رائمہ عورت مارچ سے متاثر ہو کر باپ کو کہنے لگی میں

ا قصہ عورت مارچ میں ہیں والد سے چاہیے آزادی بھائیوں سے چاہے آزادی شوہر سے چاہے آزادی والد اگلے دن صبح را ئمہ بیٹی مبارک ہو میں نے عورت مارچ سے متاثر ہو کر آج سے تمہیں آزاد کر دیا ہے اب تم اپنی مرضی کی مالک ہو ۔ والد یہ کہہ کر آفس چلے ئے ۔ والد کے جانے کے بعد رائمہ نے اپنے بواۓ فریڈز اور دیگر دوستوں کو کامیاب عورت مارچ کی خوشخبری سنائیں ۔ شام میں

والد آفس سے واپس آتے ہی رائعہ سے مخاطب ہوتے ہیں را نہ ! تم ابھی تک گھر یہ ہو ؟ رائمہ حیرت سے کیوں ڈیڈ میں نے کہاں جانا تھا ؟ والد سنجیدگی سے صبح تمہیں کہا تھانا تم آزاد ہو ، چلو شاباش اپنا سامان پیک کرو اور یہاں سے نکل جاؤ ۔ رائمہ لیکن ڈیڈ والد بات کاٹتے ہوۓ لیکن ویکن کچھ نہیں جو کہ دیا ہو کہ دیا ۔ اب رائمہ کے پاس دو راستے تھےا ۔ گھر سے نکل جاۓ ۔ ۲۔ والد کے

قدموں میں گر کر معافی مانگے شاید معافی مل جائے ۔ لیکن را ئمہ نے حسن کے غرور میں گھر سے نکلنامناسب سمجھا اور اپنے بواۓ فرینڈ کا نمبر ملایا پیلو حامد تم کہاں ہو ؟ حامد جان پریشان لگ رہی ہو کوٹوں پر ایم ؟ رائمہ ڈیڈ نے گھر سے نکال دیا ہے مجھے تمہارے ساتھ رہنا ہے ۔ اوہ ڈونٹ وری یار آباؤ ، آس ویٹ یو ۔ رائمہ حامد کے ساتھ رہنے لگتی ہے ۔ ایک دن حامد کے کہنے پر

را ئمہ اپنے والد کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے ڈیڈ مجھے آپ کی جائیداد میں سے حصہ چاہیے ۔ والد تمہارے وارت مارچ میں وراثت کا ذکر نہیں دیکھا تقسیم وراثت تو اسلامی حکم ہے تمہیں اس سے کیا غرض ۔ موری تم یہاں سے جاسکتی ہو ۔ چند دنوں بعد رائمہ اور حامد جائیداد کے سلسلے میں عدالت جا پہنچتے ہیں ۔ رائمہ ایڈوکیٹ سے سر مجھے اپنے ڈیڈ کی جائیداد میں حصہ چاہیے

ایڈووکیٹ کچھ فائلیں الٹ پلٹ کرنے کے بعد ، را ئمہ صاحبہ اس بارے میں کچھ نہیں ہو سکتا ۔ آپ کے والد نے اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹے اور اپنی چھوٹی بیٹی کے نام کر دی ہے ۔ سوری ۔ مزید چند دنوں بعد ایک رات حامد ایک دوشیزہ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے گھر میں داخل ہوتا ہے ۔ رائمہ یہ منظر دیکھ کر سٹپٹا جاتی ہے اور حامد کو سوالیہ نظروں سے گھورنے لگتی ہے ۔ حامد را ئمہ ! ان

سے سے طویہ سمرین ہے میری منگیتر میرے پیرٹس نے اس سے میری شادی ارج کر دی ہے ۔ اور رائعہ تمہیں اب یہاں سے جاتا ہ کا خاندان میں باتیں بن رہی ہیں ، تم چاہو تو ایک دو دن اور رک جانو اد کے باۓ ۔ حامد یہ کہتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے ۔ وہ رات را خصمہ پر بہت بھاری گزرتی ہے اسے اپنے بچھڑے رشتہ دار ، لٹی عزت کا خیال بہت تڑپا تا ہے ۔ اگلے دن وہ چھوٹا سابینگ تھامے

حامد کے گھر سے منزل سے بے خبر نکل پڑتی ہے ۔ تھوڑی دیر بعد وہ بس اسٹاپ پر اس حال میں کھڑی تھی کہ پیر لرز رہے تھے ، دل کی دھڑکنیں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ، آنکھیں امنڈ نے کو بیتاب تھیں ۔ اچانک اس کے دل میں ایک خیال آتا ہے اور وہ موبائل نکال کر باری باری اپنے دیگر بوائے فریڈ ز کو کال ملاتی ہے ۔ پہلا بواۓ فریڈ کال رسیو نہیں کرتا ہے ۔ دوسرا بواۓ فریڈ دکھڑا

ینے کے بعد یار میرے پاس جگہ نہیں ہے ۔ تیسر ابواۓ فریڈ میں تمہیں ضرور اپنے پاس بلالیتا لیکن میں ایک ، دو دنوں میں بزنس کے سلسلے میں باہر جارہا ہوں سوری ڈیئر ۔ چو تھا بواۓ فریڈ بے بی میں تمہیں بہت چاہتا ہوں پر کیا کروں میرے رشتہ داروں کے مذہبی لوگ بہت باتیں بنائینگے تم کچھ اور دیکھ لو ۔ سب کے جواب سن کر را نمه کادل مل جاتا ہے ، آنکھوں کا بند ھو ٹوٹ جاتا ہے

اور آنسو آمنڈ آمنڈ کر چہرے کو تر کر دیتے ہیں ۔ رائمہ اپنا چہرہ چھپانا چاہتی ہے لیکن کاندھے پہ دو پہ نا سر پہ اسکاف وہ اپنے دستی رومال سے چہرہ چھپانے کی ناکام کو پیش کرتی ہے ۔ جی ہاں وہی چہرہ جس پہ برقہ ڈالتے ہوئے اسے ذلالت محسوس ہوتی تھی برقے والیاں پتھر کے زمانے کی لگتے تھیں ۔ رائمہ بوجل قدموں کے ساتھ چلنا شروع کر دیتی ہے اور بادل ناخواستہ اپنے

شہر میں قائم ایک ویلفیئٹر کے زیر اہتمام ” گیڈیز یوم “ میں پناہ گزین ہو جاتی ہے ۔ اب اسے اپنی اوقات نظر آتی ہے کہ وہ ٹیٹو پیپر ہے یا ڈپوز سیل بر تن جسے استعمال کر کے کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا گیا ہو یہ دنیا گول ہے رائمہ جس مرد سے آزادی کا نعرہ لگا کر چلی تھی آج وہ جس ادارے کے

رارہے اس کامالک بھی مرد منتظم بھی مردہ لیے چندہ کرنے والے بھی مرد ، چندہ دینے والے بھی مرد اور محافظ بھی مرد جی ہاں وہی مرد جو باپ اور بھائیں اور شوہر کے روپ میں پند نہیں تھے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *