”دعا قبول کیوں نہیں ہو تی حضرت علی ؓ ۔ دعا ہمیشہ ایسے مانگو ۔ ضرور قبول ہو گی۔“

کسی شخص نے امیر المومنین علی علیہ السلام کے سامنے دعا قبول نہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے عرض کی: یا امیرالمؤمنین!جبکہ خداوندعالم قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا،لیکن اس کے باوجود کیا وجہ ہے کہ ھم ھر چند دعا کرتے ہیں لیکن ھماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں؟

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس کے جواب میں ارشاد فرمایا ،تمہارے دل و دماغ نے آٹھ چیزوں میں خیانت کی ہے، ( جس کی وجہ سے تمہاری دعا قبول نہیں ہوتی): تم نے خدا کو پہچان کر اس کا حق معرفت ادا نہیں کیا، اس لئے تمہاری معرفت نے تمھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ تم اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر پر ایمان تو لے آئے ہو لیکن اس رسول کی سنت کی عملی طور پر مخالفت کرتے ہو،

ایسے میں تمھارے ایمان کا کیا فائدہ ہے؟ تم اس کی کتاب کو تو پڑھتے ہومگر اس پر عمل نہیں کرتے، زبانی طور پر تو کہتے ہو کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، لیکن عملی میدان میں اس کی مخالفت کرتے ہو! تم کہتے ہو کہ ہم خدا کے عذاب سے ڈرتے ہیں لیکن اس کے باوجود اسکی نافرمانی کی طرف قدم بڑھاتے ہو

اور اس کے عذا سے نزدیک ہوتے رہتے ہوتم کہتے ہو کہ ہم جنت کے مشتاق ہیں حالانکہ تم ہمیشہ ایسے کام کرتے ہو جو تمھیں اس سے دور لے جاتے ہیں۔ نعمتِ خدا سے فائدہ اٹھاتے ہو لیکن اس کے شکر کا حق ادا نہیں کرتے! ۷۔ اس نے تمھیں حکم دیا ہے کہ شیطان سے دشمنی رکھو (اور تم اس سے دوستی کا نقشہ بناتے رہتے ہو) تم شیطان سے دشمنی کا دعویٰ تو کرتے۔

ہو لیکن عملی طور پر اس کی مخالفت نہیں کرتے۔تم نے لوگوں کے عیوب کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہے اور اپنے عیوب کو مڑکر بھی نہیں دیکھتے،ان حالات میں تم کیسے امید رکھتے ہو کہ تمہاری دعائیں قبول ہوں جب کہ تم نے خود اس کی قبولیت کے دروازے بند کر دئیے ہیں ،تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرو، اپنے اعمال کی اصلاح کرو،

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو تاکہ تمہاری دعا قبول ہوسکے۔جیسا کہ ہم سب ہی اس بات سے بہت ہی اچھے سے واقف ہیں کہ دعا مومن کا ایک بہت ہی بڑا ہتھیار ہے ہر کوئی یہی چاہتا ہے کہ اس کی جو دعا ہو وہ ضرور قبول ہو اور وہ اس بات کو آس بنا کر اللہ پاک سے دعائیں مانگتا ہے۔

مگر اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اللہ پاک نے اس کی تمام وجو ہات بتا دی ہیں۔ ہمیں دعا مانگنے سے پہلے کوئی بھی دعا مانگنے سے پہلے ، پہلے تو ہمیں اپنے گ ن ا ہ وں کو لے کر اپنے رب کے حضور توبہ کر نی چاہیے اس کے بعد رو رو کر گڑ گڑ ا کر اپنے رب کے ہاں دعا مانگنی چاہیے کہ اے اللہ ہمیں معاف فر ما اور ہمیں بخش دے اور میری دعائیں قبول فر ما ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *