دو کیلے لگاتار ایک مہینے تک

امریکہ میں استعمال ہونے والے پھلوں میں کیلا سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ وہ لوگ مالٹے اور سیب سے زیادہ کیلوں پر پیسے خرچ کرتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کیلے میں سیب کی نسبت چارگنا زیادہ پروٹین، دو گنا زیادہ کاربوہائیڈریٹ ، تین گنا زیادہ فاسفورس،پانچ گنا زیادہ وٹامن اے وٹامن اور منرلز بھی سیب کی نسبت دو گنا ہوتا ہے ۔کیلے اصل توانائی کا بے بہا خزانہ ہے یہ ایک ایسا جادوئی پھل ہے جو انسانی جسم کو پلک جھپکتے ہی توانائی فراہم کرتا ہے ۔

ریشے بنانے والے عناصر پروٹین وٹامنز معدنیات اور توانائی کا امتزاج اس میں پایا جاتا وہ بہت کم کسی پھل میں ہوتا ہے ۔کسی بھی اور تازہ پھل کے مقابلے میں کیلا کیلوریز کی مقدار اور کم تررطوبتوں کے اجزاء سے مالا مال ہوتا ہے ۔ یہ ایک بڑا کیلا سوسے زیادہ کیلوریز رکھتا ہے ۔اس میں آسانی سے حل ہوجانے والی شکر کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے ۔ جواسے فوری توانائی کا ذریعہ اور تھکن پر غالب آجانے والے اجزاء کا وسیلہ بناتی ہے ۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ایک یا دو کیلے کھانے سے انسان میں اتنی توانائی پیدا ہوتی ہے ۔ وہ ڈیڑھ گھنٹے تک مسلسل کام کرتا ہے ۔ جسمانی توانائی کی بحالی اور الیکٹرولائٹس کے باعث کیلے ایکسرسائز کرنے والے افراد کیلئے انرجی ڈرنکس سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے ۔کیلا نہ صرف انرجی فراہم کرکے ہمیں فٹ رکھتا ہے

بلکہ بہت سی بیماریوں پر قابو پانے اور ان سے محفوظ رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے ۔ کیلادنیا کا قدیم ترین اور معروف ترین پھل ہے ۔ یہ بیج کے بغیر ایک ایسا لذیذ پھل ہے۔جو ہر موسم میں ملتا ہے ۔اس کا موٹا چھلکا اسے بیکٹریا اور آلودگی سے بچائے رکھتا ہے دلچسپ بات یہ ہے کیلے کے پودے میں لکڑی بلکل نہیں ہوتی۔ اس کی اونچائی دس سے پندرہ فٹ تک ہوتی ہے اس میں پتوں کے علاوہ کوئی شاخ نہیں ہوتی ۔ایک درمیانے کیلے میں تین گرام فائبر ہوتا ہےجوکہ ہمیں درکار مقدار کا دس فیصد ہے ۔ اس کے علاوہ کیلوں میں پری بائیوٹک بھی ہوتا ہے ۔فائبر کی ہی ایک قسم ہے اسی معدے فائدہ مند بیکٹریا کی تعداد بڑھانے میں مدد دیتی ہے ۔

یہ بیکٹیریا نظام ہاضمہ بہتر کرتے ہیں موسمی نزلہ زکام کا دورانیہ کم اور جسمانی وزن کم کرنے میں مدد کرتے ہیں۔آجکل لاکھوں ڈاکٹر حکیم حضرات سے سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ ہمارا معدہ کیسے بہتر کام کرسکتا ہے ۔ لوگوں کی اکثریت معدے کی تیزابیت کا شکار ہوتی ہے ۔ انہیں سینے میں جلن کا مسئلہ درکار ہوتا ہے ۔ کیلا کھانے سے جسم میں قدرتی طور پر تیزابی مادے تحلیل ہوجاتے ہیں۔ اس لیے جب کبھی آپ کو سینے میں جلن کی شکایت ہو۔ کھٹی ڈکاریں آرہی ہوں کیلے کھا لیا کریں اس سے آرام ملے گا ۔کیلے میں چونکہ فائبر کی بہتات ہوتی ہے ۔ اس لیے آنتوں کی تحریک کو بحال رکھتا ہے قبض کا شکار افراد قبض کشا دواؤں کے بغیر اپنا یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔

Categories

Comments are closed.