خوبصورت اور جواں سال پڑو سن محلے میں

نئی خوبصورت اور جواں سال پڑوسن محلے میں آباد ہوئی تھی ۔ اسکے 2 چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے ۔ شوہر شکل ہی سے خرانٹ اور بد مزاج لگتا تھا ۔ پڑوسن کی صورت دیکھ کر ہی محلے کے مردوں کی تمام تر ہمدردیاں خاتون کے ساتھ ہو گئیں ۔ خاتون نے آہستہ آہستہ محلے کے گھروں میں آنا جاناشروع کیا ۔ شیخ صاحب اور مرزا صاحب کو اپنی اپنی بیگمات کے توسط سے پتا چلا کہ نئی پڑوسن کا شوہر تند خو اور شکی ہے ۔ خاتون شوہر سے

کافی ڈرتی ہیں ۔ یہ سنتے ہی دونوں مرد حضرات کی نگاہیں آسان کی طرف اٹھ گئیں ۔ دل ہی دل میں شکوہ کر لیا کہ یا اللہ ! کیسے کیسے ہیرے ناقدروں کو دے دیے ہیں ۔ ایک دن نئی خوبصورت پڑوسن سبزی والے کی دکان پر شیخ صاحب کو ملی ۔ خو د ہی آگے بڑھ کر سلام کیا ۔ شیخ صاحب کو اپنی قسمت پر ناز ہوا ۔ خاتون نے کہا کہ شیخ صاحب بر انہ مانیں تو

آپ سے کچھ مشورہ درکار ہے ۔ شیخ صاحب خوشی سے باؤلے سے ہو گئے ۔ خاتون نے عام گھریلو عورتوں کی طرح بھائی صاحب کہنے کے بجاۓ شیخ صاحب کہا تھا ۔ شیخ صاحب نے دلی خوشی چھپاتے ہوۓ نہایت متانت سے جواب دیا : جی فرمایئے ۔ خاتون نے کہا : میرے شوہر کام کے سلسلے میں اکثر شہر سے باہر

رہتے ہیں ۔ میں اتنی پڑھی لکھی نہیں ۔ بچوں کے اسکول کے ایڈمیشن کی سلسلے میں رہنمائی در کار تھی ۔ خاتون نے مزید کہا کہ یوں سڑک پر کھڑے ہو کر بات کرنا مناسب نہیں ۔ کیا آپ کے پاس وقت ہو گا تو مجھے چند منٹ میں سمجھادیں ۔ تاکہ میں کل ہی ان کا داخلہ کروادوں ۔ شیخ صاحب چند منٹ کیا صدیوں تک بتانے کو تیار تھے ۔

فورا سے کہا : جی ضرور ، آئے ۔ شیخ صاحب خاتون کے ہمراہ چلتے ہوۓ گھر میں داخل ہوۓ ۔ ابھی صوفے پر بیٹھے ہی تھے کہ باہر اسکوٹر کے رکنے کی آواز آئی خاتون گھبر آگئی ۔ یا اللہ میرے شوہر آگئے ، انہوں نے مجھے آپ کے ساتھ دیکھ لیا تو ہم دونوں کو زندہ نہیں چھوڑیں گے ، وہ کچھ بھی نہیں سنیں

گے ، ایک کام کیجئے ، یہ سامنے کپڑوں کا ڈھیر ہے ، آپ اس نیلے دوپٹے کا گھونگھٹ نکال کر بیٹھ جائیں اور کپڑے استری کرنا شروع کر دیں ، میں کہہ دوں گی کہ استری والی ماسی کام کر رہی ہے ۔ شیخ صاحب نے جلدی سے گھونگھٹ اوڑھا اور استری کرنے لگے ۔ تین گھنٹے تک استری کرتے رہے جب تک وہ خرانٹ

یں گھر میں موجود رہا ۔ جیسے ہی شوہر گھر سے باہر گیا ، پہینے میں شرابور ، تھکن سے چور شیخ صاحب نڈھال قدموں سے گھر ے نکلے ۔ جیسے ہی باہر نکلے سامنے مرزا صاحب آتے دکھائی دیے ۔ پوچھا لتنی دیر سے اندر ہو ؟ بولے : تین گھنٹوں سے استری کر رہا ہوں مرزا صاحب نے تاسف سے دیکھا اور بولے : جس کپڑوں کے

ڈھیر کو تم نے تین گھنٹے استری کیا ہے ، کل وہ میں نے ہی چار گھنٹے کر دھوۓ ہیں ۔ کیا تمہیں بھی نیلا دوپٹہ اڑھایا گیا تھا ؟؟؟ شیخ صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور دونوں دوست مرے مرے قدموں سے اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دیے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *