”دجال سے صح.بت کرنے والی عورت کی نشانی کیا ہوگی؟“

قیامت کے دن تک دجال کے فتنے سے عظیم فتنہ نہ واقع ہوا ہے اور نہ ہوگا حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا قی۔امت کے دن تک دجال کے فتن۔ے سے عظیم فت۔نہ نہ واقع ہوا ہے اور نہ ہی واقع ہوگا دجال کے معنی غلط ملط کردینے والا جھوٹا شاطر اور چال با ز ہے اور دجال کو دجال اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حق کوباطل کے ذریعے ڈھانپ دے گا یہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے جھوٹ تلبیس اور شاطرانہ چالوں کی وجہ سے اپنے کفر کو لوگوں سے چھپا لے گا دجال اولاد آدم میں سے ہے اس کا نکلنا برحق ہے اور اس دنیا میں موجود ہے

البتہ کس جگہ ہے اس کی بابت اللہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں دجال کے بیشمار صفات احادیث میں بیان کی گئی ہیں تا کہ لوگ اسے پہچان لیں اور اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں دجال کی صفات میں سے یہ ہے کہ وہ مرد ہوگا جوان ہوگا س۔رخ ہوگا پست قد ہوگا اس کی پیشانی کشادہ ہوگی اس کا سینہ چوڑا ہوگا اس کی داہنی آنکھ خراب اورپچکے ہوئے انگور کی مانند ہوگی

اور اس کی آنکھ پر موٹا ناخونہ ہوگا وہ بانجھ ہوگا اس کی اولاد نہ ہوگی اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا ہ جانتا ہو جب کہ کافر اور بد بخت لوگ اس کی صفات کو جاننے کے بعد بھی اسے نہ پہچان سکیں گے اور اس کے فتنے میں پھنس جائیں گے صحابہ کرام فتنہ دجال سے کس قدر خائف اور لرزاں رہتے تھے اس کا صحیح اندازہ اوس بن سمعان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس حدیث سے ہوتا ہے

جسے امام مسلم نے روایت کیا ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن صبح کو دجال کا ذکر کیا تو کبھی اس کو گھٹایا اور کبھی بڑھایا یہاں تک کہ گمان ہوا کہ دجال ان درختوں کے جھنڈ میں آگیا ہے پھر ہم آپ کے پاس شام کو گئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے چہروں پر اس کا اثر معلوم کیا یعنی ڈر اور خوف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا حال ہے

ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آپ نے دجال کا ذکر کیا اور اس کو گھٹایا اور بڑھایا یہاں تک کہ ہم کو گمان ہوگیا کہ دجال کھجور کے ان درختوں میں موجود ہے یعنی اس کا آنا بہت قریب ہے ذرا غور کیجئے کہ ایک دن جب مجلس نبوت میں فتنہ دجال کا ذکر ہوتا ہے تو آپ کے جانثاران اس کی سنگینی کو بھ۔انپ کر نیم م۔ردہ ہوجاتے ہیں ان کے دلوں میں خ۔وف و وحش۔ت ط۔اری ہوجاتی ہے اور انہیں یہ گمان ہونے لگتا ہے۔ کہ شاید وہ ان کا ن۔والہ بننے والے ہیں جی ہاں یہ فت۔نہ ہی فی الواقع نہایت دل دوز اور روح فرسا ہوگا دجال کا خروج مشرقی ایک سرزمین سے ہوگا

جسے خراسان کہتے ہیں وہ اصفہان کے قبیلہ یہودیہ میں سے ہوگا اصفہان مغرب میں ایک شہر ہے جسے آج شہر ستان کے نام سے جانا جاتا ہے سنن ترمذی میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال مشرقی ایک سرزمین خراسان سے نکلے گا اس کا ساتھ دینی والی ایسی قوم ہوگی جن کے چہرے چوڑے چوڑے ہوں گے یعنی گول منہ موٹے جیسے ترک لوگ ہوتے ہیں ۔حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دجا ل با ئیں آنکھ کا کا نا۔

اور بہت بالوں والا ہوگا ،اس کے ساتھ جنت اور جہنم ہوگی، لیکن اس کی جہنم جنت اور اس کی جنت جہنم ہوگی۔حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی صحیحین کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا : اس کے ساتھ آگ اور پانی ہوگا، لیکن حقیقت میں اس کی آ۔گ ٹھنڈا پانی ہے، اوراس کا پانی آ۔گ ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو سعد بن أبی قاص رضی اللہ عنہ ان کی عیادت کے لئے آئے اور ان کو روتا ہوا پایا، سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے بھا ئی آپ کس لئے رورہے ہیں ؟ کیا آپ نے رسول اکرم ﷺ کی ص۔ح۔ب۔ت سے فیض نہیں اُٹھایا ؟

کیا ایسا نہیں ہے ؟ کیا ایسا نہیں ہے ؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان دونوں میں سے کسی بھی وجہ سے نہیں رو رہا ، نہ تو دنیا کی حرص کی وجہ سے اور نہ اس وجہ سے کہ آخرت کو ناپسند کرتا ہوں، بلکہ رسول اکرم ﷺ نے مجھے ایک نصیحت کی تھی ، جہاں تک میرا خیال ہے میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے، سعد رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا نصیحت تھی ؟ سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا : تم میں سے کسی کے لئے بھی دنیا میں اتنا ہی کافی ہے جتنا کہ مسافر کا توشہ ، لیکن میں نے اس سلسلے میں زیادتی کی ہے ، اے سعد ! جب آپ فیصلہ کرنا تو اللہ تعالی سے ڈرنا ، جب کچھ تقسیم کرنا تو اللہ تعالی سے ڈرنا ،اورجب کسی کام کا قصد کرنا تو اللہ تعالی سے ڈرکر کرنا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.