سلمان اپنی بیوی سے اتنی نفرت کرتا تھا اندر سے شرمناک آوازیں سن کر رک جاتی تھی

کبھی یہ مت سوچنا کہ تم تنہا ہو۔ میں ہر پل تمہارے ساتھ ہوں۔ تمہارے نام سے منسوب تمام رشتے مجھے پیارے ہیں۔ اچھی شریک حیات خدا کی طرف سے نعمت ہوتی ہے۔ اور تم میرے لیے نعمت ہو، میرا فخر ہو۔ تمہارا مان کبھی نہیں توڑوں گا۔ مجھ پہ بھروسا رکھو۔ثقلین محبت بھرے لہجے میں بولتا ہوا اقراء کو یقین بخش رہا تھا۔میری قمیص کہا ں رکھ دی۔ جاہ۔ل عورت، ڈھ۔ونڈ ڈھ۔ونڈ کے تنگ آ چکا ہوں۔مریم افسانہ لکھ رہی تھی کہ سلمان کی آواز اس کی سماعت سے ٹک۔رائی تو روانی سے چلتا قلم رک گیا۔ اب تخی۔ل جو ٹوٹا تو الفاظ بھی ہوا ہو گئے۔

اس نے صفحے پہ لکھی سطروں پہ آخری نگاہ ڈالی اور بے دلی سے قلم میز پہ رکھ دیا۔ وہ محبت لکھتی تھی۔ اس کی تحریروں میں احساس بولتا تھا۔ عزت و مان کے لفظ رقص کرتے تھے۔ کرداروں میں نرمی گ۔ھلی ہوتی تھی۔ لیکن مریم کی اپنی ذاتی زندگی میں سکون برائے نام تھا۔ شوہر نے تو اس کا تخلص ہی جاہل رکھ دیا تھا۔ اس کی آنکھوں کے گوشے نم ہوئے تو وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ حساس دل سلمان کے لہجے پہ ابھی تک نالاں تھا ۔اس لیے آنکھوں کی نمی باقاعدہ آنسوئوں میں تبدیل ہوئی۔ اور پلکوں کی باڑھ ت۔وڑتے چند آنسو موتیوں کی صورت لڑھ۔ک کر اس کے گالوں پہ آن ٹکے، جن کو اس نے بڑی بے دردی سے ہتھیلی کی پشت سے مسل ڈالا اور اسٹڈی روم سے نکل کر کمرے میں داخل ہو گئی۔سلمان الماری کھولے۔تمام کپڑے گولے کی صورت بیڈ پہ ڈھیر کیے خاموش چہرے سے اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔آنکھوں میں غصہ واضح تھا اس لیے مریم س۔ہم سی گئی اور جلدی سے اس کی قمیص ڈھونڈنے کے لیے بیڈ پہ موجود کپڑے الگ الگ کرکے دیکھنے لگی۔ہر وقت بس لکھتی ہی رہتی ہو،اپنی بے کار کہانیوں سے وقت ملے تو گھر کا کام بھی ڈھ۔نگ سے کر لیا کرو۔

کونسی چیز کہاں رکھی ہے تمہیں ذرا ہوش نہیں رہتا۔دماغ خراب کرکے رکھ دیا ہے میرا۔سلمان جب بھی بولتا اسے احساس ہی نہ ہوتا کہ اس کے جملے سننے والے کے دل پہ کس قدر گراں گزرتے ہیں بس وہ بولتا ہی جاتا،اس وقت بھی وہ مریم پہ خفگی بھری نگاہ ڈالے کھڑا تھا ۔جبکہ وہ سر جھکائے لب سیے جلدی سے قمیص ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔اور مطلوبہ شرٹ ملی تو خوشی کے رنگوں نے اس کے چہرے کا احاطہ کر لیا۔یہ لیں آپ کی شرٹ مل گئی،آپ بھی تو دھیان سے نہیں دیکھتے ناں،،سلمان کی جانب شرٹ بڑھاتی مریم نے نرمی سے کہا ،جبکہ سلمان ہمیشہ کی طرح اس پہ نگ۔اہ ڈالے شرٹ جھ۔پ۔ٹتے ہوئے واش روم گ۔ھس گیا لیکن جاتے جاتے بھی جملہ ک۔سنے سے باز نہ آیا۔دھیان رکھنا میرا نہیں ،تمہارا کام ہے۔لیکن تمہیں فرصت کہاں ،اتنی اچھی ہوتی تو پہلے سے ہی میری قمیص نکال کے رک۔ھ چکی ہوتی۔واش روم کا دروازہ ک۔ھٹ کی آواز سے بند ہوا تھا۔اپنی شان میں ایسے قصیدے سننے کی وہ عادی ہو چکی تھی۔اسے ڈھونڈنے سے بھی خود میں کوئی کمی دکھائی نہ دیتی تو اداس دل لیے سارا دن گھر میں ب۔ولائی ب۔ولائی سی پھرتی۔اتری صورت لیے وہ اداس پ۔ری دکھائی دیتی ۔شادی کو ایک ہی سال ہوا تھا ،ابھی بچے بھی نہ تھے ۔خود کو مصروف رکھنے کے لیے اس نے لک۔ھنا شروع کر دیا۔ اور اپنی تمام سوچیں ،تمام خواب صفحہ ق۔رط۔اس پہ بک۔ھیرنے لگی۔وہ نرم جذبات کی حامل خ۔وب۔رو لڑکی تھی۔خوابوں کی دنیا میں رہ کر خوشگ۔وار زندگی کے خواب دیکھنا اور ان کی تعبیر پانے کی خواہش کرنا اس کی عادت تھی۔

جسیے ہی بیاہ کے سلمان کی زندگی میں آئی اسی دن سے اداسی کی ایک دیوار سی تن گئی ۔سلمان تمام حقوق پورے کرتا تھا لیکن روایتی مرد ثابت ہوا تھا۔وہ شادی کا اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی سلمان کو ٹھیک سے سمجھ نہ پائی ۔کبھی تو وہ بہار کی مانند بن جاتا تو کبھی اسکا وجود خزاں کے وجود میں یوں ڈھ۔ل۔تا کہ مریم کے خوابوں اور عزت نفس،مان سب ایک ایک کرکے جھ۔ڑ جاتے ،اور وہ بس تم۔اشا۔ دیکھتی رہ جاتی،اسے یاد تھا تو بس اتنا کہ،،صبر ہی بہترین عمل ہے،دوبدو جواب دینے والی عورت اپنی زندگی کی خود دشمن ہوتی ہے،مرد کبھی اس عورت کو برداشت نہیں کرتا جو اس سے مقابلہ کرے،وہ کتنا بھی ظ۔الم کیوں نہ ہو وعورت کی نرمی ہی چاہتا ہے،پھر ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب اسے یہ ماننا پڑتا ہے کہ عورت محبت کی مٹی سے گ۔ندھی ہے جس کی سرشت میں صرف وفا کرنا لکھا ہے۔وہ بھی شدت سے اس دن کی منتظر تھی جب سلمان اسے وہی عزت دے جو اس کا حق تھی۔اس لیے وہ چپ چاپ پتھر کی مورت بنی کڑوی کسیلی باتیں بنا ماتھے پہ شکن لائے سنتی رہتی اور ہونٹوں پہ شکوہ نہ لاتی۔لیکن بظاہر مضبوط بنی مریم تنہائی پاتے ہی اداسی کے گہرے کنوئیں میں اس قدر گر جاتی کہ اپنا آپ بے مایہ لگنے لگتا۔باجی،آپ کی بہت یاد آئے گی،اتنی دور مت جائو،،لائبہ نے رونی صورت بنا کے کہا تھا ۔

تب ہی مایوں میں بیٹھی چہرے پہ خوش کن مسکان سجائے مریم کھلکھلا کے ہنس پڑی تھی،پیاری سی،ننھی سی میری بہنا،،میں دور تھوڑی ناں جا رہی ہوں ،ہر ویک اینڈ پہ ملنے آیا کروں گی۔اچھا اپنے دل پہ ہاتھ رکھو میں تمہارے دل میں ہوں اور رہوں گی۔ مریم نے چھوٹی بہن کو سمجھانے کے بعد اپنے چہرے پہ در آنے والی اداسی کو چھپانا چاہا لیکن ناکام رہی۔آپی،بتا دو ناں کہ آپ بھی اداس ہو،آپ کی آنکھیں چہرے کا ساتھ نہیں دے رہیں ،اب لائبہ اس کے سر ہو چکی تھی ۔مریم نے بھی وضاحت دینا ضروری نہ سمجھی کیونکہ وہ کچھ بھی چھپا نہیں پاتی تھی۔ظاہر ہے اداس تو ہونا ہے،پتا نہیں سلمان کیسے ہوں،ان کی نیچر کیسی ہوگی۔ مجھے ملوانے بھی لے آیا کریں گے یا نہیں ،وہ فکر مندی سے بولتی ہوئی سر جھکا گئی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی آنکھوں کی نمی اپنے دیکھیں۔سلمان اچھا بچہ ہے،اور ایک بات یاد رکھنا کبھی اس کے سامنے اونچی آواز میں بات مت کرنا اور اگر وہ ڈانٹے بھی تو صبر کرنا،امی نہ جانے کب کمرے میں داخل ہوئیں تھیں اور اب سامنے بیڈ پہ بیٹھی پیار سے اسے سمجھا رہی تھیں۔امی جان، باجی ویسے بھی آپ کا کہنا مانتی ہیں۔ وہ ایسا ہی کریں گی جیسا آپ نے کہا۔ لائبہ درمیان میں بول پڑی تو امی نے گھور کے اسے دیکھا۔ جواباً وہ سر کھجاتے ہوئے جلدی سے کمرے سے نکل گئی۔

بس اسی دن سے ماں کی بات مریم نے پلو سے باندھ لی۔ کچھ بھی ہو جائے سلمان کی عزت کرنی ہے۔ مثالی بیوی بننا ہے اور واقعی وہ اس پہ عمل بھی کر رہی تھی۔وہ خفا خفا سا رہتا، لڑائی کے بہانے ڈھونڈتا لیکن وہ خاموش رہتی ،شاید اس کی عادت ہی ایسی ہے۔ دل کا برا تھوڑی ہے۔ یہ سوچ کے وہ مطمئن ہو جاتی۔وہ کچن میں کھڑی برتن بھی دھو رہی تھی اور آنسو تھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اس کے صبیح چہرے پہ اداسی کی کرن طلوع ہونے سے مکمل وجود سوگوار تھا۔ دل میں پنپتا کرب ایک ناسور بن کر اس کی روح کو کھوکھلا کر رہا تھا۔ اس کے خواب، خواہشات، اُمیدیں سب مسخ زدہ لاش کی صورت ماتم کدہ تھے۔ وہ صبر کرتی آئی تھی لیکن آج تو حد ہی ہو گئی تھی۔ سلمان نے اس کی عزت سر عام اُچھالی تو وہ بلبلا اٹھی، عزت نفس نے انگڑائی لی اور باغی جذبے نے سر اُبھارا، منہ میں زبان تھرتھرائی، دل چاہا روئے، چلائے اور سلمان کو جھنجوڑ جھنجوڑ کے کہے، بتائو میرا قصور کیا ہے؟ خاموش رہنا میرا قصور ہے؟ یا پھر صبر کرنا؟ لیکن وہ یہ سب صرف سوچ ہی سکی۔ وہ اپنا مان نہیں کھونا چاہتی تھی۔ وہ بری عورت نہیں بننا چاہتی تھی اس لیے خاموش رہی لیکن باورچی خانے میں آتے ہی صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور آنکھیں آنسوئوں سے دھندلا گئیں۔سلمان نے چند آفس کولیگز کو کھانے پہ مدعو کیا تھا۔ مریم کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی پھر بھی دل لگا کے کھانا بنایا اور تیار بھی ہوئی۔

وہ رائتہ لے کر ٹیبل پہ رکھنے لگی تھی کہ اچانک پیر پھسلا، ساتھ ہی رائتہ بھی فرش پہ گر گیا۔ مریم نے بمشکل کرسی کا کونا پکڑ کے خود کو گرنے سے بچایا اور خفت زدہ چہرہ لیے سلمان کی جانب دیکھا جس کے چہرے پہ زمانے بھر کی اجنبیت تھی اور مسکراتے ہونٹ بھنچ چکے تھے۔کبھی کوئی کام ڈھ۔نگ سے نہیں کرتی ہو۔ ہمیشہ ہونق بنی رہتی ہو۔ نہ جانے سلیقہ کب سیکھو گی؟ وہ مریم پہ چلاتے ہوئے کہیں سے بھی مہذب انسان نہیں لگ رہا تھا۔ مریم کی حالت غیر ہونے لگی اور مارے شرمندگی کے وہ سر جھکائے خاموش کھڑی رہی۔بات کرنے کا یہ کونسا طریقہ ہے سلمان۔ مریم بھابی بہت ہی اچھی ہیں۔ کھانا بھی مزے کا بنایا۔ الٹا آپ انھیں ڈانٹ رہے ہیں جبکہ اس میں بھابی کا کیا قصور؟ سلمان کی کولیگ نبیلہ نرم خو لڑکی تھی اس سے برداشت نہ ہوا تو بول ہی پڑی جبکہ باقی لوگ کندھے اچکا کہ رہ گئے جیسے کہہ رہے ہوں ہمارا کیا،میاں بیوی کے درمیان ہم کیوں آئیں۔مریم اتنی دکھی ہوئی کہ مہمانوں کے جانے کے بعد بھی کھانا نہیں کھایا اور اب کچن میں برتن دھوتے ہوئے پہلے سے بھی کافی آنسو بہا رہی تھی۔

اگر ٹسوے بہانے سے فرصت مل گئی ہو تو میرے لیے چائے بنا دو،سلمان کچن کے دروازے سے ٹیک لگائے اس پہ چبھتی ہوئی نگاہ ڈال کے بولا تو وہ جھٹکا کھا کے پلٹی،ایک بات بتائیں مجھے،کیا آپکی زندگی میں میری کوئی اہمیت نہیں ؟ آپ مجھے بے جان وجود کیوں سمجھتے ہیں ، ؟ وہ دکھ کی تصویر بنی سراپا سوال تھی، وہ کبھی یہ سوال ناں کرتی اگر آج وہ بے حسی کی حد پار نہ کرتا،اسے رسوا نہ کرتا،۔میرے نزدیک تم صرف میری بیوی ہو ،جسکا کام سر جھکا ئے شوہر کا ہر حکم ماننا ہے،خاموش رہنا ہے اور خدمت کرنا ہے۔میرا رتبہ تم سے بلند ہے ،اس لیے اپنی نگاہ نیچی رکھو۔ وہ سخت لہجے میں بولتا ہوا اسکا دل پاش پاش کر گیا۔کیا مردوں کو اپنا رتبہ تب ہی یاد آتا ہے جب بیوی کو نیچا دکھانا ہو،اسکا مان توڑنا ہو،خواب توڑنے ہوں،یا پھر تب یاد آتا ہے جب وہ حق مانگے ؟ اس نے ایک ہی سانس میں بولتے ہوئے اسے احساس دلانے کی کوشش کی لیکن اگلے ہی پل سر جھٹک کے چائے کا پانی چولہے پہ رکھنے لگی کیونکہ سلمان جا چکا تھا۔ مریم دربدر ہوئے خوابوں کا ماتم مناتی آنسو بہاتی رہی۔

اسکے پاس کوئی چارہ نہیں تھا سوائے صبر کرنے کے۔وہ جیسے ہی چائے کی ٹرے کمرے میں لے جانے لگی سلمان کی آواز سن کے ٹھٹک سی گئی اور دروازے میں ہی رک گئی،سلمان موبائل کان سے لگائے کسی سے بات کر رہا تھا اور موڈ بھی خاصا خوشگوار تھا۔مریم کو تجسس سا ہوااس لیے وہ سانس روکے اسکی باتیں سننے لگی جبکہ وہ جانتی تھی یہ غیر اخلاقی حرکت ہے لیکن سلمان کا انداز ہی ایسا تھا کہ وہ سنے بغیر رہ نہیں سکی،وہ دروازے کی جانب پیٹھ کیے باتیں کرنے میں مگن تھا،ہاں یار وعدہ کرتا ہوں اس بار جو کہو گی لے دونگا ،بس کبھی ساتھ مت چھوڑنا،تمہاری جلت۔رنگ سی ہنسی میرے دل میں خوش کن احساس اجاگر کرتی ہے اور زندگی کا پھیکا پن خوبصورت خوابوں میں ڈھلے رنگوں کی صورت عیاں ہوتا ہے،وہ اتنا کھویا ہوا تھا کہ مریم کی آمد کا احساس ہی نہ کر پایا،اور مریم تو جیسے ڈھے سی گئی،اعتبار نے فریب کا روپ دھارا تو سب کچھ ہی مشکوک دکھائی دینے لگا،مان ٹوٹا تو وجود بھی ٹوٹ گیا،وہ بے جان گڑیا کی مانند دروازے سے ٹیک لگائے پتھر نگاہ سلمان پہ ڈالے کھڑی تھی،آنکھوں میں کرب کا سمندر تھا اور دل میں مری ہوئی امنگوں کا ڈھیر،وہ راکھ ہو چکی تھی،اسکا مزاجی خدا کسی نامحرم عورت سے خوش گپیوں میں نہ صرف مصروف تھا بلکہ جو محبت صرف اسکا حق تھی وہ بھی لفظوں کی صورت اس پہ اتار رہا تھا۔

مریم نے خود کو سنبھالا اور واپس جانے کے لیے مڑنے لگی تو چائے کے کپ آپس میں ٹکرائے جن کی آواز سنتے ہی سلمان کرنٹ کھا کے پلٹا اور کال جلد ہی کاٹ دی،اسکی نگاہ مریم پہ پڑ چکی تھی جو زرد چہرہ لیے نگاہ جھکائے کھڑی تھی،وہ مرد تھا ہار کیسے مانتا فوراً ہی آگے بڑھا،کیا تم چھپ چھپ کے میری باتیں سنتی ہو ؟ آج واقعی مجھے یقین آ گیا کہ تم میری زندگی کی پہلی غلطی ہو جسکا خمیازہ میں آج تک بھگت رہا ہوں ،تم نے یہ حرکت کرکے میرے دل سے مزید اپنی جگہ کم کر دی،وہ جلاد بنا اسی پہ چلانے لگا اور مریم لب سیے خاموش کھڑی رہی اب وہ بولتی ھی تو کیا،بولنے کے لیے رہ ہی کیا گیا تھا،اس نے چائے کی ٹرے سلمان کے ہاتھوں میں پکڑائی اور دل ہی دل میں مضبوط ارادہ کر لیا،مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا،آپکو میرا وجود ناگوار گزرتا ہے،میری وجہ سے آپکی زندگی تنگ ہے ،ٹھیک ہے میں امی کے ہاں واپس جا رہی ہوں ، وہ مضبوط لہجے میں بولتی ہوئی سلمان کو حیران کر گئی،اور جلدی سے کمرے میں آتے ہی الماری سے کپڑے نکالنے لگی،شوق سے جاؤ ،لیکن ہمیشہ یہ بات یاد رکھنا اپنی مرضی سے جا رہی ہو ،لینے بھی نہیں آؤں گا۔اور دیکھوں گا

کہ بوڑھے ماں باپ کب تک تمہیں اپنے پاس رکھتے ہیں ،اس طرح تو تمہاری چھوٹی بہن کا رشتہ بھی نہیں آئے گا۔وہ ٹھنڈی چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے اس طرح سے بولا کہ بیگ میں کپڑے پیک کرتی مریم کے ہاتھ رک گئے اور وہ بے بسی کی تصویر بنے بیڈ کے کنارے ٹک گئی،اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہو چکی تھیں ،اعصاب شکن رنج نے ساری توانائی مفقود کر دی تھی۔جب تم بے بس ہو جائو تو خدا کو یاد کرو اور صبر کرو،اسکے دل نے سمجھایا تو اسکا سر اثبات میں جھکا اور واپس جانے کا فیصلہ ملتوی کرتے ہی اس نے صبر کا دامن پکڑ لیا ۔سلمان اسکو خاموش بیٹھا دیکھ کے خالی کپ ٹیبل پہ رکھتے ہی کمرے سے نکل گیا لیکن اسکو سوچوں کے بھنور میں تنہا چھوڑ گیا۔وہ ایسا کچھ نہیں کرنا چاہتی تھی

جس سے بوڑھے والدین کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑے ۔اسکے سجدے طویل تر ہوتے گئے،ہاتھوں نے دعا کے لیے اٹھنا شروع کر دیا،آنسو خدا کی بارگاہ میں نکلے تو معتبر ٹھہرے۔ اب اگر سلمان ڈانٹ بھی دیتا تو وہ کچھ نہ کہتی بس صبر کیے خاموش رہتی۔دامن سے الجھی ساری پریشانیاں سکون میں بدلتی گئیں ،سلمان اب بھی فون پہ مصروف رہتا یا پھر رات گئے تک واپس لوٹتا وہ نہ تو کوئی سوال کرتی نہ جھڑپ۔سلمان اسکی خاموشی دیکھ کے بہت حیران ہوتا لیکن کچھ بول نہ پاتا۔محبت سے دستبردار ہونا اسکو منظور نہ تھا ۔اس نے ایک فیصلہ کیا تھا،سلمان کی بے رخی کے جواب میں محبت نچھاور کرنے کا۔ وہ کسی بھی قیمت پہ سلمان کو کھونا نہیں چاہتی تھی۔

Categories

Comments are closed.