رحمت علی محنت کر کے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتے تھے ۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھائینوں سکول جاتے ہوۓ

راچی کے ایک چھوٹے سے گھرانے کی بات ہے ایک آدمی رحمت علی جو کے محنت کر کے اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھادو بیٹیاں اور ایک بیٹا تینو بچے سکول جاتے تھے ان کے سکول کے راستے میں ایک ٹرین کی پٹری آتی تھی تینوں بہن بھائی کھیلتے کھیلتے حسی خوشی سکول سے آتے جاتے چھوٹی بیٹی بہت لاڈلی تھی اسے گڑیا سے کھیلنے کا بہت شوق ہوتا تھا اس کا نام اقصی تھا

وہ اپنی گڑیاکے لیے چھوٹی چھوٹی چیزیں اکٹھی کرتی رہتی تھی اقصی ایک دن سکول سے گھر آئی وہ بہت خوش تھی گھر آ کے سب نے مل کر کھانا کھا یا سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے جب رحمت علی شام کو گھر آتا تو بچوں کے لیے کچھ کھانے کا سامان لے آتا اقصی جو کے بہت لاڈلی تھی وہ بھاگ کر سب سے پہلے اپنے بابا سے گلے لگتی سب ہسنی خوشی رہتے تھے ایک دن جب رحمت علی گھر آیاتو اقصی نظر نہیں آئی جب بابانے آواز دی میری گڑیا کہا ہے پھر بھی وہ نہیں آئی اس کی امی نے کمرے میں جاکے دیکھا تو وہ اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہی تھی اس کی امی نے کمرے سے باہر آنے کو کہا اور وہ نہیں آئی جیسے اسے کوئی آواز سنی نہ ہو کچھ دن گزر گئے

وہ چپ رہنے لگی اس کے امی ابو بہت پریشان ہوے کے جو بیٹی ہر وقت بولتی رہتی اتنی باتیں کرتی اسے بولناپڑتا کے چپ ہو جو آجکل وہ بلکل چپ ہو گئی تھی اور آہستہ آہستہ کھانا پینا بھی کم کر دیا اور کمزور ہو گئی ایک دن اس کی امی نے دیکھا کمرے سے کچھ آواز ے ارہی تھیا قصی کمرے میں بیٹھی اکیلی باتیں کر رہی تھی جیسے کوئی اس کے ساتھ کھیل رہا ہو اور باتیں کر رہا ہو اس کی امی نے پوچھا کس سے بات کر رہی ہو تو ایک دم چپ ہو گئی اور وہاں سے اٹھ کے بھاگ گئی گرمیوں کا موسم تھا اور سخت گرمی کادن تھااوراقصی کمبل لے کر لیٹ گئی جیسے بہت سردی ہو جب اسے دیکھا تو وہ زور زور سے چیچنیں مارنے لگی اور اپنی بہن بھائی کو مارنے لگی جو بھی اس سے بات کر تاوہ اسے مارنے لگتی اس کے امی ابواسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتے کبھی کسی بابا کے پاس کوئی کہتا اس پے کسی چیز کا سایہ ہے جو بھی اس کے بارے میں سنتا یا ملتاہر کوئی کچھ نہ کچھ کہتار حمت اور اس کی بیوی بہت پریشان تھے اب تو اقصی سےکھانا پینا بھی چھوڑ دیا اور عجیب عجیب حرکت کرنے لگی کسی نے رحمت علی کو مشورہ دیا کے اسے مسجد کے امام مولانہ صاحب سے میلوں انھیں اس بارے میں بتاؤں رحمت نے ایسا ہی کیا مولانہ صاحب شام کور حمت علی کے گھر آے وہ جب اقصی سے ملے تو اپنھے محسوس ہوا کے کوئی دوسری مخلوق ہے

جو اسے تنگ کر رہی ہے خیر مولانہ صاحب نے اقصی پر کچھ سورتیں پڑھ کر دم کیااور کہا کے آج شام کو مغرب کے بعد میں اس بارے میں پتا کرو گا اگلے دن پھر شام کے وقت مولانہ صاحب ان کے گھر آے اور اپنے ساتھ ایک پانی کی بوتل لاے جس پر انہوں نے رات بھر پڑھائی کی تھی وہ پانی لاکر اقصی کے اپر چھینٹے ڈالے اور پوچھا کون ہو کیواس بچی کو تنگ کر رے کہا سے آے ہو تمہیں اس بچی سے کیا کام ہے تو اس نے بتایا کے میں یہاں ٹرین کی پٹری کے پاسرہتاہو یہاں میراگھر ہے یہ بچی وہاں سے میری بیٹی کے کھیلونے اٹھالائی ہے مجھے وہ چاہیے اقصی کے بہن بھائی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا ہمیں تو ایسا کچھ نہیں پتا اقصی تو بس کچھ پتھر اٹھا کے لائی تھی جن کے ساتھ وہ کھیلتی تھی رحمت علی نے پوچھا وہ پتھر کہا ہے اقصی نے وہ پتھر اپنے کھیلو نو میں رکھے ہوے تھے وہ جاکر واپس پٹری پر رکھ آے تو اقصی بلکل ٹھیک ہو گئی اور وہ پھر سے ہنسی خوشی رہنے لگے

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *