درود تاج

آج آپ کو درود تاج کے بارے میں بتا ئیں گے۔ درود تاج گھروں ، دفتروں اور دکانو ں میں روزانہ صبح تین بار سن لیں۔

اس کو سننے سے کاروبار میں برکت ہوگی۔ جادو ، جنات اور نظر بد اثر نہیں کرے گا۔ انشاءاللہ! ہر اسم کا روحانی فائدہ حاصل ہوگا۔ درود تاج بے پناہ فیوض و برکات کا منبع ہے اور یہ عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب وظیفہ ہے۔ بے پناہ صوفیاء اور اولیاء نے یہ درود پاک خود پڑھا اور اپنے سلسلہ طریقت میں اپنے ارادت مندوں کو پڑھنے کی تلقین کی۔ اس درود پاک میں پڑھنے والے کو صاحبِ کشف بنا دینے کی خصوصیت بہت نمایاں ہے۔لہٰذا اگر کوئی شخص صاحبِ کشف بننا چاہے

تو اسے چاہیئے کہ اس درود پاک کو روزانہ سو مرتبہ پڑھے اور تین سال تک یہی معمول جاری رکھے انشاءاللہ اس عرصے میں صاحبِ کشف بن جائے گا۔ اور اگر وہ اس سلسلے کو تا حیات جاری رکھے تو وہ ضاحبِ روحانیت بن جائے گا۔ کیونکہ درود صفائی قلب کے لیے نہایت ہی اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا خواہشمند ہو تو وہ اسے شبِ جمعہ میں ایک سوستر مرتبہ پڑھے اور چالیس جمعہ تک یہی عمل جاری رکھے انشاءاللہ شرفِ زیارت سے مشرف ہو گا۔بانجھ عورت کے واسطے اکیس خُرموں پر سات دفعہ پڑھ کر دم کرے اور ہر روز ایک خُرمہ اس کو کھلائے۔ پھر بعد غسلِ طہارت اُس سے قربت ہو۔

خدا کے فضل سے فرزندِصالح پیدا ہو گا۔ اگر حاملہ عورت کو کسی بھی قسم کا خلل ہو تو سات دن تک سات مرتبہ روزانہ پڑھ کر پانی پر دَم کر کے پلائے۔ مالک کے فضل سے خیر ہو گی۔اور درود تاج یہ ہے
“اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ صَاحِبِ التَّاجِ وَ الْمِعْرَاجِ وَ الْبُرَاقِ وَ الْعَلَمِ o دَافِعِ الْبَلَآئِ وَ الْوَبَآئِ وَ الْقَحْطِ وَ الْمَرَضِ وَ

الْاَلَمِo اِسْمُہٗ مَکْتُوْبٌ مَّرْفُوْعٌ مَّشْفُوْعٌ مَّنْقُوْشٌ فِی اللَّوْحِ وَ الْقَلَمِo سَیِّدِ الْعَرَبِ وَ الْعَجَمِo جِسْمُہٗ مُقَدَّسٌ مُّعَطَّرٌ مُّطَہَّرٌ مُّنَوَّرٌ فِی الْبَیْتِ وَ الْحَرَمِo شَمْسِ الضُّحٰی بَدْرِ الدُّجٰی صَدْرِ الْعُلٰی نُوْرِ الْہدٰی کَہْفِ الْوَرٰی مِصْبَاحِ الظُّلَمِo جَمِیْلِ الشِّیَمِ ط شَفِیْعِ الْاُمَمِ ط صَاحِبِ الْجُوْدِ وَ الْکَرَمِo وَ اللّٰہُ عَاصِمُہٗ وَ جِبْرِیْلُ خَادِمُہٗ وَ الْبُرَاقُ مَرْکَبُہٗ وَ الْمِعْرَاجُ سَفَرُہٗ وَ سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی مَقَامُہٗ وَ قَابَ قَوْسَیْنِ مَطْلُوْبُہٗ وَ الْمَطْلُوْبُ مَقْصُوْدُہٗ وَ الْمَقْصَوْدُ مَوْجَوْدُہٗ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ شَفِیْعِ الْمُذْنِبِیْنَ اَنِیْسِ الْغَرِیْبِیْنَ رَحْمَۃٍ لِلْعٰلَمِیْنَ رَاحَۃِ الْعَاشِقِیْنَ مُرَادِ الْمُشْتَاقِیْنَ شَمْسِ الْعَارِفِیْنَ سِرَاجِ السَّالِکِیْنَ مِصْبَاحِ الْمُقَرَّبِیْنَ مُحِبِّ الْفُقَرَآئِ وَ الْغُرَبَآئِ وَ الْمَسَاکِیْنِ سَیِّدِ الثَّقَلَیْنِ نَبِیِّ الْحَرَمَیْنِ اِمَامِ الْقِبْلَتَیْنِ وَسِیْلَتِنَا فِیْ الدَّارَیْنِ صَاحِبِ قَابَ قَوْسَیْنِ مَحْبُوْبِ رَبِّ الْمَشْرِقَیْنِ وَ الْمَغْرِبَیْنِ جَدِّ الْحَسَنِ وَ الْحُسَیْنِ مَوْلیٰنَا وَ مَوْلٰی الثَّقَلَیْنِ اَبِیْ الْقَاسِمِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ نُوْرِ مِّنْ نُوْرِ اللّٰہِo یَآیُّہَا الْمُشْتَاقُوْنَ بِنُوْرِ جَمَالِہٖ صَلُّوْا عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ اَصْحَابِہٖ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا”

Categories

Comments are closed.