سات باتیں زندگی میں کبھی نہ کرنا؟

کسی غریب کا غلطی سے بھی مذاق مت اڑانا کیونکہ کسی کو بھی غریب ہوتے دیر نہیں لگتی۔ اگر تم کسی کو خوشی نہیں دے سکتے تو کوشش کرو کہ تمہاری وجہ سے کسی کو دکھ بھی نہ پہنچے ۔ آج کل کے دور میں اگر کوئی بندہ مخلص مل جاتا ہے تو غنیمت سمجھیں اس پر اپنی چالاکیاں نہ آزمائیں ، یاد رکھیں بے وقوف کوئی نہیں ہوتا۔ کسی کو آنسوں دینے سے پہلے یہ سوچ لیا کریں اس کے آنسو تمہیں سکون سے جینے دیں گے یا نہیں ؟ کسی کی راہ میں ناحق مشکلات پیدا کرنے سے پہلے سوچ لیں کہ آپ اس کی تو صرف دنیا خراب کررہے ہیں لیکن آپ کی اپنی آخرت تباہ ہو رہی ہے ۔ اگر تم تنہائی میں بھی گناہ کرو تو بھی چار گواہ بالکل تیار ہیں : آنکھیں ،دل ،کان ،ہاتھ۔ پریشانی میں مذاق اور خوشی میں طعنہ مت دو کیونہ اس سے رشتوں میں موجود محبت ختم ہو جاتی ہے ۔ اپنے دل کو مضبوط بناؤ اور اللہ پاک پر یقین کرو وہ تمہاری ہر مشکل آسان کردے گا۔ملک کی عزت اور رونق عقل مندوں سے ہوتی ہے

اور دین کی ترقی پرہیزگاروں کے دم سے ہے۔ عقل مند لوگ بادشاہوں کی مصاحبت کے اس قدر محتاج نہیں ہیں جس قدر بادشاہ عقل مندوں کی صحبت کے محتاج ہیں۔تین چیزیں قائم نہیں رہتی ہیں۔ مال بغیر تجارت کے، علم بغیر بحث و مباحثہ کے اور ملک بغیر سیاست کے۔اپنا کوئی راز کسی دوست کو نہ بتاؤ۔ تمھیں کیا خبر کہ کبھی وہ تمھارا دشمن ہو جائے اور تم کو نقصان پہنچائے۔ تم اپنے دشمن کو نقصان نہ پہنچاؤ کیونکہ ممکن ہے کسی وقت وہ تمھارا دوست بن جائے۔جو راز تم چھپانا چاہتے ہو وہ اپنے مخلص دوست پر بھی ظاہر نہ کرو کیونکہ اس دوست کے کچھ مخلص دوست ہوں گے وہ ان کو بتا دے گا ۔ پھر وہ اپنے دوستوں کو بتائے گا اس طرح یہ سلسلہ بڑھتا جائے گا اور تمھارا راز سب پر ظاہر ہو جائے گا!اپنی زبان کو بند رکھنا اس بات سے بہتر ہے کہ تم دل کی بات کسی کو بتا کر یہ کہو کہ وہ کسی اور سے نہ کہے۔پانی کے چشمے کا سوتا شروع ہی سے بند کر دینا چاہیے کیونکہ جب اس میں پانی زیادہ ہو جائے گا تو وہ دریا بن جائے گا اور اس کا روکنا ممکن نہ ہوگا۔اگر دو شخص ایک دوسرے کے دشمن ہیں اور تم دونوں سے ملتے ہو تو ان سے ایک دوسرے کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کہو کہ اگر کبھی ان دونوں میں دوستی ہو جائے

تو تمھیں شرمندہ ہونا پڑے!دوستوں سے آہستہ گفتگو کرو تاکہ دشمن تمھاری باتیں نہ سن لے اور زیادہ دشمنی کرنے لگے اس بات سے ہوشیار رہو کہ جس دیوار کے پاس تم باتیں کر رہے ہو کہیں اس کے پیچھے کوئی کان لگائے سن نہ رہا ہو۔جب تم کوئی کام کرنے کا ارادہ کرو اور اس میں پس وپیش ہو تو اس وقت ایسی صورت اختیار کر وجس میں کم سے کم تکلیف ہو۔ جب تک روپیہ دے کر کام نکل سکے اس وقت تک جان کو خطرہ میں نہ ڈالو۔کسی دشمن کی نصیحت پر عمل کرنا غلط ہے لیکن اس کو سن لینا درست ہے تاکہ تم اس کے خلاف کام کر سکو۔ ایسا کرنا بالکل درست ہوگا۔ اگر دشمن تم کو سیدھا راستہ بتا دے تو تم اس پر مت جاؤ بلکہ اس کے بجائے الٹا راستہ اختیار کرو تاکہ نقصان کا اندیشہ نہ رہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.