”زمانہ جا ہلیت میں ایک جن کتے کی شکل اختیار کر کے مالک کے لیے شکار کرنے لگا“

زمانہ جا ہلیت میں زباب نا می ایک شخص بت پرست تھا اس کا ش ک ا ر کا بہت شوق تھا ذباب کے بت کا نام قراض تھا ایک بکرا قراض کے نام پر ز ب ح کر کے اس کا خ و ن بت پر چڑ ھا یا اور دست بارہ عرض کی: آپ میں سب قدرت ہے اپنی عنا یت سے مجھے کوئی شکار عنا یت فر ما ئیں بت کے اندر سے آواز آ ئی: جاؤ تمہاری خیمہ کے پاس ایک کتا ملے گا اسے تم پال لو وہ تمہارے لیے ش ک ا ر پکڑے گا بت کے منہ سے یہ کلام سنتے ہی ذباب خیمہ کی طرف دوڑ تے ہوئے آکر دیکھا کہ ایک سیاہ کتا کھڑا ہے ذباب نے اسے پکڑا تو و ہ دم ہلا تا ہوا اس کے ساتھ ہو لیا ذباب نے اس کتے کا نام حیاض رکھا وہ رات دن ش ک ار کھیلنے میں مصروف ہو گئے کتا جو بھی جانور شکار کرتا۔

پھر وہ ذباب بت کے سامنے لا کر ذب ح کر تے اور خ و ن بت پر چڑھا تے او ر گ و ش ت مہمانوں کو کھلاتے اور خود بھی کھاتے تھوڑے عرصہ اس کتے نے ذباب کو مالا مال کر دیا دور دور سے مہمان آتے اور بت کے ذبیحہ کو خوشی سے کھاتے یہاں تک کے حضور ﷺ معبوث ہوئے جب آپ کے مکان پر ہر روز مہمان آتے تھے ایک دن حسبِ معمول ایک شخص آ یا اور کہا کہ میں آج نبی کریم ﷺ سے قرآن سن کر آ یا ہوں جب اس مہمان میں سید المر سلین ﷺ کی کچھ باتیں کی خلاف عادت وہ کتا بھی کان لگا کر باتیں سننے لگا جب وہ شخص باتوں سے فارغ ہوا تو ذباب کتے کو جنگل میں شکار کے لیے لے گیا ہرن نیل گائے متعدد جانوروں پر چھوڑا لیکن کتے نے کسی کو نہ پکڑا بلکہ جانوروں کو پس کتے کو گھر لے آئے راستے میں ایک دیو کی صورت کا انسان جنگلی گدھے۔

پر سوار اور دوسرا شخص بھی اسی طرح سواور سامنے سے آتے ہوئے نظر آ ئے ان دونوں کے پیچھے ایک حبشی غلام کے ہاتھ میں بڑے زبردست کالے کتے کی رسی پکڑ لے چلا آتا ہے ان سواروں میں سے ایک نے میرے کتے کی طرف اشارہ کر کے کہا: اے کتے شکار کرنا چھوڑ دو محمد رسول ﷺ تشریف لائے ہیں ذباب اپنے گھر سوئیں تو ایک آواز سنی آ نکھ کھول کر دیکھا تو وہ کتا تھا۔ جو حبشی غلام کے ہاتھ میں تھا وہ کتا حیاض کتے کے ساتھ باتیں کرنے لگا حیاض کتے نے اس کتے سے کہا: ذرا ٹھہر جاؤ بھی گھر والا آتا ہے۔

یہ کلام سن کر ذباب نے آنکھیں بند کر لیں اور سانس دینے شروع کر دیے اور حضور ﷺ نے اپنی طرف سے ان دونوں کو روئے زمین کے جنات اور شیاطین پر مسلط کر دیا ہے جو بتوں کے اندر بولتے اور بتوں کے ذریعہ سے گمراہ کرتے ہیں ان کو پکڑ کر ماریں مجھے تو انہوں نے پکڑ کر خوب مارا جو آپ کی رضا میری بھی وہی۔ یہ کہہ کر دونوں بھاگ نکلے اور ایسے گم ہوئے کہ اب تک ان کا نام و نشان بھی نہیں ہے صبح کو زباب نے یہ سارا واقعہ اپنی قوم سے بیان کر کے کہا: میں تو مکہ معظمہ جا کر مسلمان ہوتا ہوں۔ قوم سے کہہ کر اور تو کچھ نہ کیا لیکن علیحدہ ہو کر بت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیا اور سرور ِ کونین مکان ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ جب آپ نے اس کو دیکھا تو صحابہ کو فر ما یا کہ یہ وہ شخص ہے جو ایک عجیب و غریب واقعہ دیکھ کر مسلمان ہو رہا ہے۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *