچی کی آنکھوں سے مسلسل بہہ رہے تھے۔سعد نے اس منظر کو سمجھنا چاہا،مگر ناکام رہا۔آخر وہ اس کے والد کے پاس جا پہنچا اور اُن کی ننھی بیٹی کے آنسوؤں کی وجہ پوچھی۔

انھوں نے بتایا:”بیٹا!دراصل یہ بلی ہمارے پاس ایک عرصے سے ہے۔یہ میری بیٹی کو تحفے میں ملی تھی۔اب ہمارے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں،اس لئے ہم اسے بیچنے کے لئے یہاں آئے ہیں۔”تو آپ یہ کتنے میں دیں گے۔میں اسے خریدنا چاہتا ہوں۔“یہ سن کر ان کی ننھی بیٹی مجھے گھورنے لگی۔”بیٹا!تمہیں جو رقم مناسب معلوم ہو،اتنی ہی دے دو۔“وہ بولے۔”انکل!کیا آپ مجھے یہ دو ہزار میں دیں گے؟“سعد نے سوال کیا۔ ۔”ہاں بیٹا!یہی ٹھیک ہے۔“یہ کہتے ہوئے انھوں نے بچی سے وہ ٹوکری لی،جس میں بلی آرام سے بیٹھی تھی۔وہ ٹوکری اس کے ہاتھ میں پکڑا دی۔اس پر وہ ننھی سی گڑیا بلک بلک کر رونے لگی۔سعد سے یہ منظر دیکھا نہ گیا۔اس نے جلدی سے دو ہزار روپے بچی کے والد کے ہاتھ میں پکڑا دیے۔ پھر سعد بچی کی جانب بڑھا اور بلی اس کے ہاتھ میں تھما دی۔بچی نے بلی کو لپک کر ہاتھوں سے لیا اور اپنے گلے سے لگا لیا۔اس ننھی پری کی خوشی دیکھ کر میرے اندر سکون کی لہر دوڑ گئی۔”بیٹا تم نے یہ کیا کیا؟“انکل حیران کھڑے تھے۔”انکل۔یہ میری طرف سے آپ ایک تحفہ سمجھیں۔“وہ یہ کہتا ہوا دروازے کی جانب بڑھا۔اب وہ پُرسکون تھا۔شاید ایسا سکون اسے کسی اور چیز میں نہیں ملتا۔

Categories

Comments are closed.