سورۃ النصر کا صرف ایک

سورت النصر تو سب کو ذبانی یاد ہوگی،اسے پڑھنے سے کیا معجزہ رونما ہوتا ہے؟ جان کر آپ اسے روزانہ کا عمل بنا لیں گے مشکلات سے نجات کے لئے بہت سے وظائف معروف ہیں۔ایک آسان ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ سورہ النصر حفظ کرلیں،ویسے عام طور پر زیادہ تر مسلمانوں کو یہ ازبر ہوتی ہے، جنہیں نہیں وہ بھی اسکو حفظ کرلیں کہ اس سورہ مبارکہ میں انسان کے لئے فتوحات کی خوشخبری موجود ہے۔

اللہ کریم نے فتح یابی اور بندے کو شکر و تسبیح کی ہدایت فرمائی ہے۔اسکو رد بلا کے لئے پڑھا جاتا ہے۔آپ کو جسمانی اور کاروباری طور پر ،بچوں کے رشتوں میں،ملازمت اور امتحانات میں مشکلات کا سامنا ہے تو روزانہ اول آخر درود پاک اس سورہ مبارکہ کو سات بار پڑھنا معمول بنا لیں،انشا ء العزیز ہر طرح کی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔

سورۃ النصر اللہ کریم نے فتح یابی اور بندے کو شکر و تسبیح کی ہدایت فرمائی ہے.اسکو رد بلا کے لئے پڑھا جاتا ہے.آپ کو جسمانی اور کاروباری طور پر ،بچوں کے رشتوں میں،ملازمت اور امتحانات میں مشکلات کا سامنا ہے تو روزانہ اول آخر درود پاک اس سورہ مبارکہ کو سات بار پڑھنا معمول بنا لیں،انشا ء العزیز ہر طرح کی مشکلات آسان ہوجائیں حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں بنی اسرائیل کی سلطنت عروج پر تھی.

آپ علیہ السلام کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے احبام کے دور میں سلطنت دو حصوں میں بٹ گئی. جنوبی فلسطین میں یہودیہ نام کی ایک سہلطنت قائم ہوئی جبکہ شمالی فلسطین میں اسرائیل کے نام سے ایک ریاست کا قیام ہوا.ان دنوں سیدہ یعنی موجودہ لبنان کی شہزادی ایزابیل کی خوبصورتی کے چرچے چہار سو عام تھے.

چنانچہ اسرائیل کا بادشاہ جس کا نام اخیب تھا اس سے شادی کرکے اسرائیل لے آیا.ان دنوں لبنان اور شام میں بعل کی پوجا کی جاتی تھی. فنیقی اقوام کا ایک قدیم دیوتا تھا. اخیب اول درجے کا زن مرید ثابت ہوا اور اپنی ملکہ ایزابیل کے کہنے میں آکر بعل کی بوجا شروع کردی. اخیب نے اسرائیل کے صدر مقام سامریہ میں بعل کا بہت بڑا اور عالیشان مندر تعمیر کیا. اس کو دیکھ کر اس کی رعایا بعل دیوتا کی پوجا کرنے لگی.

اس طرح سامریہ شہر کا نام ‘بعلبک’ یعنی بعل کا شہر پڑگیا. پورے ملک میں بعل کی عبادت گاہیں تعمیر ہو گئیں اور اسکے نام پر قربانیاں دی جانے لگیں، اور یوں یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بتائے ہوئے دین سے منحرف ہوگئے.ایسے وقت میں بھی چند اللہ والے لوگ تھے جو لوگوں کو برے کاموں سے روکتے اور اللہ تعالٰی کی طرف بلاتے انہی حضرات میں ایک نیک بزرگ یرمیہ بھی تھے

.بعرل کی پوجا کے ایک خاص دن ملکہ ایزابیل اور بادشاہ اخیب بعل کے مندر میں موجود تھے اور پوجا زور شور سے جاری تھی، تب یرمیہ اخیب کے پاس آئے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ بت پرستی چھوڑ کر اپنے دین حق کی طرف لوٹ آئے.اخیب تو اس بات پر خاموش رہا مگر ملکہ ایزابیل پوجا میں خلل ڈالنے پر بھڑک اٹھی،

اور اپنے سپاہی کا نیزہ لے کر حضرت یرمیہ کے سینے میں گھونپ دیا. آپ ایک دل خراش آہ کے ساتھ زمین پر گر گئے، مگر آپ کی نظریں بدستور ایزابیل پر جمی رہیں.آپ نے مرنے سے پہلے ایزابیل سے کہا کہ تو نے مجھے حق گوئی کی پاداش میں مار ڈالا ہے، اب تو انتطار کر جب تو اسی طرح ماری جائے گی. اور جنگلی کتے تیرا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے اس کے بعد زن مرید اخیب اور ایزابیل وہاں سے چلے گئے.اس واقعے کے بعد اہل ایمان کے حوصلے کافی پست ہوچکے تھے. وہ دیکھ چکے تھے کہ ایزابیل کا ان کے بادشاہ پر کتنا اثر ہے.اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.