خاندان والے لوگوں نے طوفان برپا کردیا درزی سے کوئی چکر چل رہا تھا

میں نے بھی امی پر کافی پریشر ڈالا کہ آج تک سب کچھ دیا یہ آخری خواہش بھی پوری کردیں خیر دونوں خاندان ملے امی نے اسے گھر داماد بننے کا کہا اسنے انکار کردیا اور میں بھی یہاں نہیں رہنا چاہتی تھی مجھے اپنے سسرال جانا تھا۔3مرلے کے مکان میں وہ باپ بیٹا رہتے تھے۔ میں نے امی کو منا ہی لیا۔ ایک ماہ میں سادگی سے ہمارا نکاح ہوگیا۔ اسکے ابا ہماری شادی والے دن ہی مسجد میں امام والے کمرے میں شفٹ ہوگئے کہ ایک ہی تو کمرہ اور ایک واش روم تھا۔ خطیب شادی کی پہلی رات گھر میں بس ہم دونوں ہی تھے۔ اسکے شاگرد نے موتیے اور گلاب سے مسہری لگائی ہوئی تھی۔

اسکے گھر والے اور رشتہ دار کسی عزیز کے ہاں چلے گئے تھے۔ اسکے ابا کا ماننا ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم اسلام میں نہیں ہے پہلے دن سے ہی بیٹا علاحدہ گھر میں رہے۔ میں نے کہا آپ کی شادی کو ایک سال ہوگیا ہے آپ خوش ہیں؟ یہ ایک ناقابل یقین شادی ہے میں ایسا کبھی نہیں سنا۔ ایم بی اے پاس لڑکی 17 سکیل کی ملازمت اور ایک میٹرک پاس درزی سے جذباتی سی شادی آپکو بعد میں نہیں لگا یہ کہ فیصلہ غلط تھا؟ کہتی خطیب میں تمہیں کہوں کہ میں جنت میں رہتی ہوں تو یہ لفظ جنت میرے جذبات کی عکاسی میں کم پڑ جائے گا۔ اتنی دیر میں آرڈر کیا ہوا پیزا آگیا۔ میں پیزا کھانے لگا اور ان سے کہا میڈم اب جلدی سے بتائیں آپ بظاہر اس ابنارمل شادی سے واقعی خوش و مطمئن ہیں؟ کہتیں خطیب چیزیں خوشی نہیں دیتیں کہ فائز سیال کہتے ہیں اللہ سے خوشی مانگو اللہ کو یہ نہ بتاو کہ مجھے جاب دو بڑا گھر دو گاڑی دو فلاں شخص دو تو میں خوش ہونگا وہ بہتر جانتا ہے اسنے ہمارے لئے ہماری کہاں کس چیز میں خوشی رکھی ہے۔خطیب صاحب مجھے امی نے 20 لاکھ کا چیک دیا کہ اتنی عجلت میں تمہارا جہیز کہاں بنائیں

خود ہی لے لینا جو لینا ہوا۔خاندان والے لوگوں نے طوفان برپا کر دیا کہ درزی سے کوئی چکر چل رہا تھا جو اس سے یوں سب کی مرضی کے خلاف شادی ہو رہی میں نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا وہ کبھی مجھ سے نہیں ملیں وغیرہ مگر میری امی اور ماموں میرے ساتھ تھے کوئی چاچو یا پھوپھا لوگ نکاح میں نہ آئے۔ امی سے کہا کہ آپ پچھتائیں گی ایک دن۔ میرے اپنے پاس بھی کچھ سیونگ تھی وہ بھی کیش نکلوا لیا۔ تین لاکھ کے قریب کیش اور 20 لاکھ کا چیک میں نے اپنے خاوند کو منہ دکھائی کے وقت پیش کر دیا کہ میں اور میرا سب کچھ آپکا ہے۔ میں نے سنا تھا کہ حضرت خدیجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی والے دن سسرال آکر 42 ہزار درہم دیے تھے کہ میں اور میرا مال آپکا ہے۔ اور وہ رونے والا کیوٹ سا منہ بنا کر کہنے لگے کہ جو انگوٹھی میرے لیے منہ دکھائی کی بنوائی تھی وہ جیب سے کہیں گر گئی ابھی ابھی دیکھا ہے اب کہیں سے لا بھی نہیں سکتا۔ میں نے کہا چھوڑیں انگوٹھی کو عام سی بات ہے مجھے نہیں لینی منہ دکھائی آپ پریشان نہ ہوں۔ انہوں نے پیسے اور چیک لینے سے انکار کر دیا

کہ گھر کی کوئی چیز خریدنے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ جگہ ہے آپ اپنے پاس رکھیں یا اپنے لیے ایک گاڑی لے لیں۔ میں تو بائیک پر ہی ٹھیک ہوں۔ اور مجھے حق مہر کا 50 ہزار کیش دے دیا۔ یہ حق مہر انہوں نے خود لکھوایا تھا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار اپنی شادی سے اگلی صبح سسرال میں فجر کی نماز پڑھی۔ اس سے پہلے دوسری نمازیں شروع کر چکی تھی مگر فجر کے وقت اٹھا نہیں جاتا تھا۔ میں نے فجر پڑھنے کے بعد پارہ بھی پڑھا۔ میرے میاں بھی مسجد سے واپس آگئے۔ اور کہنے لگے آپ آفس کس ٹائم جائیں گی؟ میں نے کہا میں تو ایک ہفتے کی چھٹی پر ہوں۔ کہتے اچھا پھر تو آپ اکیلی بور ہوجائیں گی جب میں 12 بجے دکان پر چلا جاوں گا۔ میں کہتے کہتے چپ کر گئی کہ آپ نہ جائیں ہاں آج۔ خیر مجھے کہتے کہ نئی دلہن سے کام نہیں کروایا جاتا ابا جائنٹ فیملی کے حق میں نہیں ہیں ورنہ چھوٹی بہن کو رکھ لیتے تو اب چند ماہ تک آپ کوئی کام نہیں کریں گی۔ کھانا پہلے میں بناتا تھا اب بھی بناوں گا۔ میرا شاگرد پہلے بھی گھر کی صفائی کرتا تھا اب بھی کرے گا آپ اسے اپنا بیٹا سمجھنا یتیم بچہ ہے

ہمارے گاوں سے ہے۔ وہی ابا جی کو مسجد کھانا دے کر آیا کرے گا گھر میں آتا جاتا رہے گا۔ 15 سال کا بچہ تھا کپڑے لانڈری سے پہلے بھی دھلتے تھے اب بھی دھلیں گے لانڈری والی آنٹی ہفتے کی شام سب کپڑے لے جائیں گی اور اتوار شام کو گھر ہی دے جائیں گی۔میں نے کہا کہ نہیں اچھا نہیں لگتا آپ کھانا بنائیں مجھے کچھ کچھ آتا ہے باقی آپ سکھا دیں۔ کہتے کھائیں گی تو اچھا لگے گا بنانے کی بات نہ کریں یہ رسم پوری کرنے دیں۔ ابھی ناشتہ بناتا ہوں بتائیں کیا کھاتی ہیں؟ میں نے کہا ناشتہ تو کم ہی کرتی ہوں۔ میں آپکے ساتھ آتی ہوں مل کر بناتے ہیں تو وہ مان گئے مگر مجھے کچن میں برتن پکڑانے سے سوا کچھ کرنے نہیں دیا۔ تین ماہ تک میں کھانا بنانے میں ماہر ہوگئی۔ اب کبھی وہ کبھی میں بناتی ہوں اکثر وہی بناتے ہیں۔ روٹی تو وہ ہی بناتے ہیں یا انکا شاگرد ہو تو وہ بھی بنا لیتا۔

مجھ سے ابھی کچی رہ جاتی ہیں کہیں کہیں سے۔ جلد ہی سیکھ لوں گی۔ خیر وہ اس دن دکان پر خود ہی نہیں گئے اور اگلے دن لیٹ گئے جلدی واپس آگئے۔ میں شادی کے بعد پہلی بار ایک ہفتے بعد اپنی امی سے ملنے انکے ساتھ انکی بائیک پر آئی میرا ناشتہ کوئی نہیں لے کر آیا نا مکلاوا گیا ان سب رسموں سے انہوں نے منع کر دیا تھا کہ فضول ہے یہ سب مجھے بھی فضول ہی لگتا تھا تو امی کو منع کر دیا تھا۔ ہم 2 گھنٹے امی پاس رہے امی مجھے خوش دیکھ کر خوش تھیں میں نے تسلی دی کہ آپ میری طرف سے بے فکر رہیں ۔ امی نے انہیں بھی واپس آنے پر گلے لگایا اور ماتھا بھی چوما۔ ہم واپس آگئے۔وہ بھری ہوئی آنکھوں سے گویا ہوئیں یار جس دن مجھے آفس جانا تھا اس دن انہوں نے میرے کہنے سے پہلے ہی رکشہ لگوا دیا ہوا تھا کہ وہ لے بھی جائے گا لے بھی آئے گا۔

مجھے ناشتہ کرتے ہوئے 10 ہزار روپے دیے کہ یہ آپکو ماہانہ ملا کریں گے آپ کی ذاتی ضروریات کے لیے اگر ختم ہوگئے تو اور مانگ لوں۔ رکشہ کا کرایہ میں دونگا آپ نہیں دیں گی۔ گھر کا سب خرچ بھی انکے ذمے ہے۔ جاب کرنا آپکی مرضی ہے جب تک چاہیں کریں جب چاہیں چھوڑ دیں کہ میں الحمداللہ 70 ہزار سے 1 لاکھ تک ماہانہ کما لیتا ہوں عیدوں پر اسے تین گنا کر لیں۔ 20 ہزار گاوں بھیجتا ہوں باقی ہمارے لیے کافی ہیں میں ایک اور کاریگر بٹھانے والا ہوں آمدن بڑھ جائے گی

مزید 10 سے 20 ہزار۔خطیب وہ 10 ہزار میرے لیے 10 کروڑ سے قیمتی تھا کہ ان میں 1000 اور کچھ 500 اور کچھ 100 کے نوٹ بھی تھے میں اتنی خوش تھی کہ بتا نہیں سکتی۔ اور مجھے میری ایک کولیگ یاد آگئی جو مجھ سے پوچھ رہی تھی میرا اےٹی ایم کارڈ میرے خاوند کے پاس ہے میں واپس کیسے لوں ان سے کوئی بہانا بتاو۔ اور خاوند 16 سکیل میں اسسٹنٹ تھا۔ مجھے میرے انتخاب پر اس دن اور فخر ہوا۔ کہتی لڑکی اور والدین کو شادی کرنے میں جو چیزیں دیکھنی چاہئیں وہ کم ہی لوگ دیکھتے ہیں. ان میں سب سے بڑی غلطی شادی کو 25 سال عمر سے لیٹ کرنا ہے۔ کہ اسکے بعد معیار کی باتیں کرنے لگتی لڑکی اور لڑکا بھی۔ مجھے ترس آتا ہے ان لڑکیوں پر جو لڑکوں کی منتیں کرتی ہیں ہم سے شادی کر لو اپنے گھر بات کرو یا انکی جاب یا مزید اچھی جاب کے انتظار میں کئی سال تباہ کر لیتی ہیں۔

Categories

Comments are closed.