دو نوجوان بہنوں کا ایک اکلوتا بھائی تھا جس کی محلے کے

الدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا نا ہو گیا ۔ ہاتھا پائی ہونے کے بعد کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔ اس کے بعد جنید گھر آ کر اپنے کمرے میں بیٹھ گیا ۔ اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا ۔ اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد ،

آگئی دوست نے اسے ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تیں منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا ۔ جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا ۔ ایک گھنٹے کے بعد وہ گرفتار ہو جاتا ہے ۔ گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں ۔ اس کی ماں بے ہوش ہو گئی تھی ۔ مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا ۔ ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی ۔ بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا تھا ۔ اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے تھے ۔ بہنوں کی رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی ۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے

بہنیں اور والدین ملاقات کے لیے جاتے ۔ بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا ۔ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کس کو سلائیں گے ، ہم بھائی کی ناز کیسے اٹھائیں گے ، بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا ۔ فیصلے کا دن آ جاتا ہے اور جنید کو سزائے موت ہو جاتی ہے ۔ سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی پچپیں منٹ گزر چکے تھے اور جنید کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا ۔ جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں مجلس رہے تھے ۔ جنید کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھر کی طرف لے جایا گیا ۔ انیس منٹ ہو چکے تھے ، پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی تیں منٹس ہو گئے ۔ جنید پسینہ پسینہ ہو

چکا تھا ۔ اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی ۔ اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا ۔ اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس چلا گیا ۔ بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا کہ میری پیاری بہنو تمھارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے ، خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمھیں ڈاکٹر بننا ہے ۔ چند ماہ بعد جنید ایک بینک میں اچھی پوسٹ پر

بن ملازم ہو گیا اور جنید کی دونوں بہنیں بھی ڈاکٹر گئیں ۔ اب وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان تیس منٹ کی تصوراتی واردات اور تیس منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا

Categories

Comments are closed.