دو بہنوں کے منہ میں کپڑ اٹھونس کر کھیتوں

ہ ایک چھوٹے سے گاؤں کا واقعہ ہے دو پہر کا وقت تھا اور دو بہنیں جن کی عمر تیرہ اور چودہ سال کے قریب ہو گی گھر سے نکلیں اور چارہ کاٹنے کے لئے قریبی کھیتوں میں چلی گئیں ان کو معلوم نہیں تھا کہ ایک آدمی خاموشی سے ان کا پیچھا کر رہا ہے ۔ جب دونوں بہنیں کھیت کے اندر چلی گئیں

تو وہ آدمی بھی بری نیت لے کر چپکے سے ان کے پیچھے کھیت میں چلا گیا وہ آدمی توانا اور جوان تھا اس لیے دونوں بہنوں کو قابو کرنے میں اسے کچھزیادہ وقت نہیں لگا ۔ اس نے لڑکیوں کے منہ میں کپڑا ٹھونس م کر اور ان کے ہاتھ پیچھے باندھ کر زیادتی کا نشانہ بناڈالا ۔ پھر جب دونوں بہنیں کافی دیر کے بعد بھی گھر نہ پہنچیں تولڑ کیوں کا بوڑھا غریب باپ ان کو تلاش کرتا کرتا کھیتوں میں آیا جہاں اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کو نامناسب حالت میں باندھا ہوا پایا تو اس نے شور مچا کر گاؤں والوں کو اکٹھا کیا ۔

پھر جب لڑکیوں نے بتایا کہ فلاں آدمی نے ایسا کیا ہے تو اس بد بخت آدمی کو پکڑ لیا گیا لیکن وہ کافی باثر تھا اور گاؤں کے وڈیرے کے ساتھ اس کے اچھے خاصے تعلقات تھے ۔ اسی شام گاؤں کے وڈیرے کی موجودگی میں پنچایت فیصلہ کرنے بیٹھ گئی ۔ لڑکیوں کا باپ اور گھر والے گہرے صدمے میں تھے لیکن ، ان کو امید تھی کہ شاید فیصلے میں ان کو انصاف مل جاۓ اور ان کی بیٹیوں کے مجرم کو کڑی سزامل جاۓ ۔ دونوں لڑکیوں کی موجودگی میں اس بد بخت شخص سے تھوڑی دیر تک تفتیش ہوئی اور وہ پنچایت کے سامنے مجرم ثابت ہو گیا ۔

اب لڑکیوں کے گھر والے انصاف طلب نظروں سے وڈیرے کی جانب دیکھ رہے تھے ۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعد گاؤں کے وڈیرے نے حکم جاری کر دیا کہ یہ آدمی دونوں بہنوں سے زیادتی کا مجرم ثابت ہو گیا ہے اس لئے عدالت حکم دیتی ہے کہ دونوںبہنیں زمین پر تھو کیں گی اور یہ آدمی اس تھوک کو اپنی زبان سے چائے گا ۔ وڈیرے کا یہ عجیب اور ناانصاف فیصلہ سن کر لڑکیوں کے گھر والے اور گاؤں کے سارے افراد حیران ہو گئے اور سوچ رہے تھے کہ اس گھناؤنے کام میں ملوث آدمی ں کو سخت سزا ہونی چاہیے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا تھا ۔

بد قسمت لڑکیوں کے باپ نے کچھ سوچ کر کہا کہ مجرم کے تھوکچاٹنے سے اس کی بیٹیوں کی عزت واپس نہیں آۓ گی لہذا اس نے مجرم کو معاف کیا ۔ اگلے دن وہ غریب آدمی اپنے لٹے پٹے خاندان کو لے کر کسی انجان منزل کی طرف روانہ ہو گیا اور یوں ظلم کے لا تعداد واقعات میں ایک اور باپ کا اضافہ ہو گیا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *