ذرا سوچئے

گندی نہر کے اِرد گِرد لوگوں کی بھیڑ جمع تھی سب شور مچارہے تھے کوئی کہہ رہا تھا گیارہ بائیس کو فون کرو تو کوئی کہہ رہا تھا کہ واسا والوں کو فون کرو

ایک عورت کو لوگوں نے پکڑ رکھا تھا وہ چِلا رہی تھی میرا بیٹا مر رہا ہے اگر خود نہیں بچا سکتے تو مجھے نہر میں جانے دو میں اپنے بچے کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی لیکن لوگوں نے اُس کو پکڑ رکھا تھا اور کہہ رہے تھے نہر بہت زیادہ گہری ہے وہاں کوئی بھی نہیں جاسکتا۔

ایک دیہاتی بھیڑ دیکھ کر وہاں رک گیا اُس نے اپنا سائیکل وہاں کھڑا کیا اور بھیڑ میں گُھس کر آگے نکل گیا آگے پہنچ کر وہ حیران ہوا کہ ایک بچہ نہر میں غوطے کھا رہا ہے اور سب چُپ چاپ کھڑے دیکھ رہے ہیں۔

اُس نے بِنا کچھ سوچے سمجھے گندی نہر میں چھلانگ لگا دی۔ نہر میں جاکر وہ دیہاتی خود غوطے کھانے لگا وہ بہت زیادہ گہری سیوریج کی نہر تھی قریب ہی تھا کہ وہ بچا مر جاتا لیکن دیہاتی نے اپنی جان پر کھیل کر اُس بچے کو گندی نہر سے نکال لیا۔

جونہی وہ دیہاتی باہر نکلا اُس نے فوراً بچے کو اُلٹا لٹکا دیا جِس سے اُس بچے کہ مُنہ سے بہت سا گندا پانی باہر نکلا اور بچے کی سانس بحال ہو چُکی تھی وہ بہت زیادہ رو رہا تھا ۔

ماں اپنے بیٹے کو سینے سے لگا کر رو رہی تھی ۔
دیہاتی کے چہرے پر عجیب خوش نُما چمک تھی لیکن اُس کے سفید کپڑے کیچڑ سے لٙت پٙت ہو چُکے تھے جِس کی وجہ سے لوگ دور سے کھڑے اُسے شاباش دے رہے تھے

وہ عورت آگے بڑھی اور دیہاتی کے آگے ہاتھ جوڑ کر بولی بھائی تُم فرشتہ ہو تُم نے میرے بیٹے کی جان بچائی ہے۔
دیہاتی بولا میں کوئی فرشتہ نہیں میں تو ایک انسان ہوں اور انسان کا فرض ہے دوسروں کی مدد کرنا۔

وہ عورت بولی اگر تُم انسان ہو تو اِن لوگوں میں کوئی ایک بھی ایک انسان نہیں ہے۔
سب اپنی نظریں چُرا کر وہاں سے ایک ایک کر کے جانے لگے۔

عورت دیہاتی سے بولی بھائی میرا گھر قریب ہی ہے آوُ آپ کے کپڑے دھلوا دوں مجھے افسوس ہے کہ میں آپکا شکریہ ادا نہیں کر سکتی لیکن پھر بھی اگر کوئی کام میرے لائق ہے تو بتائیں میں ایک اچھے گھر سے تعلق رکھتی ہوں اگر پیسے چاہیے تو وہ بھی بتا دو میں دے دوں گی۔

دیہاتی اُس عورت کی بات سُن کر بولا اگر مجھے پتا ہوتا کہ اِس بچے اور میری جان کی کیا قیمت ہے تو ضرور مانگ لیتا لیکن اب مجھے کچھ نہیں چاہیے اجر تو صرف اللّٰہ کی ذات دیتی ہے بندوں کا کام تو بس دوسروں کے کام آنا ہے۔

اُس عورت کی آنکھوں میں آنسو تھے وہ کچھ سمجھ نہ پائی تو دیہاتی کا شُکریہ ادا کرتی ہوئی چلی گئی

سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف جا چُکے تھے
دیہاتی اپنے گھر کی طرف جانے لگا تو اُس کی سائیکل بھی چوری ہو چُکی تھی۔

*کیا ہم میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں؟*

*ذرا سوچئے….

Categories

Comments are closed.