خالہ کافی عرصے سے ہمارے گھر میں کام کر رہی ہیں

خالہ کافی عرصے سے ہمارے گھر میں کام کر رہی ہیں اب وہ گھر کا مستقل ٹھکانہ بن چکی ہیں۔ وہ صبح 8 بجے ناشتہ کرنے اور پکوان بنانے آتی ہے۔ کپڑے دھوتی اور استری کرتی اور وہ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد واپس چلی جاتی۔ آنٹی کا شوہر کسان ہے۔ ساریہ ان کی اکلوتی بیٹی ہے۔

اس نے میٹرک کیا، لیکن اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکی کیونکہ وہ ایک پرائیویٹ ہسپتال میں بطور نرس کام کر رہی تھی۔ وہ اب دو سال سے وہاں ہے۔ ماں اس بات پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے کہ اس کا بیٹا کتنی تنہائی کا تجربہ کرتا ہے۔ دو کمروں کا کرایہ بھی نکل آتا ہے اور کچھ خرچ ہو جاتا ہے ثریا نوکری نہ ملنے پر بہت مایوس ہوئی۔ اس کی خالہ کی طبیعت خراب ہو رہی تھی، اور اسے پیسوں کی ضرورت تھی۔. وہ مسلسل پریشان تھی۔ میں اپنی بیٹی کی شادی کے لیے راستہ تلاش کر رہا ہوں، لیکن وہ پچھلے دو سالوں سے مجھے سکون سے دیکھ رہی ہے۔ خالہ کو بھی ساس کے ساتھ ڈرامے دیکھنے کا مزہ آتا ہے۔ وہ میری بیوی کے ساتھ روزانہ ڈراموں پر بحث کرتی ہے۔ ثریا کی عمر 22 سال ہے۔ وہ ایک طالب علم ہے اور شہر میں رہتی ہے۔ ہر دوسری ماں کی طرح، اس کی خالہ بھی وہ کرنا چاہتی ہیں جو اس کے بچوں کے لیے بہتر ہو۔. لڑکا اور لڑکی کا رشتہ پہلے بہت اچھا ہوا کرتا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ خراب ہو رہا ہے۔ اگرچہ دورے کے آغاز میں خالہ کا دل خوش تھا، لیکن جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ آنٹی اور ان کے شوہر تحائف سے خوش نہیں ہوں گے۔ آخری بار جب میں آس پاس تھا تو میں واقعی ایک اچھے آدمی سے ملا

میں نے اپنی خالہ اور چچا سے کہا کہ میرے ان سے اچھے تعلقات ہیں۔ لڑکا آپ کی بیٹی کی طرح پڑھا لکھا ہے، اور پیسے کماتا ہے۔ یہ بہت اچھا ہوگا جب وہ آخر کار ایک ساتھ بیٹھیں اور مشترکہ دلچسپی کا اشتراک کریں۔ میری بات سن کر اس کے شوہر نے اس کی طرف دیکھا اور ان کے چہروں پر الجھن تھی۔. لڑکا کم از کم بارہ جماعت پاس ہونا چاہیے، لڑکے کی رنگت پختہ ہو گئی ہے، میں اپنی پیاری ثریا کی شادی کسی سیاہ فام سے کیسے کروں؟ مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ ثریا کے لیے بہت سے ممکنہ رشتے ہیں۔ لیکن کوئی بھی آنٹی اور ان کی پسند کو پسند نہیں کرتا۔ ایک دن میری بیوی نے ایک نئی بات کہی جو میں نے پہلے نہیں سنی تھی۔ ثریا کے مطابق لڑکے نے اسے اس سے شادی کرنے کو کہا. اور اس کی تنخواہ پندرہ ہزار ڈالر ہے، اور فٹ بال ایسوسی ایشن کے پاس ہے۔ میں نے خوشی سے ردعمل کا اظہار کیا جب مجھے پتہ چلا کہ میری خالہ مجھے پسند کرتی ہیں، صرف چند لمحوں بعد پتہ چلا کہ ان کی موت ہوگئی ہے۔ لڑکا اور اس کے والدین تین دن تک ثریا کے گھر رہے۔

لڑکوں نے واقعی ثریا کو پسند کیا اور اس کے اعزاز میں ایک چھوٹی سی رسم کرنے پر مجبور محسوس کیا۔ آنٹی اور اس کے شوہر کے چہرے پر عجیب سی کیفیت تھی۔ اس نے سوچنے کے لیے وقت مانگا کہ لڑکوں کو بھیج دیا گیا ہے۔ آیا غصے میں ہے اور خود پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے تو اس نے پوچھا اب کیا ہوا؟ خالہ بولی صاحب جی باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن لڑکا کرائے کے مکان میں رہتا ہے آپ کیسے یقینی بنائیں گے کہ میری روشنی چمکتی رہے۔. میں دانت پیستا ہوں جب سی نے سنا کہ اس کے شوہر نے اسے خوش کیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نہیں چاہتا کہ میری بیٹی بھی میری طرح اتنی مشکل زندگی گزارے۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ آنٹی اور اس کا شوہر یہی چاہتے ہیں ایک بار ایک رشتہ تھا جس میں لڑکے کا اپنا گھر تھا لیکن خالہ نے اعتراض کیا کہ وہ اپنے گھر کے دوسرے بچوں سے تھوڑا بڑا لگتا ہے۔ خالہ نے دوسرے لڑکے سے شکایت کی کہ وہ عینک کیوں پہنتا ہے ثریا بوڑھی ہو رہی تھی لیکن خالہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھیں جو شادی کے لیے اچھا داماد ہو. ایک دن مجھے بیگم پر شک ہوا۔ ہم نے بحث کی اور پھر میں نے کچھ ڈرامہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور اسے اپنی خالہ کے دوست کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ اس لڑکے کا ایم اے کیا ہے، اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں یہ شخص ایک کنال کے گھر میں رہتا ہے۔ وہ روپے تنخواہ کماتا ہے۔ یعنی 200,000 ڈالر۔ اور گاڑی کھڑی ہے میں نے خالہ کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھے۔. ہاتھ ہلاتے ہوئے بولا استاد جی اگر میں اپنی بیٹی کی شادی اتنی امیر جگہ کروں تو جہیز کہاں سے لاؤں۔

میں نے کہا جہیز کی فکر نہ کرو۔ لڑکا کچھ نہیں چاہتا

Categories

Comments are closed.