خوبصورت لڑکا دیکھ کر بادشاہ کا دل بے چین

یک دفعہ بادشاہ کا دربار لگا ہوا تھا اور سزا و جزا کے فیصلے ہو رہے تھے ۔ کچھ لوگوں کو رہائی مل رہی تھی جبکہ کچھ بد نصیبوں کے سر قلم ہو رہے تھے ۔ پھر سپاہی ایک نوجوان اور خوبصورت لڑ کے کو پکڑ کر بادشاہ کے سامنے لائے ، وہ سزائے موت کا مجرم تھا اور آج اس کا سر قلم ہونے والا تھا ۔

موت کا خوف اس کے خوبصورت چہرے پر واضح تھا اور دربار میں موجود سب لوگ اس نوجوان کی بے وقت موت پر افسوس کر رہے تھے خود بادشاہکا دل بھی اس خوبصورت جوان کے لیے بے چین تھا ۔ بادشاہ ۔ نے اس لڑکے کا جرم پوچھا تو معلوم ہوا کہ اس پر ایک آدمی کے قتل کا مقدمہ ہے ، نوجوان کا کہنا تھا کہ اس نے قتل جان بوجھ کر نہیں کیا بلکہ غلطی سے یہ قصور اس سے سرزد ہوا ہے لیکن قتل تو بہر حال ہوا تھا اس لئے آج اس کا سر قلم کیا جاتا تھا ۔ جلاد نے نوجوان کے ہاتھ پیچھے باندھے اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی ۔

موت لحہ بالمحہ اس کے قریب ہو رہی تھی ، پھر جیسے ہی جلاد کاتلوار والا ہاتھ بلند ہوا تو بادشاہ نے ہاتھ کے اشارے سے جلاد کو روک دیا اور اپنے وزیر کے کان میں کہا کہ کوئی ایسا طریقہ بھی ہے کہ اس خوبصورت نوجوان کی جان بچ جاۓ ۔ عقلمند وزیر نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا کہ جی ہاں ہمارے ایک قانون کے مطابق اگر یہ نوجوان ایک پہیلی کا جواب دے سکے تو اس کی جان بچ سکتی ہے ، لیکن اگر یہ جواب نہ دے سکے تو اس کی گردن اتار ناواجب ہے ۔ بادشاہ نے نوجوان سے کہا کہ اے بد قسمت کیاتم اپنی جان بچانے کے لئے ایک پہیلی کا جواب دینا پسند کرو ۔ گے نوجوان کی آنکھوں میں زندگی کی جھلک نظر آنے لگی اس نے فورا ہاں میں سر ہلا دیا ۔ پھر بادشاہ کی اجازت سے وزیر نے نوجوان سے پوچھا کہ بتاؤ وہ کون سی موسیقی ہے جو بجانے والا خود نہیں سن سکتا ۔

پہلی سن کر سارے دربار پر ایک دم سناٹا چھا گیا کیونکہ پہلی بہت مشکل تھی اور جواب دینے کا وقت صرف پانچ منٹ تھا ۔ کافی دیر سوچنے کے باوجود بھی نوجوان کو جوابسمجھ نہیں آ رہا تھا ، نوجوان جس کے چہرے پر ابھی امید جھلک رہی تھی ایک دم مایوس ہو گیا ۔ سارے دربار پر سناٹا چھایا ہوا تھا بادشاہ سمیت ہر کوئی چاہتا تھا کہ یہ نوجوان موت سے بچ جائے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا تھا ۔ وقت ختم ہونے سے چند لمحے پہلے جب ہر کوئی پریشان اور مایوس ہو چکا تھا تو اچانک نوجوان مسکرانے لگ پڑا اور بولا کہ بادشاہ سلامت کچھ شک نہیں کہ خراٹے وہ موسیقی ہے جو بجانے والا سن نہیں سکتا ۔ نوجوان کاجواب درست تھا ۔

دربار میں موجود ہر کوئی کھڑا ہو کر تالیاں بجا رہا تھا ۔ بادشاہ نے پوچھا کہ بتاؤ تم کو جواب کیسے سمجھ آیاد نوجوان بولا کہ جب میں چھوٹا تھا تو میرا دادا سوتے وقت خراٹے لیتا تھا عا تو میرا دادا سوتے وقت خراٹے لیتا تھا میں ان سے کہتا تھا کہ آپ سوتے ہوئے ہر وقت راگ بجاتے ہیں تو دادا ہنس کر کہتا کہ بیٹا مجھے تو اپنا بجایا ہوا راگ کبھی سنائی نہیں دیا ۔ اس طرح لڑکے کو رہا کر کے رخصت کر دیا گیا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *