”دوکاندار بڑے شوق سے دونوں لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا ابھی ابھی اپنی کسی بزرگ خاتون کیساتھ دکان میں داخل ہوئیں“

دکاندار بڑے شوق سے دونوں لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا۔ جو ابھی ابھی اپنی کسی بزرگ خاتون کے ساتھ دوکان میں داخل ہوئیں۔ بزرگ خاتون کی عمر کا اندازہ لگانا ذرا مشکل تھا کیونکہ وہ مکمل نقاب میں تھیں۔ جبکہ لڑکیاں بیس اکیس کے لگ بھگ ہونگی ۔ لڑکیاں کیا ٹخنوں تک اٹھا ہوا چست پاجامہ ، کھلے ریشم جیسے لہراتے ہوئے سلکی بال ۔ ان کے دوکان میں داخل ہوتے ہی پوری دکان بھینی بھینی خوشبو سے مہک اٹھی ۔

دوکان میں موجود سبھی ورکر بے اختیا ر ان کی طرف متوجہ ہوگئے ۔ ہر کسی کی یہی مرضی کے وہی ان کو ڈیل کرے ۔ کیش کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے صاحب نے ملازم کو فوری طور پر انہیں کرسیاں پیش کرنے کو کہا اور ساتھ ٹھنڈا لانے کا بھی کہہ دیا۔ دوکان میں لگی تمام روشنیوں کو روشن کردیا گیا ۔ کپڑے کے تھان کھول دیے گئے ۔ مختلف نفیس کام دکھائے جانے لگے ۔ دونوں لڑکیاں دلچسپی سے کام دیکھنے لگیں۔ بزرگ خاتون جو یقیناً ان کی ماں ہی تھیں۔ دوکاندار کو یہی کہتی رہیں۔

بھائی ایسا کام دکھاؤ جسے دیکھ کر بیٹیاں خوش ہوجائیں۔ برابر سیٹ پر بیٹھی ہوئی ایک اور خاتون نےانہیں مخاطب کرتے ہوئے پوچھا ۔ بہن ماشاء اللہ یہ آپ کی بیٹیاں ہیں۔ نقاب پوش خاتون نے اترکر کہا ۔ جی ہاں میری بیٹیاں ہیں مگر آپ خود تو نقاب میں ہیں ۔ خاتون نے سوالیہ انداز میں پوچھا ۔ یہ بھی بڑی ہوکر نقاب لے لیں گی ۔ نقاب پوش خاتون نے کہا لیکن بڑے ہوکر کیوں ابھی کیوں نہیں خاتون نے پوچھا ۔ ابھی انکے دن ہیں بچیاں ہیں بڑی ہونگی تو خود ہی کرلینگی ۔ نقاب پوش خاتون نے کہا لیکن ان کو نقاب کی ابھی ہی تو ضرورت ہے ۔

جب کہ ان کا حسن پورے عروج پر ہے ۔ جو ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کررہا ہے ۔ آپ اگر غور کریں تو ا س وقت دکان میں موجود تمام مردوں کی نگاہیں انہیں پر مرکوز ہیں اور سب انہیں بہت دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس کوئی ایک مرد بھی آپ س ےمخاطب تک نہیں ۔ کیونکہ جب ایک عورت کی عمر ڈھل جاتی ہے ۔ اس کا حسن ماند پڑ جاتا ہے پھر سب کو اس میں ممتاز نظر آنے لگتی ہے اور ممتاپر کبھی قربت بھری نگاہ نہیں پڑتی۔ یہ نظر صرف حسن وجوانی پر ہی دلتی ہے ۔

لہذا آپ سے زیادہ پردہ کی ضرورت ان بچیوں کو ہے ۔ کیونکہ نایاب چیزیں ڈھکی چھپی ہوئی ہوتی ہیں اور جو چیزیں سرے عام دستیاب ہو وہ نایاب نہیں رہتیں۔ ان بچیوں کو ایسی نظروں سے بچانا آپ کا فرض ہے اور اسکے لیے یہی وقت مقرر ہے ۔ ان بچیوں کے حسن سب لطف اندوز ہورہے ہیں۔کیونکہ یہ سب کو دستیا ب ہے اور یہی وہ گ ن ا ہ کبیرہ ہے جس کی کوئی معافی نہیں ۔

Categories

Comments are closed.