سادگی

ایک سردار صاحب اپنی گاڑی میں کہیں جا رہاتھے‘ کافی فاصلہ طے کرنے کے. بعد وہ کسی گنجان علاقے میں پہنچے‘ انہوں نے گاڑی کی رفتار کم کر دی لیکن ابھی اس علاقے کو پار نہیں کیا تھا‘ تھوڑا آگے گئے تو کیا دیکھتے ہیں بیچ سڑک میں کافی لوگ دائرہ بنائے کھڑے ہیں ‘ سردار صاحب بھی گاڑی سے نیچے اترے‘ یہ دیکھنے کے لئے کہ بیچ سڑک پر کیا ہو رہا ہے ‘ابھی سردار صاحب سوچ میں ہی تھے کہ

ان کے کان میں کسی نے کہا کہ کسی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور اور لوگ اس شخص کو پہچان نہیں پا رہے‘ جیسے کہ سب لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نامعلوم لاش کو دیکھ سکے‘اسی طرح سردار صاحب کو بھی خواہش ہوئی کہ وہ لاش کو دیکھیں‘سردار صاحب نے بہت دیکھنے کی کوشش کی لیکن لاش کو دیکھ نہ پائے‘آخر ان کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور انہوں نے فوراً اس پر عمل کیا‘ سردار صاحب چیخ چیخ کر رونے لگے اور

کہا سارے لوگ ہٹ جائو مجھے راستہ دو ‘یہ شخص میرارشتہ دار ہے‘راستہ دو میں کہتا ہوں‘ سارے لوگ سائیڈ پہ ہو گئے اور سکھ صاحب کو آگے بڑھنے کا موقع ملا ‘ سکھ صاحب رو رو کر جب لاش کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ بیچ سڑک پر گدھا مرا پڑا ہے ‘لوگوں نے سکھ صاحب کو دلاسہ دیا اور صبر کرنے کی تلقین کی۔۔۔

Categories

Comments are closed.