سنو بشر بن حارث اللہ تعالی نے مجھے کہا ہے تم کو میری

غداد کے مشہور شراب خانے کے دروازے پر دستک ہوئی شراب خانے کے مالک نے نشے میں دھت ننگے پاؤں لڑکھڑاتے ہوۓ دروازہ کھولا تو اس کے سامنے سادہ لباس میں ایک پر و قار شخص کھڑا تھا مالک نے اکتاۓ لہجہ میں کہا معذرت چاہتا ہوں سب ملازم جا چکے ہیں یہ شراب خانہ بند کرنے کا وقت ہے آپ کل آئے گا

اس سے پہلے کہ مالک واپس پلٹتا اجنبی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا مجھے بشر بن حارث سےملنا ہے اس کے نام بہت اہم پیغام ہے شراب خانے کے مالک نے چونک کر کہا بولیے ! میرا نام ہی بشر بن حارث ہے اجنبی نے بڑی حیرت سے سر سے لے کر پاؤں تک سامنے لڑ کھڑاتے ہوئے شخص کو دیکھا اور بولا کیا آپ ہی بشر بن حارث ہیں ؟ مالک نے اکتاۓ ہوۓ لہجے میں کہا کیوں کوئی شک ؟

اجنبی نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور بولا شنو بشر بن حارث خالق ارض و سما نے مجھے کہا ہے کہ میرے دوست بشربن حارث کو میرا سلام عرض کرنا اور کہنا جو عزت تم نے میرے نام کو دی تھی وہی عزت رہتی دنیا تک تمہارے نام کو ملے گی اتنا سننا تھا کہ بشر بن حارث کی نگاہوں میں وہ منظر گھوم م گیا جب اک دن حسب معمول وہ نشے میں دھت چلا جا رہا تھا کہ اس کی نظر گندگی کے ڈھیر پر پڑے اک کاغذ پر پڑی جس پر اسم ” الله ” لکھا تھا ۔

بشر نے کاغذ کو بڑے ا سے چوما صاف کر کے خوشبو لگائی اور پاک جگہ رکھ دیا اور کہااے مالک عرش العظیم یہ جگہ تو بشر کا مقام ہے تمہارا نہیں بس یہی ادا بشر بن حارث کو ” بشر حافی رحمت اللہ علیہ ” بنا گئی ۔ جس وقت آپ کو یہ پیغام ملا آپ اس وقت لگے پاؤں تھے اور پھر آپ نے ساری زندگی نگے پاؤں گزار دی آپ جن گلیوں سے گزرتے تھے ان گلیوں میں چوپاۓ بھی پیشاب ، نہیں کرتے تھے کہ آپ کے پاؤں گندے نہ ہوں وہی بشر حافی رحمت اللہ علیہ جس کے متعلق اپنے وقت کے امام احمدد بن حنبل رحمت اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے

لوگوں جس اللہ کو احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ مانتا ہے بشر حافی رحمت اللہ علیہ اسے پہچانتا ہے ۔ کوشش کریں کہ کہیں اخبار یا کاغذ کے کسی ٹکڑے پر اللہ پاک یا نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم یا مقدس ہستیوں کا نام نظر آئے تو اسے کسی پاک جگہ پر رکھ دیا کریں

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *