سبق آموز واقعہ

کسی جگہ پرایک قاضی رہتا تھا ۔ وہ قاضی صاحب لڑکیوں کے مقدمہ کو سنجیدگی سے حل کرتا اور جو بھی لڑکی کو کوئی شکایت ہوتی تواپنامقد مہ لے کر اسے عقل مند اور تجربہ کار قاضی صاحب کے پاس جاتیں ۔ کیوں کہ ان کو یقین ہو تا تھاکہ قاضی صاحب حقائق اور انصاف پر مبنے فیصلہ کرے گا۔

جب قاضی صاحب کے عظمندانہ فیصلوں کی باتیں بادشاہ تک کا پڑی تو بادشاہ نے اپنے حضور حاضر ہونے کاحکم دیا ۔ بادشاہ کے حکم کی تعمیل ہوئی اور تانی صاحب حاضر ہو گیا ۔ بادشاہ نے قاضی سے پوچھامیں نے سنا ہے کہ تم بہت عقلمند انساج ہوور تمہاراہر فیصلہ حق پر مین ہوتا ہے تو یہ سن کر قاضی صاحب نے کہا بادشاہ سلامت میں انسان ہوں بھی کبھار مجھ سے بھی غلطی سرزد ہو جاتی ہے اور بات رہی انصاف کے توسب سے اچھاانصاف کرنے والاتو اللہ ہے یہ سن کر بادشاہ سلامت کو سمجھ میں آگیا کہ قاضی عقلمند انسان ہے کیونکہ اس نے اپنی تعریف سے کر خوش ہونے کی بجائے بلکہ حقیقت پر مبنی با تکرنے کو تری دی اس کے بعد بادشاہ سلامت نے اس کواپناشائی بنی بنے کی پیشکش کر دی ۔ اس نے کہا بادشاہ سلامت یہ بات میرے لئے باعث شرف ہوگی ۔ اس کے بعد جو بھی کوئی مقدمہ آتاتو بادشاہ سلامت کیے جگہ تانی صاحب اس کو حل کر دیتا ایک درج ایک نوجواج دوڑ تا ہوا پانی صاحب کے پاس آیا ۔ اس کی شرم گاہ سے خون بہ رہاتھا ۔ تانی صاحب نے اس کو تعجب بھری نظروں سے دیکھاتو اس نوجوان نے کہا پانی صاحب میری بیوی نے میرا نفس کاٹ ڈالا اور اپنی ہی بیوی نے مجھے نامر د کر دیا۔ ہے۔

یہ نے کر پانی صاحب چونک گیا کہ ایسی دنیاکی کو نسی بیوی ہوگیے جواپنے ہی شوہر کو نامر د کر دے ۔ پھر انی صاحب نے حکم دیا کہ اسکی بیوی کو حاضر کرو ۔ جب اس آدی کے بیوی کو حاضر کیاگیاتو پانی صاحب نے پوچھا کہ اے لڑکی شاید تم دنیاکے پہلی لڑکی ہوگیے جس نے اپنے ہی شوہر کوہی نامر د کر دیا ہو۔اس کی بیوی نے کہا تانی صاحب آپ حقیقت کو نہیں جانتے ۔ پانی صاحب نے کہا کہ تم اگر ہم کو حقیقت سے آگاہ نہیں کروں گے تو ہم کو کیسے پتہ چلے گا ۔ لڑکی نے لرزاتی ہوئیے آوزمیں کیا تانی صاحب ہم دونوں کے با با کھٹے تجارت کرتے تھے ۔ جب ہم دونوں بچپن میں تھے توانھوں نے آپس میں وعدہ کیا تھا کہ ہم دونوں آپس میں اپنی بیٹی اور بیٹے کی شادی کریں گے جب ہم دونوں جوان ہوئے۔ میرے بابانے مجھے کہا کہ بیٹیے میں نے تجھے بہت نازوں سے پالا ہے۔آج میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے تمہاری شادی بچپن ہی میںپنے دوست کے بیٹے کے ساتھ مقرر کر دی تھی وہ ے ساتھ تجارت کر تا تھا اور ہم دونوں کی دوستی وگ مثالیں دیتے تھے۔اگر تم چاہو تو میری پسند میرے وعدے کے مطابق اس لڑکے سے شادی کرو۔

میں نے اپنے بابا کو کہا اگر آپ نے میرارشتہ کسی دوسری ری کے ساتھ بھی مقرر کیا ہوتاتومیں ضرور کر تیمیرے بابانے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور چند دج بعد ہماری شادی ہو گئی ہم دونوں بڑی بنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے لیکرج شادی کے چند دنوں بعد میرے شوہر کار ویہ مجھ سے بدلنے لگا ۔ مجھے شک ہو گیا تھا کہ میرا شوہر کسی غلط راستے پر چل پڑاہے میں نے اپنے شوہر کو کہا کہ تم مجھے اس بار تجارت کرنے کے لئے ساتھ لے جانالیکن میرے شوہر نے مجھے ساتھ لے جانے سے صاف صاف انکار کر دیا۔اب میرا شق یقیں میں بدل چکا تھا کہ میراشوہر مجھے گمراہ کر رہا ہے اور یہ سی غلط راستے پر چل پڑاہے۔میں نے بھی سوچ لیا کہ اب اس کو سبق سکھا کر ر ہوں گے ۔ جب میراشوہر اپنے قافلے کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ تومیں پیچھے گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی جاسوس کے لئے نکل پڑی ۔ سفر بہت طویل تھالیکج ہم جلد پہنچ گئے۔سب تاجروں نے بازار سے تھوڑافاصلہ پر اپنے اپنے خیمہ لگادیے اور آپس میں مشورہ کیا کہ کل بازار میں جاکر اپنا سامان بچیں گے ۔ جب میں نے دیکھاکہ میراشوہر اور باقی تمام تاجر اپنے خیمے لگا چکے ہیں تومیں بھی یچے رک گئی اور ایک درخت پر چڑھ کر بیٹھگئی۔

اپنے شوہر کے خیمہ کے دروازے پر پچ جب میں دروازے پر پہنچ گئی تواند ر سے کسی لڑکی کے گندی جب آدھی رات کا وقت ہواتومیں ڈھونڈتی ڈھونڈتی گندی آواز میں آرہیں تھی ۔ جب میں نے اندر جھانک کر دیکھاتو میراشوہر کسی لڑکی کے ساتھ زنا کرنے میں مشغول تھا ۔ مجھے بہت غصہ آیا اور میں اس کے خیمہ کے اند ر داخل ہوئے اور میں نے منجر نکال کر اپنے شوہر کا نفس کاٹ ڈالا اور اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نامر دبنادیا ۔ میں اپنے شوہر کو ای وقت قتل کرسکتی تھی لیکن میں نے اس وزندور کھا اور اسے نامر دبنایا تا کہ اس سے اور لڑکے و کر عبرت حاصل کرسکیں کہ جو نوجوان اپنی یویوں کو گمراہ کر کے کسی دوسری لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں توارج کا انجام ایسی طرح ہو تا ہے ۔ بین کرانی صاحب نے کہا تمہاری بات بالکل درست ہے اور تمھارے شوہر نے تمہیں گمراہ کیا تھا کیونکہ اس کا شوہر اپنے تمام جرم کا اعتراف کر چکا قالیکر تمہیں اپنے شوہر کو نامر د کرنے کا بالکل حق نہیں تھا۔اگر تم مقد مہ لے کر میرے پاس آتی تو تمھیں ضرور انصاف مل جاتا ۔

تولڑکی نے کہا جو لڑ کی اپنے شوہر کو کسی اور لڑکی کے ساتھ حالت ہمبستری میں دیکھے وہ کیسے خود پر قابو ہوسکتی ہے ۔ ین کر پانی صاحب نے کہا تمہاری بات بلکل درست ہے اس لیے میں تیری سزائم کررہاہوں اس کے بعد پانی صاحب نے اس لڑکی کو ایک سال کے لئے زندارج میں بند کرنے کاحکم دے دیا اور رسم دیا کہ بادشاہ کی سلطنت میں موجود مر دوں کو جمع کرکے اس آدمی کوارج کے سامنے کھڑا کر کے ان تمام کو اس نوجوان کیے مکمل کس کہانی سنانے چاہیے تا کہ اس آدمی کو دیکھ کر باقی مر د عبرت حاصل کرسکیں کہتے ہیں اس کے بعد تمام عور توں میں حوصلہ اور ہمت آ گئی اور کسی بھی مر د میں پسیجرات نہ مردمیں پیس ہوتی کہ اپنی بیوی کے علاوہ کسی کی طرف تنه بری نظر بھی اٹھاکر دیکھیے۔ دوستوں میں شادی شدہ نوجوانوں سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں کہ اس دنیامیں ایک شادی شدہ عورت کاسب سے بڑ اسہار اس کا شوہر ہو تا ہے اگروہ شوہر ہی اس کے ساتھ بے وفائی کرنے لگ جائے تو اس عورت کا اس دنیامیں جینے کا مقصد ہی ختم ہو جاتا ہے جاتا ہے اور اس عورت کے دل کو جو چوٹ پہنچتی ہے اس کو کوئی بھی حکیم کوئی بھی طبیب ٹھیک نہیں کر سکتا۔اللہ تعالی نے ہر انسان کو شادی کرنے کا حق دیا ہے اور ہر انسان اپنی شادی کرکے اپنے نفسیاتی خواہش کو پورا کر سکتا ۔۔۔ جوانساج شادی کے بعد یاشادی سے پہلے ایسے کاموں میں ملوث ہوگاتوارج کاانجام بھی ضرور ایک درج اس لڑکے کی طرح ہو گاجواپنی بیوی کے ہاتھوں نامر د ہوگیا اور پوری سلطنت کے لئے نشان عبرت بن گیا۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *