دل کا بار بار ٹوٹنا اس بات کی نشانی ہے کہ؟

عشق حقیقی ہو یا عشق مجازی ! دونوں میں شرک کی گنجائش نہیں ہوتی۔جب دنیا والے تمہیں گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں ، تو یہی بہترین وقت ہے ، سجدے کا۔اگر تمہیں سب راستے بند نظر آئیں تو وہ تمہیں ایسا پوشیدہ راستہ دکھا دے گا، جس کے بارے کوئی نہیں جانتا ہو گا۔ اس دنیا میں کوئی خزانہ، سانپ کے بغیر ،کوئی پھول،کانٹے کے بغیر اور کوئی خوشی ، غم کے بغیر نہیں ہے ۔جب انسان کی آنکھوں سے ندامت کے آنسوں بہتے ہیں ، تو اس پر رب کی رحمت برستی ہے۔خدا تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں لیکن میں نے خدا کا پسندیدہ ترین راستہ مخلوق سے محبت چنا۔مولانا رومی سے کسی نے پوچھا زہر کیا ہے ؟ فرمایا کہ ہروہ چیز جو ہماری ضروریات سے زیادہ ہو ، زہر ہے ۔

جیسے قوت، اقتدار، دولت ،بھوک ، لالچ ،محبت، نفرت۔میں نے بہت سے انسان دیکھے ہیں جن کے بدن پر لباس نہیں ہوتا اور بہت سے لباس دیکھے ہیں جن کے اندر انسان نہیں ہوتا۔رومی سے کسی نے پوچھا! کونسی موسیقی (میوزک)حرام ہے ؟ رومی نے جواب دیا : امیروں کے برتنوں میں چمچ کی وہ کھنک جو غریب اور بھوکے کے کانوں تک پہنچتی ہے ۔اپنے دل کو اس وقت تک توڑتے رہو جب تک یہ کھل نہ جائے۔ اگر تم عظمت کی بلندیوں کو چھونا چاہتے ہو تو اپنے دل میں انسانیت کے لئے نفرت کے بجائے محبت آباد کرو۔بڑی مبارک ہے وہ آنکھ جو اس ( اللہ ) کے لئے روتی ہے اور بہت مبارک ہے وہ دل جو اس کی خاطر جل بھن رہا ہے۔شریف آدمی وہ ہے کہ اگر کوئی اس کو تکلیف پہنچائے تووہ رنجیدہ نہ ہو۔

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا، اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا،

اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.