رولا دینے والی سٹوری

بسم  اللہ الرحمن الرحیم السلام وعلیکم چار بیٹے تھے کینیڈا کے ایک پرائیویٹ سکول میں ٹیچر تھی عمر 28 سال اللہ نے پیارا بنایا تھا ان کو چھوٹی سی عمر میں ایک قیامت نے اسے مار ڈالا تھا وہ قیامت جانتے ہو کیا تھی ان کا شوہر مر چکا تھا چار بجے سسرال والوں نے بچوں کے ساتھ گھر سے نکال دیا ان جا کے ماں باپ بھی نہیں بھائی بھابھی آخر کب تک پوچھتی ہیں ان کے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے سکول میں پڑھ کر دو چار پیسے بھی تھے مشکل سے دو وقت کی روٹی کھا رہے تھے

حالات ایسے تھے نہ کوئی مددگار تھا نہ کوئی سہارا نہ کوئی سینے لگا کر دار بانٹنے والا نہ سر پہ ہاتھ رکھ کر دلاسہ دینے والا جان بچے نہ گھر اپنا نہ کسی کا سہارا کرائے کا مکان تھا حالات نے زنجیروں سے باندھ رکھا تھا پھر کچھ یوں ہوا کا بیٹا جو ابھی آٹھ سال کا تھا وہ بیمار رہنے لگا اس کی دوا کی جمع پونجی خرچ کرنے لگی سرکاری ڈاکٹر نے کہا ایٹ ہسپتال میں چیک کروایا بھائی سے مدد مانگی چاند پیش ہوگی بھائی نے کہا میں نے تم سے کہا تھا میری سالی سے شادی کر لو میری سونی نہیں تھی تم نے آپ میرے پاس کچھ نہیں تمہارے لیے اندرونی لگی کا کردار جانتے تو ہیں وہ شرابی اور چور ہے آئے  دن کو جیل میں بند ہوتا ہے میں کیسے ایسے انسان سے شادی کر سکتی تھی بھائی نے مجھ سے فون بند کر دیا گیاکی دوا پانچ ہزار کی پہلی جو بھی پیسے پاس سب ختم ہوگئے گھر بیٹھی ہوئی تھی بہت اداس تھی کیا کرتی سہارا کوئی راستہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا یہ الفاظ ہم نہیں سمجھ سکتے جس سے یہ بات عیاں ہو وہ اس قیامت کو سمجھ سکتا ہے بچہ پیٹ کی درد سے رو رہا تھا انکا کیا کرتی علاج کے لیے پیسے نہیں تھے پھر خیال آیا رات کو لڑکیاں بازار میں جاتے ہیں وہ جسم بیچ کر پیسے کماتی ہیں ان زہ حافظ قرآن بھی تھی اللہ سے رو رو کر دعا مانگ رہی تھی اللہ میری مدد فرمامیں کمزور ہو چکی ہیں اولاد کے لئے میں قدم اٹھا رہی ہوں سکول والوں نے بھی یہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ اب آپ بہت چھٹیاں کرتی ہوں انہوں نے بتایا بھی تھا

اس کا بیٹا بیمار ہے ہم وہ 5 امیر لوگ ہیں جو کسی کی مجبوری کا فائدہ تو اٹھا سکتے ہیں لیکن کسی کا دل نہیں سمجھ سکتے ہم کسی ایسی مجبور عورت کی مدد یا تورات کی خاطر کرتے ہیں یا پھر ایک سو روپے دے کر تصویر بنا کر فیس بک پر ڈال کر صورت کماتے ہیں خیر حجاب اڑا چلیں گئے ہو چکی تھی آنکھوں میں آنسو تھے دلخور شدہ تھا جسم کانپ رہا تھا نظر جھکی ہوئی تھی وہ بت بنی کھڑی ہو گئے بہت سی لڑکیاں کھڑی تھی وہ نظریں جھکائے کھڑی تھی اتنے میں ایک شخص آیا جو لوگ بھی علماء نے اس کی جانب دیکھا وہ چالیس سال کا شخص تھا انہوں نے پیسے پوچھے اس شخص نے پانچ ہزار روپے کہاں کہاں جانے لگی اس لوگ بے مجھے نہیں جانا وہ شخص مسکرا کر بولا اور پیسے چاہیے کیا حمزہ خان نہیں اتنی بھی ایک لڑکا جس کی عمر بیسسال تھی وہ بائیک پہ گزر رہا تھا اس کی نظر کی نظر پڑی وہ رک گیا اندازہ اس شخص سے کہنے لگی بھائی صاحب میں غلط لڑکی نہیں ہوں میرا بیٹا بیمار ہے مجھے اللہ کی بعثت سے پانچ ہزار روپے دے دیں وہ شخص کرایا ساتھ چلنا ہے تو بولو ورنہ کوئی پیسے دیکھیں وہ لڑکا سب دیکھ رہا تھا جبکہ خزانہ گی اس کے ساتھ تو وہ شخص کسی دوسری لڑکی کو لے کر چلا گیا تھا زمین پہ بیٹھ کر رونے لگی ہے اللہ مجھے بہت بے وفا لڑکا آگے بڑھا آہستہ سے آواز بھی زندہ انسان کا جسم کا گیا یہ کس نے آواز دی ہے نظر اٹھا کر دیکھا سامنے علی تھا

نظریں جھکا لیں علی آگے بڑھا کے سر پہ دوپٹہ بھیا پیزا اوپو ایف میرے ساتھ انسان خاموش تھی علی کوئی اور نہیں اس کے سکول کا پرنسپل تھا جس سکول میں ٹیچنگ کرتی تھینہ رو رہی تھی کچھ دور جاکر علی نے کہا میں آپ سے کچھ نہیں پوچھوں گا میں آپ کا ہر درد جان گیا ہوں آنسو صاف کرو انجانے علی کے سامنے ہاتھ کی ہڈی ریسرچ میں لگوا ہے میں غلط نہیں ہوں وہ میرا بیٹا بیمار ہے اس لیے آپ کو کچھ نہ بتانا آپ بات سمجھ گئے علی ہلکا سا مسکرایا چلو پاگل کنندہ کو گھر چھوڑا دس ہزار روپے دیے اور کہا میں کل آؤں گا پریشان نہ ہوں تو ساری رات نہ سوئے اسکی علی سر میں اتنی عزت کرتے تھے اب میری باری کیا سوچتے ہوں گے دوسرے دن الی اللہ کے گھر آیا ہنزہ بچوں کے لئے اداس بیٹھی ہوئی تھی نہ جانے کس سوچ میں گم دروازے پر دستک ہوئی علی تھا سامنے علی سر آپ علی مسکرایا عنزہ آپ سے ضروری بات کرنی ہے کہ نظر جھکا کر بولی الیسر کہیں علی آہستہ سے بولاکہ اگر میں کہوں مجھے آپ سے نکاح کرنا ہے تو پھر ظاہر انہیں سر علی نے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ خاموش نہیں بچوں کی جانب دیکھنے لگی علی مسکرایا انسان آپ کے بچے بچے ہوں گے آپ کو کبھی دھوکا نہیں دوں گا ہمیشہ ساتھ نبھاؤں گا

یہ آیت حضرت علی علیہ السلام آپ بدل جائیں گے بعد میں ہی پیار سے بولا اندھا یقین کر کے دیکھوں گا مگر ابھی کون بھلا کسی کے بچوں کو پالتی ہے ایسی یقین کرو لیکن کنزہ کے پاس کوئی اور راستہ بھی تو نہیں تھا انسان ہا کر دے نگاہ کے سامنے اپنا گھر اپنا اسکول کی ذات کا دیا اور ہاتھ تھام کر کا بندہ اتنی خوبصورت اور قرآن پاک کی حافظہ کو میں بازار میں نہیں دے سکتا تھا یہ ہمدردی نہیں بلکہ اچھا وارد ہونے کی علامت ہے آپ سے میں آپ کا لباس اور آپ میرا لباس تھا جسےآپ میری ہمسفر اور میں آپ کا محافظ ادا کی آنکھوں میں آنسو آگئے آسمان کی جانب دیکھنے لگے پھر ہلکا سا مسکرائی میرا اللہ کبھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتا کبھی اس سے زیادہ وہ درد نہیں دیتا ہاں آزمائش میں ضرور ڈالتا ہے اور دیکھنا ہے کون بھٹک جاتا ہے اور کون سا لگا شادی کو چھ ماہ گزرے تھے میں نے کہا آپ شادی سے پہلے سی ایس ایس کا امتحان دینا چاہتی تھی لیکن حالات کی وجہ سے نہیں دے سکی

آپ سی ایس ایس کا امتحان بے انتہا آہستہ سے بولی علیگڑھ سے نہیں پڑھا جائے گا بوسہ کیا میری جان میں ساتھ ہونا علی کی ضد پے انجان سی ایس ایس کا امتحان دیا رزلٹ کا انتظار تھا کچھ دن گزرے ہیں بچپن میں کھانا بنا رہے تھے علی گھرپہ ہاتھ رکھو اور میرے دل کو سکون دو دونوں بہت خوش تھے ان زمانے کو دیکھنے لگی بھارت محبت کی پیکر وفا کی بہت ہی بند کر ہر دفعہ سے بچانے والے سینے سے لگا کر ہر درد سے بچانے والے ہاتھ تھام کر نبھانے والے اور دوسری جانب وہ مارے جو اپنی ہم سفر کو گالیاں دیتے ہیں اپنے ہمسفر کو بات بات پے ڈانٹتے ہیں سفر کو دکھ کے سوا کچھ نہیں دیتے انجام مسکرا کر بولے اگر عورت کا دشمن سارا زمانہ بھی ہو نہ صرف ایک ساتھ نبھانے والا ہمسفر ہو تو عورت زمانے سے جیتی جاتی ہیں لیکن اگر زمانہ تو ساتھ ہوں لیکن ہم سفر ساتھ نہ ہو تو عورت جیت کر بھی ہار جاتی ہے اپنی عزت دینا سیکھو اس کو سینے لگانا سیکھو اس کی خوشیوں کو کچھ پر اس کے نام کرو طلاق دینا ساتھ چھوڑنا گالی دینا تھپڑ مارنا یہ سب کچھ کم ظرف وارد کرتے ہیں بھارت والی جیسے ہی چار بچوں کی ماں ہو جاتی ہیں

ہاتھنہ تھا وہ ایک دیو کا ہاتھ تھام کر دکھ میں ڈوبی ہوئی کنندہ کو مٹی کمشنر بنا دیتی ہے ایسی ہوتی ہے اچھے ہمسفر کی محبت اگر آپ کو ویڈیو اچھی لگی ہو تو لائک چینل کو سبسکرائب کریں اور ملتے ہیں ایک نئی ویڈیو کے ساتھ تب تک اپنا بہت سارا خیال رکھیں اللہ نگہبان

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *